افغانستان کو کسی بھی نتیجے کے لیے تیار رہنا ہو گا: عبداللہ عبداللہ | حالات حاضرہ | DW | 09.10.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

افغانستان کو کسی بھی نتیجے کے لیے تیار رہنا ہو گا: عبداللہ عبداللہ

افغانستان کے اعلی قومی مصالحتی کونسل کے چیئرمین عبداللہ عبداللہ کا کہنا ہے کہ امریکی افواج کی اس جنگ زدہ ملک سے واپسی کی صورت میں کابل کو کسی بھی ممکنہ صورت حال کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہنا ہو گا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ دنوں ایک ٹوئٹ کر کے اپنی اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ تمام امریکی افواج کرسمس تک افغانستان سے اپنے گھر واپس لوٹ آئیں۔ افغانستان کے اعلی قومی مصالحتی کونسل کے چیئرمین عبداللہ عبداللہ کا کہنا ہے کہ ایسی صورت میں افغانستان کو کسی بھی ممکنہ صورت حال کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہنا ہو گا۔

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز ٹوئٹ کیا تھا، ’’افغانستان میں خدمت کرنے والے ہمارے بہادر مرد و خواتین کی تعداد کرسمس تک بہت  کم رہ جانی چاہیے۔‘‘  امریکا کے قومی سلامتی مشیر رابرٹ او برائن نے بھی اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ امریکا اگلے ماہ کے اوائل میں افغانستان میں اپنی افواج کی تعداد پانچ ہزار سے بھی کم کردے گا۔

مضمرات تو ہوں گے

 امریکی صدر اور قومی سلامتی مشیر کے بیانات کے پس منظر میں ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کا کہنا تھا، ”ہو سکتا ہے کہ افواج کی تعداد کے بارے میں پوری طرح سمجھنے میں ذرا دقت ہو لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں کہ نومبر تک افواج کی ایک بڑی تعداد کا انخلاء مکمل ہو جائے گا۔ ہمیں اس کا اندازہ ہے اور امریکی فوج بھی اس کے لیے تیاریاں کر رہی ہیں۔ لیکن افغان کی حیثیت سے بالآخر ہمیں ہی ہر طرح کی ممکنہ صورت حال کے لیے تیار رہنا ہو گا۔"

ڈاکٹرعبداللہ عبداللہ کا کہنا تھا،’’اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہمارے بین الاقوامی ساتھیوں  نے جو فیصلے کیے ہیں اس کے مضمرات ہوں گے لیکن یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ مل کر کام کریں اور امن کے ساتھ رہیں... اور یہی وجہ ہے کہ ہم دوحہ میں امن مذاکرات کر رہے ہیں۔"

Indien Neu-Delhi | Treffen Abdullah Abdullah mit Narenda Modi

ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کی۔

بھارتی رہنماؤں سے ملاقاتیں

ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ نے نئی دہلی میں منوہر پاریکر انسٹی ٹیوٹ فار ڈیفنس اسٹڈیز اینڈ انالسیس (آئی ڈی ایس اے) میں سفارت کاروں، اعلی سول حکام اور سفارتی امور کے ماہرین اور صحافیوں سے خطاب بھی کیا۔ وہ دوحہ میں جاری امن مذاکرات کے سلسلے میں بھارتی رہنماؤں اور اعلی سکیورٹی افسران کے ساتھ وسیع تبادلہ خیال کے لیے چھ روزہ دورے پر بھارت آئے ہوئے ہیں۔

انہوں نے جمعرات کو بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور جمعے کے روز بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر سے ملاقات کی۔ اس سے قبل انہوں نے بھارت کے قومی سلامتی مشیر اجیت ڈوبھال، چیف آف جنرل اسٹاف جنرل بپن راوت، آرمی چیف جنرل ایم ایم نروانے، خارجہ سکریٹری ہرش وردھن شرنگلا اور بھارتی وزارت خارجہ میں جوائنٹ سکریٹری (پاکستان۔ افغانستان۔ ایران) جے پی سنگھ کے ساتھ تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

