امریکا: اوباما انتظامیہ کا شامی باغیوں کو مسلح کرنے پر غور | حالات حاضرہ | DW | 11.06.2013
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکا: اوباما انتظامیہ کا شامی باغیوں کو مسلح کرنے پر غور

حالیہ ایام میں شامی صدر کی حامی فوج نے باغیوں کے خلاف جو کامیابیاں حاصل کی ہیں، اُن کے تناظر میں امریکی حکومت نے باغیوں کو امکاناً اسلحے کی فراہمی پر غور کرنا شروع کر دیا ہے۔

شام کے مسلح تنازعے میں صدر بشار الاسد کی فوج کی پے در پے کامیابیوں کے پیش نظر امریکا میں اوباما انتظامیہ نے اس بارے میں اپنی مشاورت کا آغاز کر دیا ہے کہ آیا واشنگٹن کو اب شامی باغیوں کو مسلح کرنے کا فیصلہ کر لینا چاہیے۔ امریکی حکام کے مطابق اس مشاورت کے نتیجے میں واشنگٹن کا حتمی فیصلہ اسی ہفتے متوقع ہے۔ خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق وائٹ ہاؤس میں ہونے والی اس مشاورت میں امریکی وزارت خارجہ، وزارت دفاع، سی آئی اے اور دیگر ایجنسیوں کے اعلیٰ اہلکار حصہ لے رہے ہیں۔

Bashar Assad

اسد حکومت کی فوج نے القصیر کے اہم قصبے پر حزب اللہ کے گوریلوں کی مدد سے فتح حاصل کی تھی

اس مناسبت سے اوباما انتظامیہ کے اہلکاروں اور مشیروں کے درمیان مشاورت کا عمل پیر اور منگل کے روز جاری رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ امریکی صدر باراک اوباما کل بدھ کے روز اپنی سکیورٹی ٹیم اور اہم مشیران کے ساتھ گفتگو کرنے والے ہیں۔ اس پیش رفت کے حوالے سے تفصیلات ایک اعلیٰ امریکی اہلکار نے نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس (AP) کو اپنا نام مخفی رکھنے کی شرط پر فراہم کیں۔ حکام کے مطابق باغیوں کو مہلک ہتھیاروں کی فراہمی کی منظوری دی جا سکتی ہے۔ بدھ کے روز ہونے والی میٹنگ میں شام کی فضاؤں میں نو فلائی زون قائم کرنے کے معاملے پر بھی غور ہو سکتا ہے۔

امریکی صدر کی رہائش گاہ پر ہونے والی یہ مشاورتی ملاقاتیں ایسے وقت پر ہو رہی ہیں جب شام میں صدر بشار الاسد کی وفادار فوج اگلے چند دنوں میں اہم شہر حمص پر حملوں کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ اگر اس حملے میں سرکاری فوج کو کامیابی حاصل ہو جاتی ہے تو حمص شہر میں موجود پانچ ہزار حکومت مخالف باغی جنوب میں اپنے مرکزی رابطوں سے پوری طرح محروم ہو جائیں گے۔ اس وقت اسد حکومت کی فوج کو لبنان کی شیعہ تنظیم حزب اللہ کے پانچ ہزار جنگجوؤں کی عملی معاونت بھی حاصل ہے۔ اسد حکومت کی فوج نے القصیر کے اہم قصبے پر حزب اللہ کے گوریلوں کی مدد سے ہی فتح حاصل کی تھی۔

Syrien Kusair am 5. Juni 2013 Syrische Armee Jubel Sieg

بشار الاسد کی حامی فوج کے دستے القصیر میں

حال ہی میں امریکی صدر اوباما کا یہ بھی کہنا تھا کہ اسد حکومت کی فوج نے کیمیاوی ہتھیاروں کا استعمال کر کے ایک سرخ لکیر کھینچ دی ہے اور جلد ہی سخت امریکی ردعمل متوقع ہے۔ امریکی اتحادی ممالک برطانیہ اور فرانس نے کہا ہے کہ انہیں اس کا یقین ہو گیا ہے کہ صدر اسد کی فوج نے ہلکی اور تحلیل شدہ زہریلی گیس سیرین کا استعمال کئی محاذوں پر کیا ہے۔ اوباما انتظامیہ اس معاملے پر اپنے ذرائع سے زمینی حقائق کا بغور جائزہ لے رہی ہے۔

شامی اپوزیشن کے قومی اتحاد کی جانب سے واشنگٹن کو خبردار کیا گیا ہے کہ اگر اسلحے کی ترسیل میں تاخیر کی گئی تو ان کی شروع کردہ باغی تحریک کو پسپائی کے ساتھ ساتھ شدید جانی نقصان کا بھی سامنا ہو گا اور اِس سے پیدا ہونے والے ناقابل تلافی نقصانات کے اثرات کا دائرہ بہت وسیع ہو سکتا ہے۔

واشنگٹن میں شامی باغیوں کی امداد کے حوالے سے شروع ہونے والے مشاورتی عمل کی وجہ سے وزیر خارجہ جان کیری نے اسرائیل اور فلسطین کا دورہ ملتوی کر دیا ہے۔ یہ دورہ اسی ہفتے کے لیے طے تھا۔ اس بات کا امکان ہے کہ جان کیری اب اپنا مؤخر شدہ دورہ اگلے ہفتے کے دوران شروع کریں گے۔

(ah/mm(AP

اشتہار