امریکا: اسرائیل پر الہام عمر اور یہودی اراکین کانگریس میں تکرار | حالات حاضرہ | DW | 11.06.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

 امریکا: اسرائیل پر الہام عمر اور یہودی اراکین کانگریس میں تکرار

امریکی کانگریس کی رکن عمر الہام نے اسرائیل سے متعلق اپنے متنازعہ بیان کا دفاع کیا ہے جبکہ ان کی پارٹی کے بعض دیگر ارکان نے ان پر شدید نکتہ چینی کی ہے۔

امریکی کانگریس کی معروف مسلم خاتون رکن عمر الہام نے اسرائیل سے متعلق بیان پر اپنی ہی ڈیموکریٹک جماعت کے بعض اراکین کی نکتہ چینی کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کا یہ رویہ کافی شرمناک ہے اور ایسے افراد ''اسلامو فوبیا'' کا شکار ہیں۔

معاملہ کیا ہے؟

اس ہفتے کے اوائل میں الہام عمر نے اپنی ایک ٹویٹ میں کہا تھا، ''ہم نے امریکا، حماس، اسرائیل، افغانستان، اور طالبان کے ذریعے ہونے والے ناقابل فہم مظالم دیکھے ہیں۔ ہمیں انسانیت کے خلاف جرائم کے تمام متاثرین کے لیے یکساں سطح پر احتساب اور انصاف کا انتظام کرنا چاہیے۔''

انہوں نے غزہ میں انسانی حقوق کی پامالیوں کے حوالے سے اپنا ایک ویڈیو بھی شیئر کیا تھا جس میں وہ کانگریس کمیٹی کی سماعت کے دوران امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلینکن سے سوال کر رہی ہیں۔ ان کی اس ٹویٹ پر انہیں کی ڈیموکریٹک جماعت کے دس یہودی ارکان کے نمائندہ گروپ نے ان سے ضاحت طلب کرتے ہو ئے الزام عائد کیا کہ انہوں نے امریکا اور اسرائیل جیسے جمہوری ملکوں کا طالبان اور حماس کے ساتھ ذکر کے دونوں میں برابری کرنے کی کوشش کی ہے۔

بدھ کے روز ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے یہودی ارکان کے ایک گروپ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ''طالبان اور حماس کا اسرائیل اور امریکا سے موازنہ کرنا جارحانہ اور ایک گمراہ کن بات ہے۔''

اس گروپ کی قیادت نیو یارک سے تعلق رکھنے یہودی رکن جیر نڈالیر کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے، ''قانون کی حکمرانی اور جمہوری طرز سے حکومت کرنے والی جمہوری اداروں اور شدت پسندی کو فروغ دینے والی تنظیموں کے مابین پائے جانے والے فرق کو نظر انداز کرنے سے نہ صرف نیت اور ارادہ بری طرح سے بدنام ہوتا ہے بلکہ اس سے بدترین گہرے تعصب کی بھی عکاسی ہوتی ہے۔''

یہودی ارکان کے گروپ کا مزید کہنا تھا کہ اس طرح کے غلط موازنے سے دہشت گرد گروہوں کو تحفظ فراہم ہوتا ہے۔

 الہام عمر نے اس یہودی گروپ پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ یہ کتنی شرمناک بات ہے کہ اس گروپ کے بیان سے اسلاموفوبیا کی بو جھلک رہی ہے۔  ان کا کہنا تھا، ''کتنی شرم کی بات ہے کہ ہمارے ساتھی جنہیں جب ہماری مدد کی ضرورت ہوتی ہے تو مجھے کال کرتے ہیں اور اب وہ مجھے کال کرنے کے بجائے وضاحت طلب کرنے کے لیے بیان جاری کر رہے ہیں۔ ان کے اس بیان میں اسلاموفوبیا کے استعارے کافی جارحانہ ہیں۔ مسلسل ہراسانی اور اس مکتوب کو لکھنے والوں کی جانب سے خاموش کرانے کی کوشش ناقابل برداشت ہے۔''

الہام عمر کی ایک دوسری ساتھی کانگریس رکن اوکاسیو کورٹیز نے بھی ان کی حمایت کی اور ان کا دفاع کیا۔ انہوں نے اپنی ایک ٹویٹ میں لکھا، ''مسلسل بدنام کرنے کی کوششوں، داخلی سطح پر کردار کشی اور کھلے عام حملہ کرنے جیسی کوششوں سے ہم کافی برا محسوس کرنے کے ساتھ ہی تھک بھی چکے ہیں۔ ''

 یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ جب اسرائیل پر نکتہ چینی کرنے حوالے سے الہام عمر پر تنقید کی گئی ہو۔ 2019 میں ان کے ایک متنازعہ بیان پر کافی نکتہ چینی ہوئی تھی جس کے بعد انہوں نے معذرت بھی پیش کی تھی۔  تاہم اس بار انہوں نے اس کا سخت جواب دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے کسی کا کسی سے بھی موازنہ نہیں کیا بلکہ انصاف کے مواقع کے بارے میں بات کہی ہے کہ ہر ظالم  کے احتساب اور مظلوم کو انصاف کے لیے مساوی مواقع ملنے چاہیں۔

 انہوں نے کہا کہ وہ عالمی فوج داری عدالت میں اس حوالے سے پیش کردہ مخصوص واقعات سے متعلق امریکی وزیر خارجہ سے سوال کرنے والی ہیں۔

واضح رہے کہ اقوام متحدہ نے حماس اور اسرائیل کے درمیان حالیہ لڑائی کے تعلق سے بین الاقوامی فوج داری عدالت سے جنگی جرائم کی تفتیش کا مطالبہ کیا ہے تاہم اسرائیل اور امریکا اس کی مخالفت کررہے ہیں۔

ص ز/ ج ا  (اے پی، اے ایف پی) 

ویڈیو دیکھیے 01:31

ٹرمپ کے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے فیصلے کے خلاف احتجاجی مظاہرے

DW.COM