افغان ہزارہ رہنماؤں کا طالبان حکومت کی حمایت کا اعلان | حالات حاضرہ | DW | 25.11.2021

ڈی ڈبلیو کی نئی ویب سائٹ وزٹ کیجیے

dw.com کے بِیٹا ورژن پر ایک نظر ڈالیے۔ ابھی یہ ویب سائٹ مکمل نہیں ہوئی۔ آپ کی رائے اسے مزید بہتر بنانے میں ہماری مدد کر سکتی ہے۔

  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

افغان ہزارہ رہنماؤں کا طالبان حکومت کی حمایت کا اعلان

جمعرات کے روز ایک ہزار سے زائد افغان ہزارہ عمائدین نے ملک میں طالبان حکومت کی حمایت کا اعلان کیا۔ ہزارہ براردی کے رہنماؤں نے افغانستان میں مغرب کی حمایت یافتہ گزشتہ حکومتوں کو ’تاریک دور‘ بھی قرار دیا۔

افغانستان میں شیعہ ہزاہ کمیونٹی کو سنی شدت پسند گروہ مسلسل جان لیوا حملوں کا نشانہ بناتے رہتے ہیں۔ تاہم جمعرات کے روز کابل میں اس کمیونٹی کے قریب ایک ہزار عمائدین طالبان رہنماؤں کے ساتھ جمع ہوئے اور ملک میں طالبان کی حکومت کی حمایت کا اعلان کیا۔

ہزارہ کمیونٹی کے سینیئر رہنما اور سابق قانون ساز جعفر مہدوی نے اس اجتماع کا انعقاد کیا تھا۔ مہدوی نے سابق افغان صدر اشرف غنی کے دور اقتدار کو افغانستان کے لیے 'تاریک ترین دور‘ قرار دیا۔

غنی حکومت کے بارے میں مہدوی کا کہنا تھا، ''افغانستان کو کوئی آزادی حاصل نہیں تھی اور غیر ملکی سفارت خانے حکومت کے ہر شعبے پر قابض تھے۔ خدا کا شکر ہے کہ وہ تاریک دور اب ختم ہو گیا ہے۔‘‘

ہزارہ رہنما نے افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد کیے گئے اقدامات کی تعریف بھی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ طالبان کی نئی حکومت نے ملک میں جاری جنگ کا خاتمہ کرنے کے ساتھ ساتھ کرپشن کو بھی ختم کیا ہے اور سیکورٹی بھی مضبوط کی ہے۔

افغانستان میں جامع حکومت کے قیام کی امید

اے ایف پی کے مطابق مہدوی نے کہا، ''آئندہ ہفتوں اور مہینوں کے دوران ہمیں امید ہے کہ افغانستان میں تمام لوگوں کی نمائندگی پر مشتمل حکومت بنے گی۔‘‘

طالبان نے اقتدار پر قبضے کے بعد عبوری حکومت قائم کر رکھی ہےجس میں طالبان کے علاوہ دیگر نسلی گروہوں کی نمائندگی نہیں ہے اور نہ ہی خواتین کو شامل کیا گیا ہے۔

ہزارہ رہنماؤں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے طالبان رہنما ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت کی اس وقت ترجیح ملکی تعمیر نو ہے۔ انہوں نے کہا، ''غیر ملکی قابضوں کے خلاف ہمارا جہاد ختم ہوچکا ہے اور اب ملک کی تعمیر نو کا جہاد شروع ہو چکا ہے۔‘‘

اندازوں کے مطابق افغانستان میں ہزارہ کمیونٹی کی تعداد ملک کی مجموعی 38 ملین آبادی میں دس اور بیس فیصد کے درمیان ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران یہ کمیونٹی طالبان اور داعش جیسے شدت پسندوں کا ہدف بنتی رہی ہے۔ ہزارہ برادری کو خودکش حملوں کے علاوہ اجتماعی قتل جیسے واقعات کا سامنا بھی رہا ہے۔

ہیومن رائٹس واچ کے مطابق سن 1998 میں مزار شریف میں ہزارہ برادری کے دو ہزار سے زائد افراد کو قتل کیا گیا تھا۔

افغانستان میں طالبان کے اقتدار پر قبضے کے بعد بھی ہزارہ کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے افغان شہری کئی حملوں کا نشانہ بن چکے ہیں، زیادہ تر حملوں کی ذمہ داری داعش نے قبول کر لی تھی۔

اس اجتماع شریک ہزارہ رہنماؤں نے بھی اس خدشے کا اظہار کیا کہ مستقبل میں بھی داعش کے جنگجو انہیں مزید حملوں کا نشانہ بنا سکتے ہیں۔

ش ح /ع ح  (اے ایف پی)