افغان مذاکرات کار اور خواتين کی حقوق کی علم بردار پر ’قاتلانہ حملہ‘ | حالات حاضرہ | DW | 15.08.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

افغان مذاکرات کار اور خواتين کی حقوق کی علم بردار پر ’قاتلانہ حملہ‘

طالبان کے ساتھ مذاکرات کے ليے افغان حکومت کی ٹیم کی رکن اور خواتین کے حقوق کی ممتاز وکیل فوزیہ کوفی کابل میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے زخمی ہو گئی ہیں۔

افغان حکام نے بتایا ہے کہ ہفتے کے روز نامعلوم افراد کی جانب سے کی گئی فائرنگ کے نتیجے میں فوزیہ کوفی کو معمولی چوٹیں آئی ہیں۔ انہوں نے سابق قانون ساز فوزیہ کوفی پر حملے کو ’قاتلانہ حملہ‘  قرار دیا ہے۔ 

افغانستان کے صدر کے ساتھ ساتھ امن عمل میں شامل سینئر سیاستدانوں نے بھی اس واقعے کی بھرپور مذمت کی ہے۔ افغانستان میں قومی مصالحتی اعلیٰ کونسل کے سربراہ عبداللہ عبداللہ نے ٹوئٹر پر لکھا، ’’فوزیہ کوفی پر قاتلانہ حملے کی شدید مذمت کرتا ہوں اور حکومت سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ مجرموں کو گرفتار کریں اور حملے کے پیچھے مقاصد کا پتا لگائیں۔‘‘

ادھر طالبان کے ترجمان نے اس حملے میں ملوث ہونے سے انکار کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: کابل نے طالبان قیدیوں کو رہا کرنا شروع کر دیا
خواتین کے حقوق کی وکیل فوزیہ کوفی کا فوری طور پر بیان سامنے نہیں آیا لیکن ان کے فیس بک پر شائع کی گئی پوسٹ کے مطابق کوفی کو دائیں بازو پر چوٹيں آئی ہيں لیکن کوئی جان لیوا زخم نہیں آیا۔ فوزیہ کوفی ماضی میں بھی طالبان کے ساتھ بہت سے مذاکرات کے ادوار میں خواتین کی نمائندگی کر چکی ہیں۔ کوفی خواتین اور لڑکیوں کے حقوق کے ایک مضبوط آواز رہی ہیں، انہوں نے 2001 میں طالبان کی بے دخلی کے بعد لڑکیوں کی تعلیم کے لیے کاوشیں شروع کی تھیں۔

طالبان اور افغان حکومت کے مابین مذاکراتی عمل میں خواتین کے حقوق کے تحفظ کے بارے میں خدشات پائے جاتے ہیں، کیونکہ طالبان کے سن 1996 سے 2001 تک حکمرانی کے دوران، خواتین کو تعلیم حاصل کرنے، عوامی مقامات پر جانے اور ملازمت سے روک دیا گيا تھا۔ 

مزید پڑھیے: چار سو طالبان رہا کیے جائیں یا نہیں؟

انسانی حقوق کے اہلکاروں نے حالیہ مہینوں میں سول سوسائٹی کے سینئر ممبران کو حملوں میں نشانہ بنائے جانے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ افغانستان کے آزاد انسانی حقوق کمیشن کے سربراہ شہزاد اکبر کے مطابق اس نوعیت کے حملے امن عمل پر اعتماد کو منفی طور پر متاثر کر سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: افغانستان ميں ہزاروں پاکستان مخالف عسکريت پسند موجود، اقوام متحدہ

افغان حکومت کی مذاکراتی ٹیم طالبان کے قیدیوں کی رہائی مکمل ہونے کے بعد آنے والے دنوں میں طالبان کے ساتھ دوحہ میں مذاکرات شروع کرنے جا رہی ہے۔ طالبان اور امریکی حکومت کے درمیان امن معاہدہ اس برس فروری میں طے پایا تھا۔ ڈیل کے تحت افغان حکومت کو طالبان کے پانچ ہزار قیدی اور طالبان کو اپنی تحویل سے حکومت کے ایک ہزار قیدی رہا کرنے تھے۔

ع آ / ع س (روئٹرز)

ویڈیو دیکھیے 03:50

افغانستان میں طالبان کی قیادت میں زندگی کیسی ؟

DW.COM