افغان خواتین کو کنوار پن ٹیسٹ کا سامنا، رپورٹ | معاشرہ | DW | 01.03.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

افغان خواتین کو کنوار پن ٹیسٹ کا سامنا، رپورٹ

ہیومن رائٹس کی تازہ رپورٹ کے مطابق، جن خواتین اور لڑکیوں پر نام نہاد ’اخلاقی جرائم‘ کا الزام عائد کیا جاتا ہے، انہیں نا چاہتے ہوئے بھی متعدد لوگوں کی موجودگی میں اپنے باکرہ ہونے کا ٹیسٹ (ورجینٹی ٹیسٹ) دینا پڑتا ہے۔

ہیومن رائٹس کمیشن کے مطابق انہوں نے گزشتہ برس افغانستان بھر میں ترپین خواتین اور لڑکیوں کے انٹرویو کیے اور ان میں سے اڑتالیس خواتین کا کہنا تھا کہ سرکاری حکام کی طرف سے ان کا ورجینٹی یا کنوار پن کا ٹیسٹ کیا گیا تھا۔ ان تمام خواتین پر گھر سے بھاگنے یا پھر جنسی تعلق قائم کرنے کا الزام تھا۔ ہیومن رائٹس واچ کی طرف سے یہ تحقیقی رپورٹ پیر کے روز شائع کی گئی تھی۔ اس رپورٹ کے مطابق، ’’ کنوار پن کے ٹیسٹ ان خواتین کی رضا مندی کے بغیر اور جبراﹰ کیے گئے تھے۔ اس وجہ سے انہیں انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور جنسی طور پر ہراساں کرنے کے تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔‘‘

ہیومن رائٹس کی رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ ایسا کرنا نہ صرف بین الاقوامی قوانین بلکہ افغان آئین کی روح کے بھی منافی ہے اور یہ افسوس ناک بات ہے کہ زیادہ تر واقعات میں کنوار پن کے ٹیسٹ مرد محافظوں اور دیگر افراد کی موجودگی میں کیے گئے۔ ان ٹیسٹوں کا مقصد یہ معلوم کرنا تھا کہ آیا یہ خواتین شادی کے علاوہ بھی کسی جنسی سرگرمی میں ملوث رہی ہیں؟ لیکن رپورٹ کے مطابق ایسے ٹیسٹوں کی سائنسی بنیاد انتہائی کمزور ہے۔

Afghanische Frau

رپورٹ کے مطابق جن خواتین کے یہ ٹیسٹ کیے گئے ان میں تیرہ برس کی لڑکیاں بھی شامل تھیں جبکہ متعدد خواتین کا قصور صرف یہ تھا کہ وہ بغیر اجازت اپنے گھر سے باہر نکلیں

رپورٹ کے مطابق جن خواتین کے یہ ٹیسٹ کیے گئے ان میں تیرہ برس کی لڑکیاں بھی شامل تھیں جبکہ متعدد خواتین کا قصور صرف یہ تھا کہ وہ بغیر اجازت اپنے گھر سے باہر نکلیں۔ ان میں سے ایک تہائی خواتین کا ورجینٹی ٹیسٹ متعدد مرتبہ کیا گیا۔

اس رپورٹ میں خبردار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ افغانستان ایسے قدامت پسند معاشرے میں خاتون کا کنوار پن انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور اس طرح کے ٹیسٹ ان کے ذاتی وقار، جذباتی صحت، اور سماجی حیثیت کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق کئی واقعات میں ایسے بھی ہوا ہے کہ شادی والے دن پتہ چلا ہے کہ لڑکی باکرہ نہیں ہے، جس بعد یا تو اسے تشدد کا نشانہ بنایا گیا یا پھر اسے قتل کر دیا گیا۔

اس رپورٹ میں افغان حکومت کی طرف سے ایسے تمام تر ٹیسٹ ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