افغانستان میں مشترکہ یورپی سفارتی مشن ممکن | حالات حاضرہ | DW | 04.12.2021

ڈی ڈبلیو کی نئی ویب سائٹ وزٹ کیجیے

dw.com کے بِیٹا ورژن پر ایک نظر ڈالیے۔ ابھی یہ ویب سائٹ مکمل نہیں ہوئی۔ آپ کی رائے اسے مزید بہتر بنانے میں ہماری مدد کر سکتی ہے۔

  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

افغانستان میں مشترکہ یورپی سفارتی مشن ممکن

فرانسیسی صدر ایمانوئل ماکروں نے گلف ممالک کے اپنے دورے کے دوران دوحہ میں اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ افغانستان میں مشترکہ یورپی سفارتی مشن تشکیل دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

فرانسیسی صدر ایمانوئل ماکروں نے گلف ممالک کے اپنے دورے کے دوران دوحہ میں اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ افغانستان میں مشترکہ یورپی سفارتی مشن تشکیل دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس موقع پر انہوں نے افغانستان سے غیر ملکیوں اور افغان شہریوں کے انخلا میں قطر کے کردار کو سراہا بھی۔

ہفتے کے دن ماکروں نے دوحہ میں صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ کوشش ہے کہ افغانستان میں یورپ کا ایک مشترکہ مشن کام کرنا شروع کر دے تاکہ یورپی سفارت کار ایک مرتبہ پھرافغانستان جا کر اپنی ذمہ داریاں نبھا سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ البتہ یورپی ممالک کے اس قدم سے یہ مراد نہیں کہ طالبان کی حکومت تسلیم کیا جا رہا ہے۔

اس موقع پر ماکروں نے افغانستان میں بیس سالہ غیر ملکی فوجی مشن کے خاتمے کی خاطر قطر کے سفارتی کردار کو سراہا اور کہا کہ مشکل وقت میں افغانستان سے غیر ملکی باشندوں اور ایسے افغانوں کے انخلا کے سلسلے میں بھی قطر نے بھرپور تعاون کیا، جنہیں طالبان سے انتقام لینے کا خطرہ تھا۔

فرانسیسی صدر ماکروں نے کہا،''میں قطر کے کردار کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔''  انہوں نے مزید کہا کہ جس طرح افغانستان کے بحران شروع ہونے کے فوری بعد دوحہ حکومت نے تعاون کیا، اس سے انخلا کا عمل آسان ہو گیا۔ فرانس نے ڈھائی سو سے زائد ایسے افغانوں کو فرانس بلوایا، جو افغانستان کی بیس سالہ جنگ کے دوران کسی نہ کسی طرح وہاں تعینات فرانسیسی فوج یا سفارتی عملے کے ساتھ وابستہ رہے تھے۔

میڈیا رپورٹوں کے مطابق ماکروں نے جمعے کے دن دوحہ میں قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی سے ملاقات میں افغانستان میں مستقبل کی صورتحال کے حوالے سے گفتگو کی اور ساتھ ہی دیگر علاقائی اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا۔

ماکروں اپنے دو روزہ دورہ گلف کے آخری دن یعنی بروز ہفتہ سعودی عرب روانہ ہو گئے۔ بتایا گیا ہے کہ وہ سعودی شہر جدہ میں کراؤن پرنس محمد بن سلمان سے ملیں گے۔ یاد رہے کہ سن دو ہزار اٹھارہ میں ترکی میں سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے بعد پہلی مرتبہ کوئی مغربی رہنما محمد بن سلمان سے مل رہا ہے۔

اپنے اس دورے کی پہلی منزل دبئی میں ماکروں نے کہا کہ وہ جمال خاشقجی کے قتل کا واقعہ نہیں بھولے ہیں تاہم اس خطے کے اہم اور مضبوط ملک سعودی عرب سے انگیج ہوئے بغیر اس خطے سے کامیاب سفارتی کاری ممکن نہیں ہے۔ اس دورے کے دوران متحدہ عرب امارات نے فرانس کے ساتھ چودہ بلین ڈالر کی ایک ریکارڈ ڈیل کو بھی حتمی شکل دی ہے، جس کے تحت وہ فرانس سے 80 رافائل جنگی طیارے خریدے گا۔

ع ب ، ب ج (خبررساں ادارے)

DW.COM