افغان شہریوں کے لیے نئی پاکستانی ویزا پالیسی | حالات حاضرہ | DW | 02.10.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

افغان شہریوں کے لیے نئی پاکستانی ویزا پالیسی

پاکستان میں مقیم افغان باشندے پاکستان کی جانب سے نئی ویزا پالیسی کو خوشگوار تبدیلی قرار دے رہے ہیں۔ ان میں سے متعدد کا خیال ہے کہ یہ نئی پالیسی دونوں ممالک کےمابین تعلقات میں مزید بہتری لانے کا باعث بنے گی۔

پاکستان کی جانب سے متعارف کرائی جانے والی اس نئی ویزا پالیسی میں تین اہم تبدیلیاں لائی گئیں ہیں۔

یہ تبدیلیاں کونسی ہیں؟

پاک افغان سرحد طورخم کے راستے آنیوالے مریضوں کے لیے فوری چھ ماہ کا ویزہ، افغانستان میں پاکستانی سفارتخانہ اور قونصل خانے ایک سالہ سیاحتی ویزے کے ساتھ ساتھ پانچ سال  کے لیے بزنس ویزا دے سکیں گے، جو پاکستان میں قابل توسیع ہو گا۔ نئی پالیسی میں ویزے کے لیے کسی قسم کی فیس نہیں ہوگی۔ کہا جاتا ہے کہ نئی ویزا پالیسی سے قبل  ویزے کے لیے دو سے تین سو ڈالر تک لیے جاتے تھے۔

افغان شہری خوش

پشاور میں مقیم افغان باشندوں نے نئی ویزا پالیسی پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ تاجر اتحاد خیبر پختونخوا کے صدر مجیب الرحمٰن نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''یہ ایک خوش آئند فیصلہ ہے جس سے دونوں ممالک کے تعلقات پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے، علاج کے لیے آنیوالے افغان شہریوں اور یہاں تعلیم حاصل کرنے والے طلبا و طالبات کے لیے آسانی ہو گی۔‘‘

مزید پڑھیے: عبداللہ عبداللہ کا دورہ، امن کے لیے کھلتی ہوئی راہیں

مجیب الرحمٰن کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان میں افغان باشندوں کو پولیس سے شکایات تھیں اور انہیں اکثر غیر قانونی قیام کی وجہ سے گرفتار کیا جاتا تھا اب جبکہ نئی ویزا پالیسی سامنے آ گئی ہے، تو یہ لوگ بھی سکون اور دلجمعی سے اپنا کام کرسکیں گے۔

 پشاور سے کابل کا فضائی سفر

تاجر اتحاد خیبر پختونخوا کے صدر مجیب الرحمٰن کا مزید کہنا تھا کہ ویزا پالیسی میں تبدیلی کے ساتھ ساتھ حکومت کو پشاور سے کابل کے لیے فضائی سفر کو ممکن بنانے کے لیےاقدامات اٹھانے چاہییں اور ماضی میں شروع کی گئی دوستی بس سروس کی بحالی بھی ضروری ہے۔ مجیب الرحمٰن کی تجویز ہے کہ اسلام آباد سے کابل کا کرایہ بھی کم کرنے سے دونوں ممالک کے مابین تجارت میں بہتری آئے گی۔

یہ بھی پڑھیے: افغان امن عمل میں پیشرفت اور مہاجرین کی واپسی

بھاری رقوم کے مطالبے

پاکستانی صوبے خیبر پختونخوا اور اسلام آباد سمیت دوسرے علاقوں میں لاکھوں افغان باشندے رہائش پذیر ہیں جبکہ ایک بڑی تعداد میں طلبا و طالبات پاکستانی اداروں میں زیر تعلیم ہیں۔ اسی طرح ہنگامی حالت میں مریضوں کو پاکستان میں لاتے وقت ویزے کے حصول  میں بے پناہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا اور دونوں ممالک میں ویزا جاری کرنے کی خاطر بھاری رقم طلب کرنے کی اطلاعات بھی موصول ہوتی رہی ہیں۔

عبداللہ عبداللہ کے دورے کا اثر

حال ہی میں افغانستان کے قومی مصالحت کی کونسل کے سربراہ عبداللہ عبداللہ کے پاکستان کے سہ روزہ دورے کے اختتام پر نئی ویزا پالیسی کا باقاعدہ اعلان کیا گیا ہے۔ دوسری جانب پاک افغان سرحد طور خم پر تعینات سیکورٹی، کسٹم اور ضلعی انتظامیہ کے اہلکاروں نے مشترکہ اجلاس میں آنے والے افغان باشندوں اور تاجر برادری کے مسائل کے حل کے لیے مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وہ اس ضمن میں افغان حکام کے ساتھ بھی ملاقات کریں گے تاکہ دونوں ممالک کی عوام کے مسائل کو حل کیا جا سکے۔

طلبہ بھی خوش

پشاور کے ایک نجی تعلیمی ادارے میں زیر تعلیم احمد غنی نے ڈوئچے ویلے کو بتایا ''میرے والدین ننگرہار میں رہتے ہیں، میں یہاں پڑھائی کے آخری سال میں ہوں، کورونا کی وجہ سے چھ ماہ ضائع ہونے سے سرحد کی بندش سے انہیں مشکلات کا سامنا رہا اور اس میں ویزے کا مسئلہ بھی مشکل تھا لیکن اب تو یہاں پڑھنے والوں کے لیے آسانی پیدا ہوگئی ہے۔‘‘ احمد غنی کے مطابق یہاں میڈیکل، انجینیئرنگ اور کامرس میں ہزاروں افغان طلبا و طالبات زیر تعلیم ہیں، جو یقین طور پر نئی پالیسی متعارف کرانے پر حکومت پاکستان کے شکرگزار ہیں۔

مزید پڑھیے: افغانستان ميں ہزاروں پاکستان مخالف عسکريت پسند موجود، اقوام متحدہ

چالیس سالہ جنگ، بدامنی اور دہشت گردی کی وجہ افغانستان میں جہاں تعلیمی ادارے نہ ہونے کے برابر ہیں وہاں صحت کے مراکز میں بھی سہولیات کم ہیں، جس کی وجہ سے افغان شہریوں کی ایک بڑی تعداد علاج کے لیے پشاور کا رخ کرتے ہیں۔

ویڈیو دیکھیے 04:01

’ سوچے سمجھے، ہمارے لوگوں سے روزگار چھیننا جا رہا ہے‘

DW.COM