افغان خواتين کی قومی کرکٹ ٹيم، کئی کے ليے ايک ناگوار حقيقت | کھیل | DW | 08.12.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

کھیل

افغان خواتين کی قومی کرکٹ ٹيم، کئی کے ليے ايک ناگوار حقيقت

افغان کرکٹ بورڈ نے حال ہی ميں خواتين کی قومی کرکٹ ٹيم کی بنياد رکھی مگر ملک کے بيشتر حصوں ميں مردوں کے ليے يہ خيال بھی ناقابل برداشت ہے کہ ان کی بہنيں، بيٹياں عوامی سطح پر کسی مقابلے ميں شرکت کريں گی۔

رويا سميم نے جس وقت افغانستان ميں کرکٹ شروع، اس وقت ان کے ملک کی کوئی قومی ٹيم ہی نہ تھی۔ يہی وجہ ہے کہ با صلاحيت ہونے کے باوجود وہ اپنے ملک کی نمائندگی کرنے کے بارے ميں سوچ بھی نہيں سکتی تھيں۔

حاليہ برسوں ميں افغانستان کی مردوں کی کرکٹ ٹيم عالمی سطح پر کچھ حد تک کامياب رہی ہے مگر خواتين کی کرکٹ ٹيم کو سن 2010 ميں قيام کے چند ہی برس بعد ختم کر ديا گيا تھا۔ تب يہ فيصلہ بڑی خاموشی کے ساتھ کيا گيا اور اس کی وجہ سلامتی سے متعلق تحفظات بنی۔ اب افغان کرکٹ بورڈ (ACB) نے دوبارہ سے خواتين کی کرکٹ کی بنياد رکھی ہے۔ دارالحکومت کابل کے انٹرنيشنل اسٹيڈيم ميں ٹرائلز کے بعد پچيس کرکٹرز کو کانٹريکٹ ديے گئے۔ بلے باز رويا سميم بھی ان ميں سے ايک ہيں۔

اکيس سالہ رويا سميم نے خبر رساں ادارے تھومسن روئٹرز فاؤنڈيشن سے بات چيت کرتے ہوئے بتايا، ''جب ميں نے کرکٹ کھيلنا شروع کيا، تو مجھے نہيں پتا تھا کہ ہماری قومی ٹيم بنے گی بھی يا نہيں۔ منفی رويوں کی وجہ سے ميں دلبرداشتہ تھی ليکن ميں نے ہمت نہيں ہاری۔‘‘

قدامت پسند معاشرے ميں رويوں کی تبديلی، کتنا مشکل عمل؟

افغان خواتين کرکٹ ٹيم اسی ماہ سے ايک بين الاقوامی کوچ کے ساتھ تربيت شروع کر دے گی۔ ليکن ايک قدامت پسند اور جنگ سے بد حال ملک و معاشرے ميں رويوں کی تبديلی اور کئی نئی چيز کے ليے جگہ بنانا، اتنا آسان عمل بھی نہيں۔ افغانستان کے بيشتر حصوں ميں مردوں کے ليے يہ خيال بھی ناقابل برداشت ہے کہ ان کی بہنيں، بيٹياں عوامی سطح پر کسی مقابلے ميں شرکت کريں گی۔

پہلا مسئلہ تو يہ ہے کہ افغان کرکٹ بورڈ ميں بھی سب ہی خواتين  کرکٹ ٹيم کے حق ميں نہيں۔ کئی کے ليے يہ ايک ناگوار حقيقت ہے۔ اس امر کی تصديق بورڈ کے چند کھلاڑيوں اور اہلکاروں نے بھی کی ہے۔ دوسرا بڑا مسئلہ سلامتی کی صورت حال ہے۔ طالبان کی يقين دہانيوں کے بعد زيادہ تر غير ملکی فوجی دستے آئندہ برس مئی تک افغانستان چھوڑ ديں گے۔ طالبان کے دور حکومت ميں انہوں نے لڑکيوں کی تعليم ممنوعہ قرار دے دی تھی۔ طالبان اب ملک کے متعدد حصوں ميں طاقت ور ہيں اور حاليہ مہينوں ميں معروف خواتين شخصيات پر حملوں ميں اضافہ نوٹ کيا گيا ہے۔ گو کہ ابھی تک خواتين کرکٹرز کو براہ راست کوئی دھمکی موصول نہيں ہوئی ہے۔

تمام تر چيلنجر کے باوجود حال ہی ميں کرکٹ ٹيم کی بنياد رکھتے وقت کرکٹ بورڈ کے چيئرمين فرحان يوسف زئی نے بتايا کہ وہ مخالفت سے واقف ہيں مگر خواتين کی کرکٹ ٹيم کے قيام کے اپنے فيصلے سے پيچھے نہيں ہٹيں گے۔ انہوں نے کہا، ''کئی مسلم ملکوں کی خواتين کرکٹ ٹيمز موجود ہيں، پاکستان، عمان کويت وغيرہ۔‘‘ ان کے بقول افغانستان ميں خواتين کی والی بال، سوئمنگ اور فٹبال کی ٹيميں موجود ہيں، تو کرکٹ کی کيوں نہيں۔

ع س / ک م (تھامسن روئٹرز فاؤنڈيشن)