افغان عزیزہ رحیم زادہ ’ملالہ کے نقش قدم پر‘ | معاشرہ | DW | 26.10.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

افغان عزیزہ رحیم زادہ ’ملالہ کے نقش قدم پر‘

چودہ سالہ عزیزہ رحیم زادہ کا تعلق افغانستان سے ہے اور وہ سماجی شعبے میں بہتری کی کوششوں میں لگی ہوئی ہیں۔ اب انہیں انٹرنیشنل چلڈرنز پیس پرائز کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔ ملالہ یوسف زئی بھی یہ ایوارڈ وصول کر چکی ہیں۔

عزیزہ رحیم زادہ کی کوششوں کی وجہ سے پچیس ہزار افغان بچے اسکول جانا شروع ہو گئے ہیں جبکہ وہ حکام کو بھی اس پر راضی کر چکی ہيں کہ قريب ايک سو کے قریب خاندانوں کو پینے کا صاف پانی مہیا کيا جائے۔ وہ بھی ملالہ یوسف زئی کی طرح نوجوانوں کے حقوق اور تعلیم کے فروغ کے لیے کام کر رہی ہیں۔ عزیزہ نے اے ایف پی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ’’یہ بچے جنگ کی پیداوار ہیں‘‘۔ عزيزہ کا خاندان افغان صوبے پروان میں ہونے والی لڑائی کی وجہ سے ہجرت کر کے کابل کے قریب ایک مہاجر کیمپ میں آ کر بس گیا تھا۔ اسی کیمپ میں 2001ء میں عزیزہ پیدا ہوئیں۔

عزیزہ رحیم زادہ کے بقول ’’اس دوران ہمیں بڑے مشکل حالات کا سامنا رہا۔ میں نے تعلیم کی اہمیت کے بارے میں لوگوں کو تجاویز دیں اور مشاورت بھی کی۔‘‘ سیاہ اور سفید رنگ کا اسکارف پہنے ہوئے عزیزہ نے یہ انٹرویو مٹی سے بنے ہوئے اپنے چھوٹے سے گھر میں زمین پر بیٹھ کر دیا۔

وہ مزید کہتی ہیں کہ صرف بچوں کو ہی نہیں کبھی کبھار ان کے والدین کو بھی تعلیم کی اہمیت کے بارے میں سمجھانا پڑتا ہے کیونکہ غیر تعلیم یافتہ ہونے کی وجہ سے انہیں اس پر راضی کرنا قدرے مشکل کام ہوتا ہے۔

عزیزہ کی کوششوں سے متاثر ہو کر موبائل منی سرکس فار چلڈرن ’ایم ایم سی سی‘ نامی ایک بین الاقوامی امدادی گروپ کے دو ارکان نے افغانستان کا رخ کیا۔ یہ گروپ مقامی تنظیموں اور سرگرم افراد کے ساتھ مل کر ایسے نوجوانوں کو تلاش کرتا ہے، جو اپنے معاشرے کی نمائندگی کر سکتے ہوں۔ ’ ایم ایم سی سی‘ کے ڈیوڈ میسن کہتے ہیں ’’عزیزہ دوسروں سے بالکل الگ انداز میں سوچتی ہے، وہ دوسروں کی وکالت کرتی ہے اور سوالات بھی پوچھتی ہے اور آہستہ آہستہ وہ اپنے ساتھی بچوں کی نمائندہ بن گئی۔‘‘

’ ایم ایم سی سی‘ کی مدد سے عزیزہ کی مقامی حکام سے ملاقاتیں ہوئیں، جن میں اس نے بچوں کے مسائل سے متعلق انہیں آگاہ کیا۔ اس سلسلے میں انسانی حقوق کے لیے سرگرم رکن پارلیمان فوزیہ کوفی نے بھی عزیزہ کے ساتھ بھرپور تعاون کیا۔ انہی کوششوں کی وجہ سے کابل کے 59 مہاجر کیمپوں میں مقیم قریب پچیس ہزار بچوں کی بنیادی تعلیم تک رسائی ممکن ہوئی۔

رواں سال کے انٹرنیشنل چلڈرنز پیس پرائز کے لیے عزیزہ رحیم زادہ کے ساتھ ساتھ لائبیریا کے سترہ سالہ ابراہیم کائٹا اور پورٹو ریکو کی سترہ سالہ جینیشہ باؤ کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔ اس ایورڈ کا اعلان نو نومبر کو دی ہیگ میں کیا جائے گا۔