’افغان لڑکیوں کو جبری شادی کے لیے پاکستانی نوجوانوں کے حوالے کیا جا رہا ہے‘ | حالات حاضرہ | DW | 19.10.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

’افغان لڑکیوں کو جبری شادی کے لیے پاکستانی نوجوانوں کے حوالے کیا جا رہا ہے‘

طالبان کی انتہا پسند اور سخت گیر نظریات کی حامل حکومت کے دوسرے دور میں خود مختار زندگی کا حق معاشرے کے مضبوط طبقے تک کو حاصل نہیں، ایسے میں کمزور سمجھی جانے والی افغان خواتین طالبان کے سامنے سینہ سپر نظر آ رہی ہیں۔

افغان سول سوسائٹی کے ماہرین طالبان کا بہادری سے مقابلہ کرنے والی خواتین کی مدد اور حمایت کا مطالبہ کر رہے ہیں۔اس پسماندہ معاشرے کی سول سوسائٹی کی آگاہی و آشنائی رکھنے والے افراد مغربی ممالک سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ ایسی بہادر افغان خواتین کی ہر ممکن مدد و حمایت کریں۔

عالمی فٹ بال ایسو سی ایشن فیفا کی ویب سائیٹ پر گزشتہ جمعے کو دیے گئے ایک بیان کے مطابق فٹ بال کھلاڑیوں پر مشتمل افغان خاندانوں کے قریب 100 اراکین جن میں خواتین بھی شامل ہیں انتہائی پیچیدہ مذاکرات کے بعد قطر کے لیے پرواز کرنے میں کامیاب رہے۔ فیفا کے بیان میں اس امر کی نشاندہی بھی کی گئی کہ ان افراد کو ان کے آبائی ملک میں ' سب سے زیادہ خطرات‘ لاحق تھے۔ دریں اثناء افغانستان ویمن فٹ بال جونیئر ٹیم کی ارکان بھی ملک چھوڑ کر پرتگال چلی گئی ہیں اور افغانستان کی سائیکل سوار خواتین بھی عالمی سائیکلنگ ایسو سی ایشن UCI کے مدد و تعاون سے ملک سے نکلنے میں کامیاب ہوئی ہیں۔

طالبان کا ظاہر شاہ دور کا آئین عارضی طور پر اپنانے کا اعلان

 خواتین کی بے دخلی، غربت کا فروغ 

جرمنی کے شہر ہیمبرگ میں قائم 'افغان ویمن ایسو سی ایشن‘ کی صدر نادیہ ناشیر کریم کا بھی یہ ماننا ہے کہ افغانستان سے زیادہ سے زیادہ خواتین کا ملک چھوڑ دینا اور ان کی ملک سے بے دخلی تباہ حال افغان معاشرے کی غربت میں مزید اضافے کا سبب بنے گی۔ نادیہ کی ایسوسی ایشن افغانستان میں کُل 15 مختلف پروجیکٹس چلا رہی ہے۔

Afghanistan Kabul | Protest von Frauen, Auflösung durch Taliban

احتجاج کرنے والی ایک خاتون کو طالبان ہتھکڑیاں پہنا رہے ہیں

ان میں اسکول، کلینکس، رہائشی منصوبے اور  دستکاری کے ہنر جیسے ترقیاتی منصوبے شامل ہیں۔ان 15 منصوبوں میں سے 12 پر اب بھی کام ہو رہا ہے۔ نادیہ ناشیر کریم کے بقول افغانستان میں کچھ خواتین اب بھی بطور پرائمری اسکول ٹیچر اور ہسپتالوں میں ڈاکٹر یا دائی کی حیثیت سے کام کر سکتی ہیں۔ تاہم چند وزارتوں میں اب خواتین کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔ اس کے سبب افغانستان میں ہزاروں خاندان مزید غربت کی دلدل میں دہستے جا رہے ہیں۔ جنگ و شورش زدگی سے تباہ حال اس معاشرے میں غربت عام ہے اور اس کی شدت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ افغانستان میں اشیائے خورد و نوش موجود ہے مگر لا تعداد باشندے انہیں خریدنے کے متحمل نہیں کیونکہ ان کے پاس نہ تو کوئی ملازمت ہے نہ ہی آمدنی کا کوئی ذریعہ۔ اکثر خاندان اپنے گھریلو سامان تک بیچنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

