افغان گاؤں کی ایک خاتون سربراہ | معاشرہ | DW | 08.03.2012
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

افغان گاؤں کی ایک خاتون سربراہ

ظریفہ قاضی زادہ دراصل ایک متوسط گھرانے سے تعلق رکھنے والی افغان خاتون ہیں۔ 12 سال کی عمر میں اُن کی شادی ہوگئی تھی اور انہوں نے 15 بچے پیدا کیے۔

ظریفہ قاضی زادہ

ظریفہ قاضی زادہ

وہ ایک نہایت غیرمعمولی خاتون سمجھی جاتی ہیں کیونکہ وہ ٹریکٹر اور موٹربائیک چلاتی ہیں۔ ان کے پاس ایک کلاشنکوف بھی ہوتی ہے جس سے وہ اپنے ممکنہ حریف سے خود کو تحفظ فراہم کرتی ہیں۔ اپنے گاؤں کی سربراہ کی حیثیت سے 50 سالہ ظریفہ دیگر خواتین کی بہبود کے لیے سرگرم عمل ہیں۔

ظریفہ قاضی زادہ موٹر بائیک پر سوار ایک گھر سے دوسرے گھر تک چکر لگاتی رہتی ہیں۔ وہ افغانستان کے کسی گاؤں کی واحد خاتون سربراہ ہیں اور گاؤں کے تمام مکینوں کا خیال رکھنا چاہتی ہیں۔ شمالی افغانستان میں مزار شریف میں واقع ان کے گاؤں میں تقریباﹰ ایک ہزار خاندان آباد ہیں۔ گاؤں کے بہت سے لوگوں کے لیے یہ امر تعجب کا باعث ہے کہ ایک خاتون موٹر بائیک چلاتی ہیں، تاہم ظریفہ کو گاؤں والوں ہی نے اپنا سربراہ منتخب کیا ہے۔ ظریفہ کہتی ہیں،’گاؤں والے دیکھ رہے ہیں کہ میں نے ان کے لیے بجلی کی فراہمی کو ممکن بنایا ہے۔ یہاں ایک مسجد تعمیر کروائی ہے اور ہمیشہ ان کا ساتھ دینے کے لیے تیار رہتی ہوں۔ جبکہ میرے پاس کوئی سیاسی عہدہ نہیں ہے۔ کیونکہ میں ان کی مدد کرتی ہوں اس لیے انہوں نے مجھے گاؤں کا سربراہ چنا ہے‘۔

Bildergalerie Zarifa Afghanistan

ظریفہ اپنے گاؤں کی خواتین کو تعلیم اور روزگار فراہم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں

طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد سے ظریفہ گاؤں والوں کو ایک بہتر زندگی دینے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ وہ خاص طور سے خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم ہیں۔ بہت سے مردوں کے لیے یہ امر قابل قبول نہیں کہ ظریفہ خاتون ہو کر گاؤں کی سربراہی کریں تاہم ظریفہ کو اپنا دفاع کرنا خوب آتا ہے۔ اُن کا کہنا ہے،’جب میں نے اپنا کام شروع کیا تھا اُس وقت کچھ مرد حضرات میرا مزاق اڑاتے تھے۔

Bildergalerie Zarifa Afghanistan

ظریفہ اپنی فیملی کے ہمراہ

انہیں میں نے چُپ کرا دیا۔ باقائدہ جسمانی طاقت کے استعمال سے۔ اب کسی کی مجھ پر ہنسنے کی ہمت نہیں ہوتی۔ کچھ مردوں نے تو مجھے جان سے مارنے کی کوشش بھی کی تاہم خدا کے کرم سے میں بچ گئی‘۔ ظریفہ خواتین میں بہت مقبول ہیں۔ ان کی وجہ سے اس گاؤں کی عورتیں مردوں کے ساتھ مسجد میں نماز ادا کر سکتی ہیں جبکہ افغانستان کی دیگر مساجد میں عورتیں شاذونادر ہی داخل ہوتی ہیں۔ ظریفہ کا کہنا ہے کہ خواتین کو مردوں کے شانہ بشانہ زندگی بسر کرنی چاہیے۔ اس کے لیے ضروری یہ ہے کہ خواتین تعلیم حاصل کریں اور اپنی زندگی کو خود سنوارنے کے قابل بنیں۔

رپورٹ: حسرت ناظمی/ کشور مصطفیٰ

ادارت: امتیاز احمد