افغان حکومت اور طالبان کے مابین مذاکرات میں پاکستان کا کردار | حالات حاضرہ | DW | 09.01.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

افغان حکومت اور طالبان کے مابین مذاکرات میں پاکستان کا کردار

قطر میں افغان حکومت اور طالبان کے مابین مذاکرات کا نیا دور شروع ہو گیا ہے۔ سست روی سے جاری یہ مذاکرات ایسے وقت پر جاری ہیں جب افغانستان میں بڑھتی ہوئی پرتشدد کارروائیوں کے باعث شدید تشویش پائی جاتی ہے۔

افغان طالبان کا سیاسی دفتر دوحا میں ہے اور گزشتہ منگل کے روز وہیں کابل حکومت اور طالبان کے مابین مذاکرات کا نیا دور شروع ہوا تھا۔ تاہم اس کے بعد طالبان کے مذاکرات کار پاکستان روانہ ہو گئے تھے، جس کے باعث مذاکرات آج ہفتے کے روز تک کے لیے مؤخر کر دیے گئے تھے۔

طالبان اور امریکا کے نمائندے پاکستان میں

یہ امر بھی اہم ہے کہ اس دوران امریکی محکمہ دفاع کے ایک اعلیٰ اہلکار بھی پاکستان میں موجود تھے، جنہوں نے پاکستان کی طاقت ور فوج کی قیادت سے ملاقات کی تھی۔

اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق پاکستانی فوجی قیادت سے ملاقات میں بحر ہند اور بحر الکاہل سے متعلقہ امور کے لیے امریکا کے قائم مقام نائب وزیر دفاع ڈیوڈ ہیلوی نے افغانستان میں پرتشدد واقعات فوری طور پر کم کرنے کے حوالے سے گفتگو کی۔

یہ بھی پڑھیے: طالبان سے متعلق شاہ محمود قریشی کے بیان پر بحث

سفارت خانے کے جاری کردہ بیان میں بتایا گیا کہ ڈیوڈ ہیلوی نے پاکستان فوج کے چیف آف جنرل اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد مرزا سے ملاقات میں انہیں بتایا کہ واشنگٹن پاکستان کے ساتھ بھی 'طویل المدتی اور دوطرفہ طور پر فائدہ مند سکیورٹی تعلقات‘ اور انسداد دہشت گردی کے لیے باہمی تعاون مضبوط کرنا چاہتا ہے۔

اس ملاقات میں فریقین میں افغانستان میں پرتشدد واقعات میں فوری کمی اور افغان فریقین کے مابین بامعنی مذاکرات کی ضرورت پر بھی اتفاق کیا گیا۔

پاکستان افغان طالبان پر نمایاں اثر و رسوخ رکھتا ہے اور طالبان کو مذاکرات کے لیے راضی کرنے میں بھی اسلام آباد نے اہم کردار ادا کیا تھا۔ پاکستان بارہا طالبان سے بھی افغانستان میں پرتشدد کارروائیاں روکنے کی درخواست کرتا رہا ہے تاہم اس کے ساتھ ساتھ اسلام آباد کا یہ بھی کہنا ہے کہ کابل حکومت بھی طالبان کے خلاف اپنی کارروائیاں روکے۔

امریکا اور طالبان کے مابین طالبان کی طرف سے مذاکرات کرنے والے ملا عبدالغنی برادر اور طالبان کے چیف مذکرات کار ملا حکیم بھی بدھ کے روز تک پاکستان ہی میں تھے۔ تاہم اس دوران ان کی سرگرمیاں کیا تھیں اور کن کن سے ان کی ملاقات ہوئی، اس بارے میں بہت کم معلومات دستیاب ہیں۔

طالبان اور افغان حکومت کی ترجیحات مختلف

افغانستان میں قیام امن کے لیے ٹرمپ انتظامیہ کے خصوصی مندوب زلمے خلیل زاد بھی طالبان اور افغان حکومت کو قیام امن کا موقع ضائع ہو جانے کے خلاف خبردار اور جنگ بندی کرنے پر اصرار کرتے رہے ہیں۔

طالبان کے ایک رہنما نے اپنا نام ظاہر نا کرنے کی شرط پر نیوز ایجنسی اے پی کو بتایا کہ طالبان کابل حکومت پر اعتماد نہیں کر رہے۔ طالبان کے ترجمان محمد نعیم نے بھی فوری طور پر جنگ بندی کو خارج از امکان قرار دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: حکمت یار کا دورہ، امن کی کوششیں یا مستقبل کی صف بندی

تجزیہ کاروں کے مطابق افغان حکومت کی ترجیح جنگ بندی ہے تاہم طالبان کی ترجیح یہ معلوم کرنا ہے کہ جنگ کے بعد کا افغانستان کیسا ہو گا اور وہ شراکت اقتدار کے لیے معاہدہ چاہتے ہیں۔

موجودہ مذاکرات میں بھی مستقبل کے افغانستان میں طالبان کے سیاسی کردار کے حوالے سے روڈ میپ طے کرنا شامل ہے۔

اس دوران ایسی خبریں بھی سامنے آتی رہی ہیں کہ افغانستان میں ممکنہ طور پر کوئی عبوری سیٹ اپ بھی بنایا جا سکتا ہے۔ تاہم افغان صدر اشرف غنی نے کسی عبوری نظام کو خارج از امکان قرار دیا ہے۔ یہ امر بھی اہم ہے کہ گزشتہ ہفتے زلمے خلیل زاد کے دورہ کابل کے دوران صدر غنی نے ان سے ملاقات نہیں کی تھی۔

افغان صدر اشرف غنی نے آج ہفتے کے روز سی این این کو دیے گئے اپنے ایک انٹرویو میں بھی کہا کہ وہ مستقبل میں اقتدار کسی منتخب ملکی حکومت ہی کے حوالے کریں گے۔

ش ح / م م (اے پی، ڈی پی اے)

ویڈیو دیکھیے 03:50

افغانستان میں طالبان کی قیادت میں زندگی کیسی ؟