افغان حکومت کا ایک برس، کامیابیاں اور ناکامیاں | حالات حاضرہ | DW | 23.09.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغان حکومت کا ایک برس، کامیابیاں اور ناکامیاں

گزشته برس کے پیچیده اور طویل انتخابی عمل کے بعد افغانستان کے صدر منتخب ہونے والے محمد اشرف غنی کے اقتدار کا ایک برس مکمل هو گیا۔ دہائیوں سے جنگی میدان بنے ہوئے اس ملک میں قیام امن اب بهی ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔

Afghanistan Unabhängigkeitstag Präsident Ashraf Ghani

افغانستان کے صدر محمد اشرف غنی

غنی نے ایک ایسے وقت میں کابل حکومت کی باگ ڈور سنبھالی جب اس جنگ زده ملک سے بیشتر غیر ملکی فوجی دستے واپس لوٹ چکے اور قیام امن کی بیشتر ذمه داری اب افغان دستوں کے کندھوں پر ہے۔

غنی بنیادی طور پر سیاست کے علاوه، عمرانیات اور اقتصادیات کے موضوعات پر خاصا عبور رکهتے ہیں اور اسی بابت انہیں اندرون ملک و بیرون ملک خاصی قدر کی نگاه سے دیکها جاتا ہے۔ اشرف غنی افغان سیاسی منظرنامے پر ایک مکمل نیا چہره ہیں اور ماضی قریب کی پرتشدد سیاست سے ان کا بالکل بهی ناطه نہیں، بعض مبصرین کے بقول یہی نکته ان کے لیے بعض مواقع پر غنیمت ہوتا ہے اور بعض مواقع پر مشکلات کا باعث بنتا ہے۔

سابق صدارتی حریف عبدالله عبدالله کے ساتھ صدر غنی کے ایک ساله دور حکومت پر تبصره کرتے ہوئے مصنف و تجزیه نگار عبدالغفور لیوال کا کہنا تها که دیگر امور ایک طرف محض یه ہی که اس حکومت نے تمام تر قیاس آرائیوں کے برخلاف (که افغانستان میں نظام تباہ ہو جائے گا اور افراتفری کا عالم هو گا) نظام قائم رکها، بہت بڑا کارنامه ہے۔

بیشتر سابق جنگی کمانڈروں کی جانب اشاره کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک اور اہم تبدیلی جو صدر غنی کے دور میں ممکن ہوئی، وه یه ہے که اقتدار یا طاقت کے پرانے مراکز اب بدل گئے ہیں:’’کچھ لوگ شاید مجھ سے متفق نه ہوں مگر یه ایک مثبت پیشرفت ہے۔‘‘

Afghanistan neues Kabinett

سات ماہ کے طویل مذاکرات کے بعد جو کابینه تشکیل پائی، اس میں صدر کرزئی کے دور کے جہادی کمانڈروں کے برعکس تعلیم یافته اور نئی نسل کے پیشه ور ماہرین شامل تھے

گرچه افغان صدر اور ان کے شریک اقتدار اجرائیوی رئیس (Chief Executive) کو کابینه کے قیام میں سات ماه کا عرصه لگا مگر اس کے بعد جو کابینه تشکیل پائی، اس میں صدر کرزئی کے دور کے جہادی کمانڈروں کے برعکس تعلیم یافته اور نئی نسل کے پیشه ور ماہرین کو چنا گیا۔

دہائیوں سے جنگی میدان بنے ہوئے اس ملک میں قیام امن اب بهی ایک بہت بڑا چیلنج ہے اور صدر غنی کی حکومت کا پہلا برس اس حوالے سے کچھ زیاده مختلف نہیں رہا۔