افغان شیعہ زائرین پر حملے: ’پاکستانی گروہ ذمہ دار‘ | حالات حاضرہ | DW | 07.12.2011
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

افغان شیعہ زائرین پر حملے: ’پاکستانی گروہ ذمہ دار‘

پاکستانی شدت پسند گروہ لشکر جھنگوی العالمی نے افغانستان میں دس محرم کو شیعہ مسلمانوں پر کیے گئے حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ منگل کے ان حملوں میں تریسٹھ زائرین ہلاک ہوئے۔

default

خبر رساں ادارے ڈی پی اے کے مطابق لشکرِ جھنگوی العالمی کے ترجمان ابو بکر منصور نے افغانستان میں شیعہ زائرین پر منگل کو کیے گئے دونوں حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

ان میں سے ایک حملہ کابل میں ایک درگاہ پر ہوا، جہاں دس محرم کے موقع پر سینکڑوں عزہ دار جمع تھے۔ اس حملے میں انسٹھ شہری ہلاک ہوئے۔ یہ درگاہ صدارتی محل سے تقریباﹰ پانچ سو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

دوسرا حملہ افغانستان کے شمالی شہر مزار شریف میں ہوا۔ وہاں ایک درگاہ کے باہر کھڑی سائیکل پر بم نصب تھا۔ اس دھماکے کے نتیجے میں چار افراد ہلاک ہوئے۔

ڈی پی اے کے مطابق لشکرِ جھنگوی العامی پاکستان میں بھی شیعہ مسلمانوں پر کیے گئے درجنوں حملوں میں ملوث ہے۔ پاکستان میں یہ گروپ کالعدم ہے۔ تاہم خیال ہے کہ افغانستان میں اس گروپ کی جانب سے کی گئی یہ پہلی کارروائی ہے۔

اُدھر امریکہ نے افغانستان میں شیعہ زائرین پر کیے گئے حملوں کی مذمت کی ہے۔ امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے کہا ہے کہ اقلیتی فرقے پر حملے بہت ہی افسوسناک ہیں۔

کلنٹن نے کہا کہ اس کے ذمہ دار افغان عوام کی ان کوششوں کے لیے کوئی احترام نہیں رکھتے، جن کے ذریعے وہ اپنے ملک کو مزید مستحکم، زیادہ پرامن اور جمہوری بنانا چاہتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا: ’’جیسا کہ عالمی برادری نے بون کانفرنس (پیر کو) میں دکھا دیا، ہم گزشتہ دس برسوں کی کوششیں رائیگاں نہیں جانے دیں گے۔‘‘

قبل ازیں وائٹ ہاؤس کے ترجمان جے کارنی نے کہا کہ امریکہ ان حملوں کی پرزور مذمت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا: ’’امریکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بدستور افغان عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔‘‘

دوسری جانب افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے کہا ہے کہ شدت پسندوں کی جانب سے اس قدر اہم مذہبی موقع پر کیا گیا یہ پہلا حملہ تھا۔ طالبان نے ان حملوں کو غیرانسانی قرار دیتے ہوئے ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کیا ہے۔

رپورٹ: ندیم گِل

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM

ویب لنکس