افغان فوجی کی اپنے ہی ساتھیوں پر فائرنگ، 23 ہلاک | حالات حاضرہ | DW | 14.12.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

افغان فوجی کی اپنے ہی ساتھیوں پر فائرنگ، 23 ہلاک

افغانستان میں کم از کم ایک فوجی اہلکار نے اپنے ہی ساتھیوں پر فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں 23 فوجی مارے جانے کی اطلاع ہے۔ بتایا گیا ہے کہ یہ کارروائی ممکنہ طور پر طالبان سے تعلق رکھنے والے ایک فوجی نے انجام دی۔

جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کے مطابق فوج میں بھرتی طالبان کے ایک گروہ نے ملک کے جنوب مشرقی صوبہ غزنی میں فائرنگ کر کے 23 فوجی اہلکاروں کو ہلاک کر دیا۔ مقامی کونسل کے ارکان عصمت اللہ جمرودوال اور امان اللہ کامران نے ڈی پی اے کو بتایا کہ یہ واقعہ ضلع قاراباغ میں قائم ایک فوجی اڈے پر پیش آیا۔

اس واقعے کی ذمہ داری طالبان نے قبول کر لی ہے۔ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے دعویٰ کیا ہے کہ اس واقعے میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کی تعداد 32 ہے۔ تاہم آزاد ذرائع سے ہلاکتوں کی اصل تعداد کی ابھی تک تصدیق نہیں ہو پائی۔

Afghanistan Anschlag in Ghazni

صوبہ غزنی میں فوجی اہلکاروں کی کمی ہے اور اسی باعث جب نئے فوجیوں کو بھرتی کیا جاتا ہے تو اکثر ان کے پس منظر کو مناسب طور پر چیک نہیں کیا جاتا۔

افغان صوبہ غزنی میں اس طرح کے واقعات تواتر سے ہوتے رہتے ہیں جن کے پیچھے اکثر طالبان کا ہاتھ ہوتا ہے۔ حکام کے مطابق گزشتہ دو برسوں کے دوران اس صوبے کے مختلف اضلاع میں اس طرح کے حملوں میں درجنوں افغان فوجی مارے جا چکے ہیں۔

ڈی پی اے کے مطابق صوبہ غزنی میں فوجی اہلکاروں کی کمی ہے اور اسی باعث جب نئے فوجیوں کو بھرتی کیا جاتا ہے تو اکثر ان کے پس منظر کو مناسب طور پر چیک نہیں کیا جاتا۔ حکام کے مطابق طالبان اس خامی کا فائدہ اٹھاتے ہیں اور اکثر فوج میں اپنے ساتھیوں کو بھرتی کرا دیتے ہیں جو بعد ازاں اس طرح کے حملوں کا سبب بنتے ہیں۔

دوسری طرف خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے طالبان سے منسلک فوجی کی فائرنگ کے نتیجے میں مرنے والے افغان فوجیوں کی تعداد نو بتائی ہے۔ مرنے والے فوجیوں کی تعداد میں اس فرق اور طالبان کے دعوے سے متعلق معاملے کی ابھی تک کوئی حتمی بات معلوم نہیں ہو سکی ہے کیونکہ طالبان کی طرف سے اکثر ہی بڑھا چڑھا کر دعوے کیے جاتے ہیں۔

ڈی ڈبلیو کے ایڈیٹرز ہر صبح اپنی تازہ ترین خبریں اور چنیدہ رپورٹس اپنے پڑھنے والوں کو بھیجتے ہیں۔ آپ بھی یہاں کلک کر کے یہ نیوز لیٹر موصول کر سکتے ہیں۔

ا ب ا / ع ب (ڈی پی اے، اے پی)

DW.COM