افغانستان میں ایل جی بی ٹی کمیونٹی روپوشی پر مجبور

معاشی بدحالی کے ساتھ ساتھ افغان معاشرے میں خواتین کے لیے تعلیم کی رسائی مشکل سے مشکل تر بنا دی گئی ہے۔بڑے شہروں کی یونیورسٹیوں میں مخلوط تعلیم بالکل ختم کر دی گئی ہے۔ یعنی ایسی یونیورسٹیوں میں جانے والی لڑکیوں کو اپنے مرد طلبا ساتھیوں سے بالکل الگ تھلگ رکھا جاتا ہے اور نادیہ کے بقول، یہ بھی صرف پرائیوٹ یا نجی یونیورسٹیوں میں ممکن ہے۔

Afghanistan Kabul | Neuer Alltag | Frauenrechte

افغانستان میں تمام بیوٹی پارلرز بند کروا دیے گئے ہیں

 بڑے شہروں میں فرار

ایک افغان خاتون آرٹسٹ کبرا خادمی جو پیرس میں آباد ہیں، نے جرمن روزنامے فرانکفرٹر  الگمائنے کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے افغان خواتین کیساتھ ظلم و جبر اور زیادتیوں کی نشاندہی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ طالبان افغان نوجوان لڑکیوں کو جبری طور پر شادی کے لیے پاکستانی نوجوانوں کے حوالے کر رہے ہیں۔ اس طرح ایسے جوڑوں کے ہاں جو لڑکے پیدا ہوں گے وہ طالبان کے نظریاتی حامی ہوں گے اور اس طرح طالبان اپنی آئندہ نسل کو بھرپور طریقے سے اپنے مطابق تربیت دے سکیں گے اور طالبان کی ایک نئی نسل پروان چڑھے گی۔

کابل کے لنڈا بازار کی اجنبی گڑیا

نادیہ ناشیر کریمی کبرا خادمی کے اس مفروضے کے بارے میں کوئی شک و شبہ نہیں رکھتیں۔  نادیہ کا تاہم کہنا ہے کہ،'' یہ سب کچھ جن علاقوں میں ہو رہا ہے وہ ہم سے بہت دور دراز ہیں، افغانستان کے بڑے شہروں سے بھی زیادہ دور ہیں۔ یہ شہر، خاص طور سے کابل ہمیشہ سے زیادہ سے زیادہ لوگوں کے لیے فرار کی اہم ترین جگہ رہا ہے۔

Afghanistan Frauen demonstrieren gegen die Taliban

صوبہ بلخ میں خواتین کے خلاف طالبان کے مظالم پر عورتوں کا احتجاج

نادیہ کہتی ہیں۔'' ہم فی الحال مختلف افغان صوبوں سے انہیں منتقل کر رہے ہیں، ان کی مالی امداد کر رہے ہیں تاکہ یہ کھانے پینے کی اشیا خرید سکیں۔‘‘

افغانستان: میڈیا میں کام کرنے والی خواتین کا قتل

طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سے بڑے شہروں میں بہت سی خواتین کی زندگی ان کے لیے ڈراؤنا خواب بن کر رہ گئی ہے۔ ہیومن رائٹس واچ کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق ، '' عورتیں طالبان اور ان پر لگائی گئی پابندیوں سے خوفزدہ ہیں۔ انہیں ڈر ہے کہ ان کی نقل و حرکت، کام اور تعلیم حاصل کرنے کی آزادی ان سے مکمل طور پر چھن جائے گی اور بس ایک خواب بن کر رہ جائے گی، ان خواتین نے اس سب کے لیے اپنی زندگیاں وقف کر رکھی تھیں جو اب شاید ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گی۔‘‘

 

کیرسٹن کنیپ/ ک م/ ع ح