افغانستان و پاکستان کے لیے جرمنی کا نیا مندوب | حالات حاضرہ | DW | 29.03.2012
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغانستان و پاکستان کے لیے جرمنی کا نیا مندوب

جرمنی نے افغانستان اور پاکستان کے لیے اپنے نئے نمائندہ خصوصی کے نام کا اعلان کر دیا ہے۔ 56 سالہ میشاعیل کوخ کو جرمنی کے سفارتی حلقے میں انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

کوخ ایک سفارت کار کے بیٹے ہیں اور وہ امریکی شہر کنساس میں پیدا ہوئے تھے۔ سن 1986 سے اپنے کیرئیر کا آغاز کرنے والے کوخ اپنے نئے عہدے سے پہلے پاکستان میں جرمن سفیر کے طور پر ذمہ داریاں نبھا چکے ہیں۔ وہ  سن 2004 سے 2008 تک افغانستان کے کے لیے جرمن پلاننگ اسٹاف کی قیادت بھی کر چکے ہیں۔

 ایشیائی علاقے کا ماہر

پاکستان اور افغانستان وہ پہلے بحران زدہ ممالک نہیں ہیں، جہاں جرمنی کے اس اعلیٰ سفارت کار کو فرائض انجام دینا پڑے ہیں۔ کوخ نوے کی دہائی میں تنہائی کے شکار ایشائی ملک میانمار میں بھی نائب سفیر کے طور پر کام کر چکے ہیں۔ خصوصی مندوب برائے افغانستان و پاکستان کے بارے میں جرمنی کی ایک سیاسی جماعت کے رکن یوہانس فلُوگ کا کہنا ہے: ’’ کوخ ہمیشہ ہی کتابیں اور اخبارات پڑھتے نظر آتے ہیں اور جو پڑھتے ہیں وہ ان کے ذہن میں بھی رہتا ہے۔‘‘

مشکل حالات

کوخ اپنی ذمہ داریاں ایک مشکل مرحلے میں سنبھال رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق افغانستان میں اتحادی افواج کے انخلاء کے بارے میں ہونے والی قیاس آرائیوں سے طالبان خود کو مضبوط محسوس کرنے لگے ہیں اور وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ وقت ان کے ہاتھ میں ہے۔ امریکا میں انتخابی مہم کا آغاز ہو چکا ہے، جس کا اثر بھی افغانستان کی پالیسیوں پر مرتب ہو رہا ہے۔ ایشیائی امور کے ماہر جرمن سیاستدان یوہانس فلُوگ کہتے ہیں: ’’امریکا میں رواں برس صدر کا انتخاب کیا جائے گا اور یہی وجہ ہے کہ کوخ کو مشکلات کا سامنا رہے گا۔ امریکی ڈیموکریٹس کا مؤقف انتہائی سخت ہے اور وہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کے سخت مخالف ہیں۔‘‘

Autor und Taliban-Experte Ahmed Rashid

احمد رشید کے مطابق ابھی تک جرمنی طالبان اور امریکا کے مابین مذاکرات میں اہم کردار ادا کرتا آیا ہے

یوہانس فلُوگ کے مطابق جرمن خارجہ پالیسی میں اتفاق رائے پایا جاتا ہے کہ افغانستان کا صرف سیاسی حل ممکن ہے۔ پاکستانی صحافی اور طالبان امور کے ماہر احمد رشید بھی اس مؤقف سے اتفاق کرتے نظر آتے ہیں۔ احمد رشید کے مطابق کوخ کا سب سے پہلا کام طالبان کے ساتھ مذاکرات کا راستہ ہموار کرنا ہونا چاہیے۔

جرمنی اور ثالث کا کردار

ابھی تک جرمنی طالبان اور امریکا کے مابین مذاکرات میں اہم کردار ادا کرتا آیا ہے۔ احمد رشید کے مطابق گزشتہ برس عرب ریاست قطر میں طالبان اور امریکا کے درمیان مذاکرات میں بھی نمایاں طور پر جرمنی نے اہم کردار ادا کیا:

’آئندہ چند مہینوں میں حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ طالبان اور امریکا کو مذاکرات کے دوبارہ آغاز کے لیے جرمنی سے مدد حاصل کرنا پڑے۔‘‘

احمد رشید کا کہنا ہے کہ امن مذاکرات کے حوالے سے آئندہ بھی جرمنی کو اہم کردار ادا کرنا ہوگا اور اگر اس حوالے سے دیکھا جائے تو جرمنی کے پاکستان اور افغانستان کے لیے خصوصی مندوب کا مشن بلاشبہ کوئی آسان کام نہیں ہوگا۔

رپورٹ: ڈانئیل ششکے وٹس / امتیاز احمد

ادارت: ندیم گِل