افغان امن عمل: ٹرمپ کی خان سے ملاقات میں پاکستان کی تعریف | حالات حاضرہ | DW | 23.07.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

افغان امن عمل: ٹرمپ کی خان سے ملاقات میں پاکستان کی تعریف

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ پیر بائیس جولائی کے روز وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ایک ملاقات میں افغانستان میں قیام امن کی کوششوں کو آگے بڑھانے کے سلسلے میں پاکستان کے کردار کی تعریف کی۔

واشنگٹن سے منگل تیئیس جولائی کی صبح ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق امریکا کے دورے پر گئے ہوئے پاکستانی سربراہ حکومت کے ساتھ وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں ایک ملاقات میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اسلام آباد نے اپنے ہمسایہ ملک افغانستان میں قیام امن کی کوششوں کو آگے بڑھانے کے لیے اب تک جو کردار ادا کیا ہے، وہ قابل تعریف ہے۔

اے ایف پی کے مطابق صدر ٹرمپ کا یہ موقف امریکا کے اب تک کے رویے میں ایک بڑی تبدیلی ہے اور وہ بھی ایک ایسے وقت پر جب واشنگٹن کی پوری کوشش ہے کہ وہ افغانستان میں گ‍زشتہ قریب اٹھارہ برسوں سے جاری جنگ کے خاتمے کو یقینی بناتے ہوئے طالبان عسکریت پسندوں کے ساتھ کسی ایسے معاہدے تک پہنچ جائے، جو ہندوکش کی اس ریاست میں دیرپا امن کی وجہ بن سکے۔

پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ اپنی ملاقات کے بعد وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان کی موجودگی میں امریکی صدر ٹرمپ نے تنبیہ کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ وہ اگر چاہیں تو افغانستان کے خونریز داخلی تنازعے کو طاقت کے زور سے چند ہی روز میں ختم کر تو سکتے ہیں لیکن اس کوشش میں ''افغانستان دنیا کے نقشے سے غائب بھی ہو سکتا ہے‘‘ اور اسی لیے ان کی کوشش ہے کہ یہ مسئلہ مذاکرات کے ذریعے ہی حل کیا جائے۔

عمران خان کی موجودگی میں امریکی صدر کے اس موقف کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ پاکستان کے ہمسایہ ملک افغانستان میں 1990ء کی دہائی میں جب طالبان اقتدار میں آئے تھے، تو پاکستان ہی ان کی سرپرستی اور حمایت کرنے والا اہم ترین ملک تھا۔

صدر ٹرمپ نے کہا، ''ہم نے (افغانستان میں قیام امن کے سلسلے میں) گزشتہ چند ہفتوں میں بہت زیادہ پیش رفت کو یقینی بنا لیا ہے اور اس عمل میں پاکستان نے بھی امریکا کی بھرپور مدد کی ہے۔‘‘ اس موقع پر صدر ٹرمپ نے پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کی طرف دیکھتے ہوئے اور ان سے مخاطب ہو کر کہا، ''امریکا کے لیے بہت سی اہم چیزیں رونما ہو رہی ہیں اور میری رائے میں آپ کی قیادت میں پاکستان کے لیے بھی آنے والے دنوں اور ہفتوں میں کئی طرح کی مثبت پیش رفت ہونے والی ہے۔‘‘

اے ایف پی نے لکھا ہے کہ ٹرمپ اور عمران خان کی ملاقات کے بعد دونوں رہنماؤں کے صحافیوں کے سامنے ان بیانات کے ساتھ ہی یہ بھی واضح ہو گیا ہے کہ اتنے مثبت الفاظ اور دوطرفہ مسکراہٹوں کے تبادلے نے ثابت کر دیا ہے کہ موجودہ ریپبلکن امریکی صدر ٹرمپ کی پاکستان کے بارے میں سوچ کافی بدل گئی ہے، حالانکہ یہی صدر ٹرمپ وہ امریکی لیڈر تھے، جنہوں نے پاکستان پر گزشتہ برس عدم تعاون اور 'دھوکا دہی‘ کا الزام لگاتے ہوئے اسلام آباد کے لیے ترقیاتی اور عسکری شعبوں میں سینکڑوں ملین ڈالر کی امریکی امداد روک دی تھی۔

عمران خان کی طرف سے ٹرمپ کی تعریف

پاکستان وزیر اعظم عمران خان، جو اس وقت اپنے امریکا کے اولین دورے پر ہیں، نے اس موقع پر کہا، ''میں ان لوگوں میں سے ہوں، جنہوں نے ہمیشہ یہی کہا ہے کہ افغانستان کے مسئلے کا کوئی فوجی حل ہو ہی نہیں سکتا۔ اور مجھے صدر ٹرمپ کی کاوشوں کی تعریف بھی کرنا ہو گی کہ وہ افغان تنازعے کے فریقین کو اس بات پر مجبور کرتے جا رہے ہیں کہ وہ اس بہت طویل جنگ کو ختم کریں۔‘‘

اس گفتگو میں پاکستانی وزیر اعظم نے یہ بھی کہا کہ عنقریب ہی دو 'یرغمالیوں‘ کے بارے میں دنیا کو اچھی خبر سننے کو ملے گی۔ یہ یرغمالی کون ہیں، انہوں نے اس کی کوئی وضاحت نہ کی۔

لیکن بعد ازاں فوکس نیوز کے ساتھ ایک انٹرویو میں عمران خان نے اس بارے میں ایک سوال کے جواب میں کہا کہ افغانستان میں دو یا تین ایسے غیر ملکی یرغمالی موجود ہیں، جن میں سے شاید دو امریکی اور ایک آسٹریلوی ہے اور ان افراد کی رہائی سے متعلق اگلے 48 گھنٹوں میں دنیا کو اچھی خبر سننے کو مل سکتی ہے۔

م م / ع ا / اے ایف پی

DW.COM