امريکا اور يورپی يونين کے مابين ڈيٹا شيئرنگ کا معاہدہ | حالات حاضرہ | DW | 03.02.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امريکا اور يورپی يونين کے مابين ڈيٹا شيئرنگ کا معاہدہ

يورپی يونين اور امريکا کے مابين ڈيٹا کے تبادلے کا ايک معاہدہ طے پايا ہے، جس کے تحت فيس بُک اور ايپل جيسی کمپنيوں کے ڈيٹا کی بین الاوقیانوسی منتقلی ممکن ہو سکے گی۔ تاہم اس معاہدے کو قانونی طور پر چيلنج کيا جا سکتا ہے۔

يورپی يونين اور امريکا گزشتہ برس اکتوبر سے ڈيٹا شيئرنگ کے اس معاہدے کو حتمی شکل دينے کی کوششيں جا رہی تھی، تاہم منگل دو فروری کو بالآخر يہ عمل مکمل کر ليا گيا۔

قبل ازيں ايک اعلیٰ يورپی عدالت نے ’سيف ہاربر‘ نامی اس معاہدے کے خلاف فيصلہ سنا ديا تھا، جس کی وجہ ايسے خدشات تھے کہ امريکی کمپنيوں کے پاس موجود يورپی شہريوں کے ذاتی ڈيٹا تک امريکی انٹيليجنس ايجنسيوں کو رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔

سنگل ڈيجيٹل مارکيٹ کے نگران يورپی کمشنر اينڈرس آنسپ نے اس بارے ميں بات چيت کرتے ہوئے کہا، ’’ہمارے لوگ يہ يقين کے ساتھ کہہ سکتے ہيں کہ ان کا ڈيٹا محفوظ ہے۔‘‘ ان کے بقول يورپ ميں موجود کاروبار، بالخصوص چھوٹے درجے کے کاروباروں کو وہ قانونی ضمانت حاصل ہے، جو انہيں بحيرہ اوقيانوس کے پار اپنی کاروباری سرگرمياں بڑھانے کے ليے درکار ہے۔ آنسپ نے مزيد بتايا کہ نيا فريم ورک ’ای يو ۔ يو ايس پرائيويسی شيلڈ‘ کہلائے گا اور اس ميں يورپی شہريوں کے حقوق کا خيال رکھا جائے گا۔

يورپی کمشنر برائے انصاف ويرا ژوروا نے کہا ہے کہ يہ معاہدہ ايک سنگ ميل کی حيثيت رکھتا ہے کيونکہ پہلی مرتبہ امريکا نے يورپی يونين کو يہ يقين دہانی کرائی ہے کہ قومی سلامتی سے جڑے مقاصد کے ليے پبلک اتھارٹيز کی ڈيٹا تک رسائی مخصوص حدود اور نگرانی کے باقاعدہ نظام کے تحت ہو گی۔ ان کے بقول امريکا نے يہ يقين دہانی بھی کرائی ہے کہ يورپی شہريوں کی وسيع پيمانے پر اور بلا امتياز جاسوسی نہيں کی جاتی۔

اس کے برعکس يورپی پارليمان ميں ALDE الائنس آف لبرلز کی ترجمان سوفی ويلڈ کا کہنا ہے کہ امريکا کی جانب سے کرائی جانے والی يقين دہانيوں کا قانونی جائزہ لازمی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’اس بارے ميں بہت سے شکوک و شبہات ہيں کہ وہ يورپی شہريوں کو با معنی پروٹيکشن ديں گے يا پھر وہ يورپی عدات برائے انصاف کی جانب سے مقرر کردہ معيارات پر پورا اتر سکيں گے۔‘‘ ترجمان نے مزيد کہا کہ يقين دہانياں صرف اور صرف سياسی نوعيت کی ہيں نہ کہ قانونی، نتيجتاً امريکا اور يورپی يونين کی سياست ميں تبديلی پورے کے پورے معاملے کو تبديل کر سکتی ہے۔