اقوام متحدہ کو′ہندوفوبیا‘ کو بھی تسلیم کرنا چاہیے، بھارت | معاشرہ | DW | 21.01.2022

ڈی ڈبلیو کی نئی ویب سائٹ وزٹ کیجیے

dw.com کے بِیٹا ورژن پر ایک نظر ڈالیے۔ ابھی یہ ویب سائٹ مکمل نہیں ہوئی۔ آپ کی رائے اسے مزید بہتر بنانے میں ہماری مدد کر سکتی ہے۔

  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

اقوام متحدہ کو'ہندوفوبیا‘ کو بھی تسلیم کرنا چاہیے، بھارت

بھارت نے اقوام متحدہ سے کہا ہے کہ فوبیا کو صرف تین ابراہیمی مذاہب یعنی اسلام، مسیحیت اور یہودیت تک محدود نہ کیا جائے۔ دیگرمذاہب بالخصوص ہندو، بودھ اور سکھ فوبیا کو بھی تسلیم کیا جانا چاہیے۔

بھارت کا کہنا ہے کہ عالمی برادری کو ابراہیمی مذاہب کے ساتھ ساتھ دیگر مذاہب کے ساتھ روا رکھی جانے والی منافرت کو بھی تسلیم کرنا چاہیے۔ دیگرمذاہب کو بھی منافرت کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، لہذا دیگر مذاہب کے ساتھ روا رکھی جانے والی منافرت بالخصوص ہندو، بودھ اور سکھ فوبیا کو بھی تسلیم کیا جانا چاہیے۔

اقوام متحدہ میں بھارت کے سفیر ٹی ایس تریمورتی نے نئی دہلی میں انسداد دہشت گردی کے حوالے سے منعقدہ ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بعض مذہبی فوبیا کو اجاگر کرنا حالیہ برسوں میں ایک اہم رجحان بن گیا ہے۔

انہوں نے کہا،’’اقوام متحدہ نے حالیہ برسوں میں اسلاموفوبیا، مسیحی فوبیا اور سامیت دشمنی کے رویوں کے حوالے سے خاصا کام کیا ہے، یہ تینوں ابراہیمی مذاہب ہیں۔ ان کا ذکر انسداد دہشت گردی کے حوالے سے عالمی لائحہ عمل میں بھی موجود ہے لیکن دنیا کے دیگر بڑے مذاہب کے خلاف بھی نئے فوبیا، منافرت یا تعصب بڑھ رہا ہے اور دنیا کو انہیں بھی پوری طرح تسلیم کرنے کی ضرورت ہے۔"

بھارت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں سال 2022 کے لیے انسداد دہشت گردی کمیٹی (سی ٹی سی) کا چیئرمین ہے۔ تریمورتی نے تاہم واضح کیا کہ وہ یہ بات سی ٹی سی کے چیئرمین کے طور پر نہیں بلکہ اقوام متحدہ میں بھارت کے سفیر کے طور پر کہہ رہے ہیں۔

فوبیا کی بحث میں توازن کی ضرورت


بھارتی سفارت کار کا کہنا تھا،’’ہندو مخالف، بودھ مخالف اور سکھ مخالف رویوں کی عصری شکلوں کا ظہورانتہائی سنگین تشویش کا باعث ہے اور اس پر اقوام متحدہ اور اس کے تمام اراکین کو نہ صرف توجہ دینی چاہیے بلکہ اس خطرے کا ازالہ کرنے کی کوشش بھی کرنی چاہیے۔ اسی صورت میں ہم مذہبی فوبیا جیسے موضوعات پر بحث و مباحثہ میں بہتر توازن پیدا کر سکتے ہیں۔‘‘

اقوام متحدہ میں بھارت کے سفیر تریمورتی نے تاہم ہندو، بودھ اور سکھ فوبیا کی کوئی مثال نہیں دی۔ تریمورتی نے کہا کہ ہندوتوا تنظیموں کی مبینہ دھمکیوں کو میڈیا میں بڑھا چڑھا کر پیش کرنا ’’گمراہ کن اور نادرست‘‘ ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ ماہ ہندوؤں میں مذہبی لحاظ سے انتہائی محترم سمجھے جانے والے ’’مہامنڈلیشوروں‘‘ نے ’’دھرم سنسد‘‘ منعقد کر کے ہندوؤں کو مسلمانوں کے خلاف نسل کشی پر ابھارنے کی کوشش کی اور بیس لاکھ مسلمانوں کو قتل کرنے کی اپیل کی تھی۔ بجرنگ دل اور وشو ہندو پریشد جیسی آر ایس ایس کی ذیلی تنظیمیں مسلمانوں کے خلاف مسلسل مہم چلاتی رہتی ہیں۔

دایاں اور بایاں بازو دونوں جمہوریت کا حصہ 

اقوام متحدہ میں بھارتی سفیر تریمورتی کا کہنا تھا،’’یہ بات سمجھنا اہم ہے کہ جمہوریتوں میں دایاں بازو اور بایاں بازو سیاسی اکائی کا حصہ ہوتے ہیں کیونکہ وہ الیکشن کے ذریعہ اکثریتی عوام کے ووٹ سے اقتدار میں آتے ہیں۔ اور جمہوریت اپنے وسیع معنوں میں مختلف آئیڈیالوجی اور نظریات کا وسیع مجموعہ ہے۔‘‘

انہوں نے زور دے کر کہا کہ قومی یا علاقائی بیانیے کو عالمی بیانیے کا حصہ بننے نہیں دینا چاہیے۔ اور ’’پرتشدد قوم پرستی‘‘ اور’’دائیں بازو کی انتہاپسندی‘‘ جیسی اصلاحات سے پرہیز کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کوغیرموثر کر سکتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اقوام متحدہ میں بھارت کے سفیر ٹی ایس تریمورتی کی وضاحت دراصل بھارت کی ’’دائیں بازو‘‘ بالخصوص ہندو شدت پسند تنظیموں کی آئیڈیالوجی پر مغربی میڈیا میں حالیہ دنوں ہونے والی شدید نکتہ چینی کا جواب دینے کی کوشش ہے۔

ویڈیو دیکھیے 03:04

ہمیں اسلاموفوبیا کے خلاف کھڑا ہونا چاہیے، جسٹن ٹروڈو

ملتے جلتے مندرجات