اقوام متحدہ میں افغان سفیر مستعفی، کیا طالبان کی کوششیں کامیاب ہوگئیں؟ | حالات حاضرہ | DW | 18.12.2021

ڈی ڈبلیو کی نئی ویب سائٹ وزٹ کیجیے

dw.com کے بِیٹا ورژن پر ایک نظر ڈالیے۔ ابھی یہ ویب سائٹ مکمل نہیں ہوئی۔ آپ کی رائے اسے مزید بہتر بنانے میں ہماری مدد کر سکتی ہے۔

  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

اقوام متحدہ میں افغان سفیر مستعفی، کیا طالبان کی کوششیں کامیاب ہوگئیں؟

افغانستان کی معزول حکومت کے اقوام متحدہ میں سفیر نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ طالبان نے اس نشست کے لیے اپنا نمائندہ مقرر کرنے کے لیے جمعے کے روز درخواست دی ہے۔

اقوام متحدہ کے معاون ترجمان فرحان حق نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ جمعرات کو موصول ہونے والے ایک خط کے مطابق سابق حکومت کے مندوب غلام اسحاق زئی نے 15 دسمبر سے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

 انہوں نے مزید کہا کہ اگست میں افغانستان پر طالبان کے کنٹرول حاصل کرنے کے بعد سے ملک اقتصادی بحران سے دوچار ہے اور اقوام متحدہ میں افغان مشن کے لیے اپنا کام کاج جاری رکھنا مشکل ہو رہا تھا۔

گذشتہ ستمبر میں اسحاق زئی نے اقوام متحدہ سے کہا تھا کہ وہ اب بھی افغانستان کے سفیر ہیں۔ انہوں نے نومبر کے اواخر میں اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی میٹنگ میں حصہ بھی لیا تھا جس میں طالبان حکمرانوں کی کھل کر نکتہ چینی کی تھی۔ سابق صدر اشرف غنی نے جون میں انہیں اس عہدے پر تعینات کیا تھا۔

دوسری طرف طالبان نے اقتدار پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد اقوام متحدہ سے کہا تھا کہ وہ اس کے سابق ترجمان سہیل شاہین کو افغانستان کے نمائندہ کے طورپر منظوری دے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے رواں ماہ کے اوائل میں ایک قرارداد منظور کرکے افغانستان کے لیے نمائندگی کی باہم مخالف دعووں پر اپنا فیصلہ غیر معینہ مدت کے لیے موخر کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

طالبان نے اس فیصلے پر اقوام متحدہ کی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا تھا کہ عالمی ادارہ افغان عوام کے حقوق کو نظر انداز کر رہا ہے۔

Afghanistan Taliban Suhail Shaheen, Sprecher der afghanischen Taliban

طالبان نے سہیل شاہین کا نام اقوام متحدہ میں اپنے نمائندہ کے طور پر پیش کیا ہے

'اقوام متحدہ کی ساکھ کا سوال ہے'

اقوام متحدہ میں افغانستان کے نمائندہ کے لیے طالبان کے نامزد امیدوار سہیل شاہین نے کہا کہ یہ نشست اب افغانستان کی نئی حکومت کو دی جانی چاہئے کیونکہ یہ عالمی ادارے کے لیے ساکھ کا معاملہ ہے۔

انہوں نے ایک ٹوئٹ کرکے کہا، "اب افغانستان میں ایک نئی خود مختار حکومت قائم ہے۔"

خیال رہے کہ کسی بھی ملک نے اب تک طالبان کو تسلیم نہیں کیا ہے۔ سن 1996 سے سن 2001کے درمیان طالبان کی سابقہ حکومت میں بھی اقوام متحدہ میں اس کا کوئی نمائندہ نہیں تھا اور صرف تین ممالک سعودی عرب، متحدہ عرب امارا ت اور پاکستان نے ہی انہیں تسلیم کیا تھا۔

طالبان کی درخواست

 طالبان نے اقوام متحدہ میں افغانستان کی نشست کے لیے جمعے کے روز نئی درخواست دے دی۔

اقوام متحدہ کی نشست اور بیرون ملک کچھ دیگر سفارت خانے اشرف غنی حکومت کے جلاوطن سفارت کاروں کے پاس ہیں جب کہ طالبان کی نئی حکومت وہاں اپنے نمائندے تعینات کرنا چاہتی ہے۔

طالبان رہنما اقوام متحدہ میں اپنے نمائندے محمد سہیل شاہین کو تعینات کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سہیل شاہین اس سے قبل اسلام آباد میں نائب سفیر کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ طالبان کی پہلی حکومت کے خاتمے کے بعد وہ تحریک کے جلاوطن ترجمان بن گئے تھے اور روانی سے انگریزی بولنے کی وجہ سے غیر ملکی میڈیا کی مقبول شخصیت رہے ہیں۔

دریں اثنا افغانستان کے اقوام متحدہ مشن نے ٹویٹ کیا کہ سفارت کار نصیر فائق چارج ڈی افیئرز کے طور پر مشن کی قیادت کریں گے۔ وہ ''اقوام متحدہ میں اپنے ساتھی شہریوں کے تحفظات اور جائز مطالبات کا اشتراک کرنے کے لیے کام جاری رکھیں گے۔"

 ج ا/ ص ز (اے ایف پی، اے پی)

DW.COM