افغان اسپیشل فورسز کی تربیت میں تیز رفتاری | حالات حاضرہ | DW | 26.12.2011
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغان اسپیشل فورسز کی تربیت میں تیز رفتاری

’خبردار! تمھارے پاس بچ نکلنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ افغان دستے ہر طرف سے اپنا گھیرا تنگ کر چکے ہیں۔ اپنے ہاتھ اوپر اٹھاؤ اور آہستہ آہستہ باہر نکل آؤ۔‘

default

یہ وہ الفاظ ہیں جو ایک افغان فوجی نے کہے تھےاور جن کے ساتھ ہی افغانستان میں مقامی سکیورٹی فورسز کے خصوصی دستوں کی عسکریت پسندوں کے خلاف تربیت کے عمل میں بہت تیز رفتار مرحلے کا آ غاز ہو گیا تھا۔ افغانستان میں مقامی دستوں اور امریکہ کی سربراہی میں اتحادی فورسز نے اس مقصدکے تحت افغان خصوسی دستوں کے ایک نئے یونٹ کی تربیت کا کام اور بھی تیز رفتاری سے شروع کر دیا ہے کہ اس طرح کے تربیتی مراحل سے گزر کر مقامی فورسز شدت پسندوں کا اچھی طرح مقابلہ کرنے کے قابل ہو سکیں۔

Afghanistan Armee

افغانستان میں خصوصی دستوں کی تربیت کا عمل تیز رفتار بنا دیا گیا ہے

افغانستان میں ایسے خصوصی دستوں کی تربیت کا عمل اب اس لیے بھی تیز رفتار بنا دیا گیا ہے کہ سن 2014 میں تمام غیر ملکی اتحادی فوجوں کے انخلا کے بعد اس ملک میں سکیورٹی کا کوئی خلاء پیدا نہ ہو اور افغان نیشنل فورسز شہری اور دیہی علاقوں میں باغیوں کا مقابلہ کرنے کے قابل ہو جائیں۔

افغانستان میں ان خصوصی دستوں کی تربیت کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ آئندہ اگر عسکریت پسندوں کی تلاش میں گھر گھر چھاپے مارنے کی متنازعہ کارروائی مکمل کرنا پڑے تو یہ کام صرف افغان دستے ہی کریں۔ اس کا پس منظر یہ ہے کہ اب تک افغانستان میں رات کے وقت ایسے چھاپے غیر ملکی فوجی دستوں کے ساتھ مل کر مارے جاتے ہیں۔

تلاشی کی ان کارروائیوں کے دوران غیر ملکی فوجیوں کے ساتھ اگرچہ افغان فورسز کے اہلکار بھی موجود ہوتے ہیں تاہم یہ کارروائیاں بہت متنازعہ ہو چکی ہیں۔ پچھلے ایک سال کے دوران افغانستان کے مختلف صوبوں میں ایسے2800 سے زائد چھاپے مارے گئے، جس دوران کئی افغان شہری ہلاک بھی ہوئے۔ ایسی کارروائیوں پر صدر حامد کرزئی کی طرف سے بھی زبردست تنقید کی جاتی ہے، جو اس بات پر ناخوش ہیں کہ رات کے وقت مارے جانے والے چھاپوں کے دوران، چھاپہ مار فوجی ٹیمیں اکثر عام شہریوں سے بدسلوکی بھی کرتی ہیں اور یو‌ں افغان شہریوں کی نجی زندگی کا احترام کرنے کے بجائے ان کے حقوق کی خلاف ورزی بھی ہوتی ہے۔

صدر حامد کر زئی چاہتے ہیں کہ ایسے چھاپے بند کر دیے جائیں اور غیر ملکی فوجی مشتبہ طالبان عسکریت پسندوں کی تلاش میں عام افغان شہریوں کے گھروں میں بھی داخل نہ ہوں۔ فی الحال افغانستان میں مقامی مسلح فورسز اس قابل نہیں ہیں کہ خود کامیابی سے ایسے چھاپے مار سکیں۔ اسی لیے ہندو کش کی اس ریاست میں اب افغان خصوصی دستوں کی تربیت کا عمل اور بھی تیز کر دیا گیا ہے۔

Taliban Afghanistan Terrorismus Islamismus Flash-Galerie

سپیشل فورسز کا بنیادی کام عسکریت پسندوں سے نمٹنا ہو گا

اب تک افغانستان میں ایسے خصوصی دستوں کے کتنے ارکان کی تربیت مکمل کی جا چکی ہے، اس بارے میں مغربی دفاعی تنظیم نیٹو اور افغان وزارت دفاع کی طرف سے کوئی بھی تفصیلات نہیں بتائی جاتیں۔ تاہم ان دستوں کے ایک تربیتی کیمپ کے انچارج جلال الدین نامی ایک فوجی اہلکار کے مطابق اب تک ایسے ایک ہزار سے لے کر پندرہ سو تک فوجیوں کو تربیت دی جا چکی ہے۔ افغانستان میں اسپیشل فورسزکی تربیت کا منصوبہ یہ دو سال قبل شروع کیا گیا تھا۔

افغان اسپیشل فورسز کی تربیت کرنے والے جلال الدین نامی اہلکار کے مطابق کابل میں وزارت دفاع سے یہ درخواست بھی کی گئی ہے کہ اس تربیتی پروگرام کے تحت اسپیشل فورسز کی ایک ایسی پلاٹون تیار کی جانی چاہیے، جو صرف خواتین پر مشتمل ہو۔ ان کے بقول تربیت یافتہ ماہر فوجیوں کے طور پر ایسی خواتین مستقبل میں عسکریت پسندوں کی تلاش میں گھروں پر چھاپے مارنے کی ممکنہ کارروائیوں کے دوران فیصلہ کن کردار ادا کر سکتی ہیں۔

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

اشتہار