’امام حسین کی توہین‘ پر ایرانی صحافی گرفتار | حالات حاضرہ | DW | 25.10.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

’امام حسین کی توہین‘ پر ایرانی صحافی گرفتار

ایران میں ایک صحافی کو پیغمبر اسلام کے نواسے امام حسین کی توہین کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ملکی عدلیہ نے اس گرفتاری کی تصدیق کر دی ہے۔ اس صحافی کو اس وقت حراست میں لیا گیا جب وہ بیرون ملک روانگی کی کوشش میں تھا۔

ایرانی دارالحکومت تہران سے جمعرات پچیس اکتوبر کو ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ گرفتار کیے گئے صحافی کا نام پویان خوشحال ہے اور اس کے خلاف امام حسین کی توہین کرنے کے الزام میں کارروائی کی جا رہی ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران شیعہ مسلم اکثریتی آبادی والا ملک ہے اور دنیا کے دیگر ممالک میں آباد شیعہ مسلمانوں کی طرح ایران میں بھی پیغمبر اسلام کے نواسے امام حسین کو مقدس ترین مذہبی شخصیات میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ ایرانی عدلیہ کی اپنی نیوز ایجنسی میزان آن لائن نے جمعرات کو بتایا کہ پویان خوشحال کو بدھ کی رات اس وقت گرفتار کیا گیا، جب وہ ایران سے بیرون ملک روانگی کی کوشش میں تھا۔

تمام بڑے اسلامی مسالک متفق ہیں کہ امام حسین ساتویں صدی عیسوی میں موجودہ عراق میں واقع کربلا کے مقام پر اس دور کے مسلم حکمران ی‍زید کی فوج کے خلاف لڑتے ہوئے اپنے ساتھیوں سمیت ’شہید‘ ہو گئے تھے۔ ان کی ’شہادت‘ اسلامی سال کے پہلے مہینے محرم کی دسویں تاریخ کو ہوئی تھی۔ یہ دن عرف عام میں عاشورہ کہلاتا ہے اور  بالخصوص شیعہ مسلمانوں کے ن‍زدیک اسلامی سال کے اہم ترین دنوں میں سے ایک ہے۔

Karbala Imam Hossein Iran Schia Schiiten

کربلا میں امام حسین کا روضہ اور وہاں جمع زائرین

میزان آن لائن کے مطابق پویان خوشحال کو اس لیے گرفتار کیا گیا کہ اس صحافی نے ایک اصلاحات پسند ایرانی روزنامے ’ابتکار میں شائع ہونے والی اپنی ایک رپورٹ میں لکھا تھا کہ امام حسین کی ’سرکاری طور پر تسلیم شدہ شہادت‘ کے برعکس ’ان کی موت محض انتقال کر جانے سے‘ ہوئی تھی۔

ایرانی عدلیہ کی نیوز ایجنسی کے مطابق پویان خوشحال اپنے اس متنازعہ اور ’تاریخی طور پر غلط‘ موقف کی وجہ سے نہ صرف واضح طور پر عوامی غم و غصے کا سبب بنے تھے بلکہ ان پر شدید تنقید بھی کی گئی تھی۔

اس بارے میں میزان آن لائن نے لکھا ہے کہ ایرانی عدلیہ کی طرف سے کی گئی چھان بین کے مطابق پویان خوشحال ماضی میں سوشل میڈیا پر بھی امام حسین اور دیگر اماموں کی ’بار بار توہین‘ کا باعث بنے تھے اور عام شہریوں میں سے بہت سے افراد نے باقاعدہ شکایات کر کے عدلیہ کی توجہ اس جانب مبذول کرائی تھی۔

پویان خوشحال کی گرفتاری کے بعد ان کا ذاتی ٹوئٹر اکاؤنٹ بھی بند ہو چکا ہے اور روزنامہ ’ابتکار‘ نے اس صحافی کے اکیس اکتوبر کو لکھے گئے مضمون کے متنازعہ حصے میں بھی ترمیم کر دی ہے۔ اے ایف پی نے لکھا ہے کہ ’ابتکار‘ کے چیف ایڈیٹر نے بھی اس غلطی پر معافی مانگ لی ہے۔

ایران میں ایک اور صحافی میر محمد حسین میر اسماعیلی کو بھی اسی سال اگست میں اس لیے دس سال قید کی سزا سنا دی گئی تھی کہ وہ مبینہ طور پر شیعہ مسلمانوں کے لیے خصوصی طور پر مقدس بارہ اماموں میں سے ایک امام رضا کی ’توہین‘ کے مرتکب ہوئے تھے۔ میر اسماعیلی کو بھی گزشتہ برس اپریل میں اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب وہ ایران سے بیرون ملک جانے کی کوشش میں تھے۔

م م / ع ب / اے ایف پی

DW.COM