الیکٹرک سیڑھیاں اچانک رک گئیں، غصہ مسلم لڑکی کے اسکارف پر | معاشرہ | DW | 19.06.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

الیکٹرک سیڑھیاں اچانک رک گئیں، غصہ مسلم لڑکی کے اسکارف پر

جرمن دارالحکومت برلن کی پولیس ایک ایسی خاتون کی تلاش میں ہے، جس نے ایک مقامی ریلوے اسٹیشن پر الیکٹرک سیڑھیوں کے اچانک رک جانے کے بعد نفرت سے ایک تیرہ سالہ مسلمان لڑکی کو گالیاں دیں اور اس کے سر سے اسکارف اتار پھینکا۔

نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی اتوار انیس جون کی شام ملنے والی رپورٹوں کے مطابق یہ واقعہ اس لیے ایک قابل سزا جرم ہے کہ اس عمل میں ایک مشتعل خاتون شہری نے ایک نابالغ مسلمان لڑکی کو اس لیے نفرت کا نشانہ بنایا کہ اس نے اپنے سر پر اسکارف پہن رکھا تھا۔

پولیس نے اتوار کے روز بتایا کہ یہ خاتون، جو اس واقعے کے بعد موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئی، ہفتے کی سہ پہر برلن شہر کے علاقے شپانڈاؤ Spandau میں ہازلہورسٹ Haselhorst نامی زیر زمین ریلوے اسٹیشن سے بجلی سے چلنے والی خودکار سیڑھیوں کے ذریعے اوپر آ رہی تھی کہ اچانک یہ سیڑھیاں رک گئیں۔

پولیس کے ایک بیان کے مطابق، ’’اس خاتون نے سمجھا کہ ان سیڑھیوں یا escalator کو اسی مسلمان لڑکی اور اس کے ساتھ موجود ایک خاتون نے روکا تھا۔ اس پر اس خاتون نے طیش میں آ کر مسلمان لڑکی اور اس کی ساتھی کو گالیاں دیں اور 13 سالہ لڑکی کا وہ اسکارف نفرت سے کھینچ کر اتار دیا، جو اس نے اپنے سر پر باندھ رکھا تھا۔‘‘

ڈی پی اے نے لکھا ہے کہ اس حملے کی مرتکب خاتون فوراﹰ ہی وہاں سے غائب ہو گئی لیکن پولیس کا وہ شعبہ اس واقعے کی چھان بین کر رہا ہے جو ایسے جرائم کی تفتیش کرتا ہے، جن کا ارتکاب سیاسی وجوہات کی بناء پر کیا جائے۔ جرمنی میں نسلی تعصب پر مبنی جرائم اور غیر ملکیوں سے نفرت کی بناء پر پیش آنے والے واقعات بھی انہی قابل تعزیر جرائم کے زمرے میں آتے ہیں۔

DW.COM

اشتہار