افغان فورسز کی ہلاکتیں بڑھتی ہوئیں | حالات حاضرہ | DW | 10.07.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغان فورسز کی ہلاکتیں بڑھتی ہوئیں

افغانستان میں تعینات امریکی کمانڈر نے کہا ہے کہ رواں برس افغان فورسز کی میدان جنگ میں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ خیال رہے کہ گزشتہ برس افغان فورسز کی ریکارڈ ہلاکتیں ہوئی تھیں۔

جنرل جان نکلسن

جنرل جان نکلسن

افغانستان میں تعینات امریکی فوج کے سربراہ جنرل جان نکلسن کا یہ بیان اس امریکی فیصلے کے محض ایک ہفتے بعد ہی سامنے آیا ہے جس کے مطابق امریکا نے افغانستان سے اپنی فوجی نکالنے کی رفتار کرنے کا اعلان کیا ہے۔ امریکی کمانڈر نے صحافیوں کو بتایا کہ افغان فورسز کی بڑھتی ہوئی ہلاکتوں کی زیادہ تر وجہ طالبان کی طرف سے افغان فورسز کی مستقل پوزیشنوں پر بڑھتے ہوئے حملے ہیں۔

ہفتہ نو جولائی کو رات دیر گئے جنرل جان نکلسن نے صحافیوں کو بتایا، ’’اس سال ہم افغان فورسز کی طرف سے میدان جنگ میں حکمت عملی کے حوالے سے زیادہ کامیابیاں دیکھ رہے ہیں مگر ہلاکتوں کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے۔‘‘ تاہم جب ان سے 2015ء کے مقابلے میں اس برس ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کوئی اعداد وشمار نہیں بتائے۔

تاہم آج ہفتے کے روز افغانستان میں تعینات امریکی فوج کے ایک ترجمان نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ جنرل نکلسن گزشتہ برس کے اسی عرصے کے دوران ہونے والی ہلاکتوں کے مقابلے میں رواں برس ہونے والی ہلاکتوں کے تقابلے کے حوالے سے یہ بات کر رہے تھے جو اب تک گزشتہ برس سے زائد ہو چکی ہیں۔ اس کا مقصد دراصل یہ واضح کرنا تھا کہ رواں برس لڑائی کی شدت میں اضافہ ہوا ہے۔

جانی نقصان کے باوجود افغان فوجی طالبان کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے ہوئی ہیں

جانی نقصان کے باوجود افغان فوجی طالبان کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے ہوئی ہیں

جنرل جان نکلسن کا کہنا تھا، ’’جب وہ (افغان فوجی) دفاعی پوزیشن میں ہوتے ہیں، مثلاﹰ چیک پوائنٹس وغیرہ پر اور جو حملوں کا نشانہ بنتی ہیں، تو یہ وہ وجہ ہے جو زیادہ تر ہلاکتوں کی وجہ بن رہی ہے۔‘‘

روئٹرز کے مطابق 2015ء کے دوران مختلف جنگی کارروائیوں کے دوران افغان فورسز کے پانچ ہزار سے زائد اہلکار ہلاک جبکہ 14 ہزار سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

چھ جولائی کو امریکی صدر باراک اوباما نے اپنے عہدے کی مدت ختم ہونے سے قبل ہی افغانستان میں اس وقت تعینات 9,800 فوجیوں کی تعداد کم کر کے 5,500 کرنے کے منصوبے کو ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے اس کی وجہ افغانستان میں بڑھتے ہوئے سکیورٹی خدشات کو قرار دیا تھا۔ اوباما کے نئے منصوبے کے مطابق رواں برس کے آخر تک یہ تعداد 8,400 کر دی جائے گی۔

جنرل جان نکلسن نے افغان فورسز کی تعریف بھی کی کہ اس میں نئی بھرتیوں کا سلسلہ جاری ہے اور جانی نقصان کے باوجود فوجی طالبان کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے ہوئی ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ مئی میں طالبان کے سربراہ مُلا منصور اختر کی ایک امریکی ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد طالبان مشکلات کا شکار ہیں۔

اشتہار