افغانستان کے سکھ اور ہندو نفرت اور عدم برداشت کے نشانے پر | معاشرہ | DW | 23.06.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

افغانستان کے سکھ اور ہندو نفرت اور عدم برداشت کے نشانے پر

سن 1992 سے قبل افغانستان میں دو لاکھ بیس ہزار سے زائد ہندو اور سکھ خاندان بستے تھے تاہم عدم برداشت کے باعث یہ ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے اور اب محض دو سو خاندان افغانستان میں رہ گئے ہیں جو امتیازی سلوک کا شکار ہیں۔

بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق اس ماہ کے آغاز میں کابل میں جگتارسنگھ لغمانی نامی ایک سکھ شخص کی ہربل دوائیوں کی دکان میں ایک شخص نے اس کی گردن پر چھرا رکھ دیا تھا اور کہا تھا کہ اگر اپنی جان پیاری ہے تو اسلام قبول کرو ورنہ گلہ کاٹ دیا جائے گا۔ جگتار سنگھ کو آس پاس موجود افراد نے اس حملہ آور سے بچالیا تھا۔ یہ واقعہ ان بہت سے واقعات میں سے ایک ہے جو افغانستان کی گھٹتی ہوئی ہندو اور سکھ کمیونٹی کے ساتھ پیش آتے ہیں۔

جگتار سنگھ نے روئٹرز کو بتایا، ’’ہم اپنے دن کا آغاز خوف اور تنہائی کے ساتھ کرتے ہیں، اگر آپ مسلمان نہیں ہیں تو آپ ان لوگوں کی نظر میں انسان بھی نہیں ہیں، مجھے نہیں معلوم کہ میں کیا کروں اور کہاں جاؤں۔‘‘

Flash-Galerie Hindus in Afghanistan

ہندوؤں اور سکھوں کو ہراساں کرنے کے واقعات بھی منظر عام آئے ہیں

واضح رہے کہ کئی صدیوں تک افغانستان میں ہندو اور سکھ برادریوں نے تجارت اور کاروبار میں اہم کردار ادا کیا ہے تاہم آج ان کو صرف جڑی بوٹیوں سے تیار کردہ ادویات فروخت کرتے ہی دیکھا جا سکتا ہے۔ ہندوؤں اور سکھوں کی قومی کونسل کے چیرمین اوتار سنگھ کے مطابق سن 1992 میں کابل حکومت کے خاتمے سے قبل افغانستان میں دو لاکھ بیس ہزار سے زائد ہندو اور سکھ خاندان بستے تھے تاہم اپنے خلاف عدم برداشت کے باعث یہ ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے اور اب محض دو سو خاندان افغانستان میں رہ گئے ہیں۔ ایک زمانہ تھا جب ہندو اور سکھ کمیونٹی افغانستان کے مختلف علاقوں میں پھیلی ہوئی تھی تاہم اب صرف ننگرہار، غزنی اور کابل میں ہی چند سکھ اور ہندو خاندان دیکھنے کو ملتے ہیں۔

سن 2001 میں امریکی قیادت میں بین الاقوامی افواج کی جانب سے طالبان حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد سے اس ملک کے آئین کے تحت اقلیتوں کو مذہبی آزادی ہے تاہم اوتار سنگھ کہتے ہیں کہ اب تو ہمارے حالات پہلے سے بھی بدتر ہیں۔ طالبان کی حکومت کے دوران سکھوں اور ہندوؤں کو بازو پر ایک پیلی پٹی پہنی ہوتی تھی لیکن انہیں کوئی تکلیف نہیں دی جاتی تھی۔ اوتار سنگھ کہتے ہیں، ’’اچھا وقت اب گزر گیا ہے جب ہمیں غیر نہیں بلکہ افغان سمجھا جاتا تھا، اب ہماری زمینوں پر قبضہ کر لیا گیا ہے اور ہمیں دھمکیاں بھی دی جاتی ہیں۔‘‘

Hindus und Sikh in Afghanistan Hanod dar Kundoz

آج سکھوں کو افغانستان میں صرف جڑی بوٹیوں سے تیار کردہ ادویات فروخت کرتے ہی دیکھا جا سکتا ہے

روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے افغانستان کے صوبے ہلمند میں درجنوں ہندو اور سکھ خاندانوں کو اپنے علاقے کو اس لیے چھوڑنا پڑا کیوں کہ ان سے طالبان نے ہر ماہ 2800 امریکی ڈالر مانگنے کا مطالبہ کیا تھا۔ ہندوؤں اور سکھوں کو ہراساں کرنے کے واقعات بھی منظر عام آئے ہیں۔ آٹھ سالہ جسمیت سنگھ کو اپنا اسکول اس لیے چھوڑنا پڑا کیوں کہ دوسرے بچے اس کا مذاق اڑاتے تھے اور اسے کافر اور ہندو کہہ کر پکارتے تھے۔

اوتار سنگھ نے روئٹرز کو بتایا کہ ہمارے جنازوں پر پتھر پھینکے جاتے ہیں، کیوں کہ ہم مر جانے والے اپنے پیاروں کو دفنانے کے بجائے جلاتے ہیں۔ اس حوالے سےافغانستان کے نائب وزیر برائے حج اور مذہبی امور داحی الحق نے روئٹرز کو بتایا، ’’حکومت ہندوؤں اور سکھوں کی حالت زار کو بہتر کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے، میں اس بات کا اعتراف کرتا ہوں کہ تنازعات کے باعث یہ لوگ ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں لیکن ان کے حالات اتنے بھی خراب نہیں جتنا بتایا جا رہا ہے۔‘‘

Hindus und Sikh in Afghanistan Bawaran dar Wolaiate

طالبان کی حکومت کے دوران سکھوں اور ہندوؤں کو بازو پر ایک پیلی پٹی پہنی ہوتی تھی لیکن انہیں کوئی تکلیف نہیں دی جاتی تھی

بہت سے سکھ اور ہندو ملک چھوڑ کر بھارت گئے ہیں تاہم کچھ افراد کسی بھی ملک میں اپنائیت محسوس نہیں کر پاتے۔ کابل کے ایک دکاندار بلجیت سنگھ نے روئٹرز کو بتایا، ’’جب ہم بھارت جاتے ہیں تو ہمیں افغان کہا جاتا ہے، جب ہم افغانستان آتے ہیں تو ہمیں غیر کہا جاتا ہے، ہم دونوں دنیاؤں میں گم ہو چکے ہیں۔‘‘

DW.COM

اشتہار