افغان فوجیوں کی فائرنگ: تین غیر ملکی فوجی ہلاک | حالات حاضرہ | DW | 26.03.2012
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغان فوجیوں کی فائرنگ: تین غیر ملکی فوجی ہلاک

افغانستان میں ملکی سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کی فائرنگ کے دو واقعات میں تین غیر ملکی فوجیوں کی ہلاکت کو رپورٹ کیا گیا ہے۔ پیر کے روز ہلاک ہونے والوں میں ایک امریکی اور دو برطانوی فوجی شامل ہیں۔

ان دو مختلف واقعات میں تین غیر ملکی فوجیوں کے ہلاک ہونے کی متعلقہ حکام نے تصدیق کردی ہے۔ ان میں سے دو برطانوی فوجیوں کو جنوبی افغانستان میں ہلاک کیا گیا۔ ہلاک ہونے والا تیسرا فوجی امریکی تھا اور وہ مشرقی افغانستان میں ایک چیک پوائنٹ پر ہلاک کر دیا گیا۔ امریکی فوجی کو مارنے والا افغان سپاہی گاؤں کی سطح پر قائم کردہ مقامی سکیورٹی فورس کا ایک رکن بتایا گیا ہے۔

Afghanistan Polizei

افغان سکیورٹی کے تربیتی عمل میں تیزی پیدا کر دی گئی ہے

ہلمند میں متعین ٹاسک فورس میں شامل برطانوی فوج کے ترجمان میجر ایان لارنس (Ian Lawrence) نے بتایا کہ دونوں فوجی ہلمند کے مرکزی شہر لشکر گاہ میں ایک فوجی بیس کے سامنے مارے گئے۔ یہ واقعہ پیر کو علی الصبح پیش آیا۔ ہلمند صوبے کی پولیس کے سربراہ عبدالنبی الہام کے مطابق فائرنگ کرنے والا افغان اہلکار لیفٹیننٹ رینک کا ایک افسر ہے اور اس کا نام گل نذر ہے۔

ادھر طالبان کے ترجمان قاری یوسف احمدی کے مطابق برطانوی فوجیوں کو مارنے والے افغان فوجی کا طالبان کے ساتھ مسلسل رابطہ تھا۔ طالبان کے ترجمان نے لشکر گاہ میں فوجیوں کی ہلاکت کی واردات کو پلان کرنے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ دوسری جانب طالبان حکومت میں وزارت خارجہ سے تعلق رکھنے والے سینئر اہلکار واحد مژدہ کا کہنا ہے کہ برطانوی فوجیوں کی ہلاکت میں طالبان کا کوئی کردار نہیں ہے۔

افغانستان میں متعین مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کی انٹرنیشنل سکیورٹی اسِسٹنس فورس کے تین اراکین کی ہلاکت کو ایک امریکی فوجی کے ہاتھوں سولہ افغان شہریوں کی ہلاکت اور قرآن سوزی کے بعد پیدا شدہ تناؤ کا نتیجہ قرار دیا گیا ہے۔ یہ امر بھی اہم ہے کہ یہ ہلاکتیں ایسے وقت میں رونما ہوئی ہیں جب آئی سیف نے افغان فوج اور پولیس کے علاوہ حکومتی اہلکاروں کی تربیت کے عمل میں تیزی پیدا کر دی تھی۔ افغانستان سے سن 2014 میں غیر ملکی فوجیوں کی واپسی کا اعلان کیا جا چکا ہے۔

Afghanistan 10 Jahre Intervention Kandahar Flughafen

غیر ملکی فوجیوں کو ان دنوں خاصے مشکل حالات کا سامنا ہے

غیر ملکی فوجیوں پر کیے جانے والے حملوں کے حوالے سے افغانستان میں امریکی میرینز سے تعلق رکھنے والے امریکی فوج اور نیٹو کی غیر ملکی فوج کے کمانڈر جنرل جان ایلن نے امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں اپنے قیام کے دوران محکمہ دفاع کے صدر دفتر پینٹاگون میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جن ملکوں میں مزاحمتی کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہوتا ہے، وہاں ایسے حالات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ جنرل ایلن کے مطابق امریکی فوج نے ایسے حالات عراق کے علاوہ ویت نام میں بھی دیکھے تھے۔

سن 2007 سے لے کر اب تک افغان سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے غیر ملکی فوجیوں کی تعداد اب 70 تک پہنچ گئی ہے۔ رواں برس افغانستان میں ہلاک ہونے والے غیر ملکی فوجیوں کی تعداد 84 ہے اور ان میں سے 18 فیصد یا 16 فوجی افغان سکیورٹی اہلکاروں کی گولیوں کا نشانہ بنے۔ افغان مزاحمت کار بھی کئی واقعات میں ایسی ہلاکتوں کے لیے پولیس یا فوج کی وردیوں کا استعمال کر چکے ہیں۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: مقبول ملک