افغانستان: کابل کے نائب گورنر سمیت تین افراد ہلاک | حالات حاضرہ | DW | 15.12.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

افغانستان: کابل کے نائب گورنر سمیت تین افراد ہلاک

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں آج منگل کو بم دھماکہ اور فائرنگ کے واقعات میں ایک علاقائی ڈپٹی گورنر سمیت کم از کم تین افراد کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔

افغانستان کی وزارت داخلہ نے بتایا ہے کہ کابل صوبے کے نائب گورنر محبوب اللہ محبی آج اپنی گاڑی میں نصب کردہ بم کا دھماکہ ہوجانے سے ہلاک ہوگئے۔ یہ واقعہ کابل کی نو ویں پولیس ضلع میں پیش آیا۔ 

وزارت داخلہ کے ترجمان طارق ارائیں نے بتایا کہ ڈپٹی گورنر محبوب اللہ محبی کو بظاہر ’ٹارگیٹ کلنگ ’کا نشانہ بنایا گیا۔اس حملے  میں ان کے سکریٹری کی بھی موت ہوگئی جب کہ ان کے دو محافظ زخمی ہوگئے۔ یہ بم دھماکہ کابل کے نواحی علاقے میکروریان میں ہوا۔

کابل پولیس کے سربراہ کے ترجمان فردو س فرمارز نے بتایاکہ کابل میں ہی ایک دیگر واقعے میں بندوق برداروں نے ایک پولیس افسر کو گولی مار کرہلاک اور دوسرے پولیس اہلکار کو زخمی کردیا۔  یہ واقعہ شہر کی پولیس ڈسٹرکٹ نمبر بارہ میں پیش آیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس واقعے کی تفتیش کی جارہی ہے۔

حالیہ ہفتوں میں کابل کی صبح کا آغاز بالعموم ٹارگیٹ کلنگ، ہلاکتوں، قتل اور بم دھماکوں سے ہورہا ہے۔

ویڈیو دیکھیے 03:50

افغانستان میں طالبان کی قیادت میں زندگی کیسی ؟

'ٹارگیٹ کلنگ، موثر حکمت عملی‘

ابھی تک کسی جنگجو گروپ نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ تاہم طالبان نے خبر رساں ایجنسی ڈ ی پی اے کو ایک مرتبہ کہا تھا کہ افغان حکومت کے خلاف جنگ میں ٹارگیٹ کلنگ ان کی موثر ترین حکمت عملیوں میں سے ایک ہے۔ 

گزشتہ ہفتے افغان حکومت کے ایک وکیل کو مشرقی کابل میں اس وقت گولی مار کر ہلاک کردیا گیا تھا جب وہ اپنے دفتر جارہے تھے۔

خیال رہے کہ دو عشروں سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے افغان حکومت اور طالبان جنگجووں کے درمیان گزشتہ دو ماہ سے زیادہ عرصے سے امن مذاکرات ہورہے ہیں لیکن دوسری طرف ملک میں پرتشدد اور ہلاکت خیز حملوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

فریقین کے مابین مذاکرات کے آغاز کے بعد سے دونوں نے ابتدائی پیش رفت ہونے کا اعلان کیا تھا جس کا افغانستان میں داخلی اور

 بیرونی سطح پر کافی خیر مقدم کیا گیا تھا۔ دونوں فریقین امن مذاکرات کے ضابطوں اورطریقہ کار پر رضامند ہوچکے ہیں اور تین ہفتے کے وقفے کے بعد 5 جنوری سے ایجنڈے کے مطابق بات چیت شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ج ا/  ک م  (ڈی پی اے، روئٹرز)

ویڈیو دیکھیے 01:32

عمران خان کا اولین دورہ افغانستان

DW.COM