’افغانستان قومی ایتھلیٹک فیڈریشن‘ کو ایک خاتون چلائیں گی | کھیل | DW | 10.01.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

کھیل

’افغانستان قومی ایتھلیٹک فیڈریشن‘ کو ایک خاتون چلائیں گی

افغانستان میں طالبان کی حکومت میں پروان چڑھنے والی خاتون ایتھلیٹ روبینہ جلالی کو قومی ایتھلیٹک فیڈریشن کا نیا سربراہ منتخب کر لیا گیا ہے۔ وہ چار برس تک اس اہم عہدے پر فائز رہیں گی۔

افغانستان قومی ایتھلیٹ فیڈریشن کی صدر چن لیے جانے کے بعد روبینہ جلالی نے کہا کہ وہ اس ادارے کو اپنی بہترین صلاحیتوں کے مطابق چلانے کی کوشش کریں گی۔ جمعرات کے دن نیشنل ایتھلیٹک فیڈریشن کی الیکٹورل جنرل اسمبلی کا انعقاد کیا گیا، جس میں جلالی کو اکثریتی ووٹ سے صدر چنا گیا۔ اس سے قبل پینتس سالہ جلالی اس افغان ادارے کی ویمن نائب صدر کے عہدے پر فائز تھیں۔

روبینہ جلالی ایسی واحد افغان خاتون ایتھلیٹ ہیں، جنہوں نے اولمپک مقابلوں میں شورش زدہ ملک افغانستان کی نمائندگی کی ہے۔ انہوں نے سن دو ہزار چار اور سن دو ہزار آٹھ کے اولمپک مقابلوں میں شرکت کر کے اپنے ملک کے لیے ایک تاریخ رقم کی تھی۔ 

ایتھنز اور بیجنگ میں منعقدہ ان کھیلوں میں سو میٹر کی ریس میں اگرچہ وہ آخری نمبروں پر ہی رہیں تھیں لیکن ان مقابلوں میں ان کی شرکت ہی ایک اہم خبر بن گئی تھی۔ سابق ایتھلیٹ جلالی کا قومی ایتھلیٹک فیڈریشن کا صدر بننا بھی عالمی سطح پر ستائشی نظروں سے دیکھا جا رہا ہے۔

ناقدین نے اس پیش رفت کو افغانستان میں حقوق نسواں کے لیے انتہائی اہم قرار دیا ہے۔

روبینہ جلالی نہ صرف ایک کھلاڑی رہیں ہیں بلکہ وہ انسانی حقوق کی ایک سرگرم کارکن بھی ہیں۔ اس وقت وہ افغان پارلیمان کی رکن بھی ہیں۔ انہوں نے اپنا بچپن طالبان کی حکومت میں گزارا، جہاں خواتین کو متعدد قسم کے سنگین تعصبات اور امتیازی سلوک کا سامنا تھا۔

طالبان کے دور حکومت میں افغانستان میں خواتین کا کھیلوں میں شرکت کرنا ناممکن سی بات تھی۔ سن دو ہزار ایک میں طالبان کی حکومت ختم ہونے کے بعد انہوں نے باقاعدہ طور پر کھیلوں میں شرکت لینا شروع کی تھی۔

اگرچہ افغانستان جیسے قدامت پسند معاشرے میں خواتین کی حالت اب بھی بہت بہتر نہیں لیکن ماضی کے مقابلے میں اس ملک میں کچھ خواتین نے اپنے ٹیلنٹ سے عالمی شہرت حاصل کی ہے۔ طالبان حکومت کے بعد خواتین نے کئی شعبوں میں اپنا نام بنایا ہے اور وہ ملکی ترقی کے لیے بدستور کوشاں ہیں۔

DW.COM

Audios and videos on the topic