افغانستان سے دہشت گردی کا خطرہ کہیں اور منتقل ہو چکا، بلنکن | حالات حاضرہ | DW | 19.04.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

افغانستان سے دہشت گردی کا خطرہ کہیں اور منتقل ہو چکا، بلنکن

امریکی وزیر خارجہ اینٹونی بلنکن نے بائیڈن انتظامیہ کے افغانستان سے چند ماہ کی تاخیر سے فوجی انخلاء کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان سے دہشت گردی کا خطرہ اب ’کہیں اور‘ منتقل ہو چکا ہے۔

افغانستان میں اس وقت امریکا کے تقریباﹰ ڈھائی ہزار فوجی تعینات ہیں

افغانستان میں اس وقت امریکا کے تقریباﹰ ڈھائی ہزار فوجی تعینات ہیں

اینٹونی بلنکن نے امریکی نشریاتی ادارے اے بی سی کے پروگرام This Week کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اتوار اٹھارہ اپریل کی رات کہا کہ واشنگٹن انتظامیہ کو اب امریکی وسائل چین جیسے ممالک اور کورونا کی عالمی وبا جیسے مسائل سے متعلقہ موضوعات پر مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔

Belgien Treffen der NATO-Außenminister in Brüssel Antony Blinken

امریکی وزیر خارجہ اینٹونی بلنکن

انہوں نے کہا، ''افغانستان میں موجود دہشت گردی کے ذرائع اور ان کی وجہ سے لاحق خطرات اب دیگر جگہوں پر منتقل ہو گئے ہیں۔ پھر ہمارے اپنے قومی ایجنڈے پر اور بھی کئی انتہائی اہم امور ہیں۔ مثلاﹰ چین کے ساتھ تعلقات، ماحولیاتی تبدیلیوں کی روک تھام اور کورونا وائرس کی وجہ سے پوری دنیا کو متاثر کرنے والی عالمگیر وبا۔ ہم اب اپنی توانائی اور وسائل انہی معاملات پر صرف کرنا چاہتے ہیں۔‘‘

جرمن فوج کی مدد کرنے والے افغانوں کو جرمنی پناہ دے گا

'القاعدہ کے پاؤں اکھڑ چکے‘

اس انٹرویو میں اینٹونی بلنکن نے کہا کہ امریکا نے افغانستان میں اپنے فوجی دستوں کی تعیناتی کے ساتھ وہ مقاصد حاصل کر لیے ہیں، جن کے حصول کے لیے واشنگٹن نے اپنے فوجی وہاں بھیجے تھے۔

نیٹو بھی امریکا کے ساتھ ہی افغانستان سے کوچ کے لیے تیار

امریکی انخلا اور افغانستان میں مزید قتل و غارت گری کے خدشات

بلنکن نے کہا، ''افغانستان میں دہشت گرد نیٹ ورک القاعدہ کے پاؤں اکھڑ چکے ہیں اور وہ بہت کمزور ہو چکا ہے۔ اب اس دہشت گرد نیٹ ورک کے پاس یہ صلاحیت نہیں رہی کہ وہ افغان سرزمین سے امریکا کے خلاف کوئی حملے کر سکے۔‘‘

جو بائیڈن کا اعلان

امریکی صدر جو بائیڈن نے گزشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ افغانستان سے امریکا کے تمام فوجی دستے اس سال گیارہ ستمبر کو امریکا پر ہونے والے نائن الیون کے دہشت گردانہ حملوں کے بیس سال پورے ہونے سے پہلے واپس بلا لیے جائیں گے۔

امریکی فوج گیارہ ستمبر تک افغانستان سے نکل جائے گی، بائیڈن

بائیڈن انتظامیہ کی طرف سے ہندوکش کی اس ریاست سے یہ فوجی انخلاء نا صرف غیر مشروط ہو گا بلکہ یہ اس ڈیڈ لائن سے بھی چار ماہ بعد مکمل ہو گا، جو افغان طالبان کے ساتھ بائیڈن کے پیش رو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں امریکی انتظامیہ نے گزشتہ برس دوحا میں ہونے والے ایک امن معاہدے میں طے کی تھی۔

بائیڈن کے فیصلے سے اختلاف

امریکی صدر بائیڈن نے افغانستان سے فوجی انخلاء کے جس فیصلے کا اعلان گزشتہ ہفتے کیا اور جس کا وزیر خارجہ بلنکن مسلسل دفاع کر رہے ہیں، اس کے بارے میں امریکا ہی میں کئی ماہرین کی سطح پر اختلافی سوچ بھی پائی جاتی ہے۔

روس کی میزبانی میں افغان امن مذاکرات، کیا کچھ داؤ پر ہے؟

امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے سربراہ ولیم برنز اور کئی فوجی جرنیلوں کی سوچ یہ ہے کہ افغانستان سے امریکی فوجی انخلاء کے بعد ہندوکش کی یہ ریاست اور زیادہ تشدد اور خونریزی کا شکار ہو جائے گی اور امریکا کے لیے دہشت گردانہ حملوں کے خطرات بھی اب تک کے مقابلے میں اور زیادہ ہو جائیں گے۔

صدر بائیڈن کی فوجی انخلاء سے متعلق اس سوچ سے اختلاف کرنے والوں میں امریکی افواج کے سابق سربراہ جنرل ڈیوڈ پیٹریئس بھی شامل ہیں۔

یکم مئی تک غیر ملکی دستے نا نکلے تو حملے بحال، افغان طالبان

صدر اشرف غنی کی پیشکش کی کبھی حمایت نہیں کریں گے، طالبان

افغانستان میں امریکی فوجیوں کی موجودہ تعداد

افغانستان میں ماضی میں امریکی فوجیوں کی مجموعی تعداد ایک وقت پر ایک لاکھ سے بھی زیادہ تھی۔ اب لیکن پینٹاگون کے مطابق ہندوکش کی اس ریاست میں واشنگٹن کے صرف تقریباﹰ ڈھائی ہزار فوجی موجود ہیں۔

یہ امریکی فوجی نیٹو کی اس بین الاقوامی فوج کا حصہ ہیں، جس کی مجموعی نفری اب 9,600 کے قریب بنتی ہے۔

مقررہ تاریخ تک فوج کا افغانستان سے انخلاء ’مشکل‘، بائیڈن

اس سال گیارہ ستمبر سے پہلے پہلے جب امریکی فوجی افغانستان سے نکل جائیں گے، تو ساتھ ہی نیٹو کے تمام فوجی دستے بھی وہاں سے حتمی طور پر روانہ ہو جائیں گے۔

م م / ک م (اے ایف پی، روئٹرز)