معاملہ صبر آزما ہے

 آئی ڈی ایس اے میں اپنے خطاب کے دوران افغان رہنما نے تسلیم کی،’’امن عمل ان کی توقع کے بر خلاف سست رفتاری سے آگے بڑھ رہا ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس امن مذاکرات نے 20 برسوں سے میدان جنگ میں ایک دوسرے سے محاذ آراء لوگوں کو ایک ساتھ کھڑا کر دیا ہے۔ بہرحال افغانستان جیسے کثیر نسلی، کثیر لسانی، کثیر مسلکی سماج کے لیے ایک قابل قبول حل تلاش کرنا صبر آزما کام ہے۔"

بھارتی وزیر اعظم کے ساتھ ملاقات کے بعد اپنے ایک بیان میں افغان رہنما نے کہا ”بھارت افغانستان اور خطے میں دیرپا امن کے قیام میں اہم رول ادا کر سکتا ہے۔"  انہوں نے افغانستان کی تعمیر نو میں بھارت کے امداد کے لیے بھی شکریہ ادا کیا۔

بھارت افغانستان میں مختلف تعمیری پروجیکٹوں پر کام کررہا ہے۔ اس نے افغانستان کو تین ارب ڈالر کی امداد دینے کا وعدہ کیا ہے اور افغان نیشنل آرمی کو تربیت بھی دے رہا ہے۔

بھارت کی یقین دہانی

قبل ازیں بھارت کے قومی سلامتی کے مشیر سے ملاقات کے بعد عبداللہ عبداللہ نے ٹوئٹ کیا کہ اجیت ڈوبھال نے امن مساعی میں بھارت کی مکمل حمایت کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ کسی بھی ایسے امن معاہدے کی، جو افغان عوام کے لیے قابل قبول ہو، بھارت حمایت کرے گا اور بھارت ایک ایسے آزاد، جمہوری، پر امن اور خود مختار افغانستان کے حق میں ہے جہاں دہشت گرد گروپ سرگرم نہ ہوں۔"

عبداللہ عبداللہ کا یہ دورہ ایسے وقت ہو رہا ہے جب بھارت کو پہلی مرتبہ افغان امن مساعی میں حصہ لینے کے لیے مدعو کیا گیا۔ بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ نئی دہلی اب طالبان کے ساتھ معاملہ طے کرنے کے حوالے سے پہلے کے مقابلے زیادہ لچک دار رویہ اپنا رہا ہے کیوں کہ اسے انداز ہو گیا ہے کہ افغانستان کے نئے سیاسی نظم میں طالبان کوبھی حکومت میں شامل کیا جا سکتا ہے۔

سفارتی امور کے ماہرین کا خیال ہے کہ بین الافغان امن مذاکرات کے بعد افغانستان میں خواہ طالبان یا کوئی اور اقتدار میں آتا ہے تو اس پر بھارت کو کوئی اعتراض نہیں ہو گا کیونکہ بھارت ہمیشہ سے افغانستان میں کسی بھی غیر ملکی مداخلت کے بغیر افغان عوام کی طرف سے قائم ہونے والی افغان حکومت کے حق میں ہے۔

افغانستان میں بھارت کے سابق سفیر امر سنہا کا خیال ہے کہ بھارت افغانستان میں مستقبل میں اہم کررول ادا کرسکتا ہے۔ سنہا کاکہنا تھا ” انہیں طالبان کے حوالے سے بھارت کے موقف میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں دکھائی دیتی ہے۔ بھارت طالبان کو مین اسٹریم افغان سوسائٹی میں دوبارہ شمولیت کی کوششوں کی حمایت کرے گا۔“

خیال رہے کہ عبداللہ عبداللہ نے گزشتہ ہفتے اسلام آباد کا دورہ کیا تھا اور وہاں کی فوجی اور سویلین قیادت کے ساتھ تفصیلی بات چیت کی تھی۔

ویڈیو دیکھیے 03:50

افغانستان میں طالبان کی قیادت میں زندگی کیسی ؟

DW.COM