’النینو‘ لاکھوں نومولود بچوں کے لیے خطرہ | سائنس اور ماحول | DW | 28.01.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

’النینو‘ لاکھوں نومولود بچوں کے لیے خطرہ

افریقی ملک ایتھوپیا میں غذا کا بحران بد سے بدتر ہوتا جا رہا ہے۔ غیر سرکاری تنظیمیں اور اقوام متحدہ کی ایجنسیاں خطرے کی گھنٹی بجاتے ہوئے 15 ملین انسانوں کےغذائی بحران سے متنبہ کر رہی ہیں۔

’النینو‘ ایک ایسا موسمیاتی عمل جو ہر پانچ سے سات سال بعد خود کو دہراتا ہے اور اس نے برِاعظم افریقہ کے مشرقی اور جنوبی حصوں کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی برادری کی تمام تر توجہ اس وقت سیاسی بحرانوں کے شکار علاقوں اور پناہ گزینوں کے عالمی مسائل پر مرکوز ہے اور ایتھوپیا اور اس جیسے قحط زدہ علاقوں میں بھوک سے متاثرہ انسانوں کی صورتحال سے غفلت برتی جا رہی ہے۔

2015 ء میں ایتھوپیا کی حکومت نے 1.4 بلین ڈالر کی غذائی امداد کی اپیل کی تھی تاہم حکام کا کہنا ہے کہ انہیں محض 180 ملین ڈالر ہی میسر ہوئے ہیں۔ ساتھ ہی یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایتھوپیا میں بھوک کے خاتمے کے لیے تقسیم کی جانے والی امداد کا 90 فیصد حکومتی خزانے سے آ رہا ہے۔

Äthiopien Schlimmste Hungersnot seit 30 Jahren

ایتھوپیا کو اس وقت گزشتہ 30 برسوں کے بد ترین قحط سالی کا سامنا ہے

المایہو برحانو ایتھوپیا کی وزارت ذراعت کے ایک ترجمان ہیں۔ انہوں نے ڈوئچے ویلے کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ ان کے ملک کو امداد دینے والے 60 سے زائد پارٹنر ممالک کو غذائی قلط سے پیدا ہونے والے بھوک کے منڈلاتے ہوئے مسائل کا اندازہ اُس وقت سے تھا جب اس بحران کے شکار افراد کی تعداد محض 3.5 ملین تھی جبکہ آج یہ تعداد بڑھ کر 10 ملین تک پہنچ چُکی ہے۔

اس امر کی تصدیق بہبود اطفال کی ایک معروف غیر سرکاری ایجنسی ’ سیو دا چلڈرن‘ کے اُس حالیہ بیان سے ہو گئی ہے، جس کے مطابق ایتھوپیا میں غذائی قلت کے بحران سے نمٹنے کے لیے دی جانے والی عالمی امداد اُس کی ایک تہائی سے بھی کم ہے، جس کی اس ملک کو اشد ضرورت ہے اور جس کی درخواست کی گئی ہے۔ گزشتہ ہفتے اس ایجنسی کی طرف سے ایک بیان میں ایتھوپیا میں بھوک اور قحط سالی کو ایک ’سُرخ ایمرجنسی کوڈ‘ قرار دیا گیا تھا۔

ایتھوپیا کی ’ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اینڈ فوڈ سکیورٹی کے شعبے کی ایجنسی کے کمشنر میتیکو کاسا کا کہنا ہے کہ ایتھوپیا کے بھوک کے بحران سے نمٹنے میں سسُست روی کا ذمہ دار وہی ممالک ہیں جو اس وقت عالمی توجہ کا باعث بننے ہوئے شام، یمن اور عراق کے سیاسی بحران سے نمٹنے کے لیے فعال کردار ادار کر رہے ہیں۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ یورپ کی طرف، خاص طور سے جرمنی آنے والے پناہ گزینوں کی بہت بڑی تعداد کے سبب امدادی بجٹ کا رُخ بدل گیا ہے۔

Äthiopien Schlimmste Hungersnot seit 30 Jahren

بھوک اور قحط کے شکار لاکھوں افراد در بدر پھر رہے ہیں

سائنسدانوں کا اس امر پر اتفاق ہے کہ ایتھوپیا میں حالیہ خُشک سالی انسان ساختہ نہیں ہے بلکہ اس کی وجہ ’النینو‘ ہے۔ ارتعاش یا تغیر آب و ہوا کا ایک قرینہ ہے جو بحرالکاحل میں اندازاً ہر پانچ سال بعد آتا ہے۔ برِاعظم افریقہ کے مشرقی اور جنوبی حصوں کو النینو نے بُری طرح اپنے لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔ اس کے اثرات نہایت سنگین ہیں۔ ایتھوپیا کی حکومت اور انسانیت کی فلاح و بہبود کی ایجنسیوں کے مطابق 1.7 ملین بچوں کو اس وقت غذائی امداد کی ضرورت ہے۔ گزشتہ ہفتے ’سیو دا چلڈرن‘ کی طرف سے انتباہی پیغام میں کہا گیا تھا کہ آئندہ چھ ماہ کے دوران قریب 350,000 بچوں کی ایسی علاقوں میں پیدائش متوقع ہے جو قحط سالی کا شکار ہیں۔

DW.COM