افغانستان سے بڑے پیمانے پر نقل مکانی، منزل یورپ | مہاجرین کا بحران | DW | 27.09.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

افغانستان سے بڑے پیمانے پر نقل مکانی، منزل یورپ

افغانستان میں طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد بہت سے افغان مہاجرین واپس اپنے ملک چلے گئے تھے لیکن اب ایک مرتبہ پھر اس ملک سے بڑے پیمانے پر نقل مکانی کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے اور ان تارکین وطن کی منزل یورپ ہے۔

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں فجر کے وقت ہی پاسپورٹ آفس کے سامنے طویل قطاریں لگنا شروع ہو جاتی ہیں۔ پاسپورٹ آفس میں کام کرنے والے عبدالحلیم کے مطابق رواں برس کے آغاز پر ان کو روزانہ کی بنیادوں پر تقریباﹰ ایک ہزار پاسپورٹ درخواستیں موصول ہوتی تھیں لیکن اب انہیں روزانہ تقریباﹰ پانچ ہزار درخواستیں موصول ہو رہی ہیں۔

سفری دستاویزات بنوانے والے افغانوں کی تعداد اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ اس ملک کے زیادہ سے زیادہ شہری جلد از جلد یہ ملک چھوڑ دینا چاہتے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق شام کے بعد یورپ پہنچنے والے سب سے زیادہ تارکین وطن کی تعداد افغان باشندوں کی ہے۔ رواں برس یورپی یونین میں سیاسی پناہ کی درخواست دینے والے افغان شہریوں کی تعداد تقریباﹰ ستائیس ہزار تھی جبکہ شام سے تقریبا چوالیس ہزار ایسے افراد یورپ پہنچے ہیں۔

Afghanistan Kabul Passstelle Flüchtlinge Frau

اعداد و شمار کے مطابق شام کے بعد یورپ پہنچنے والے سب سے زیادہ تارکین وطن کی تعداد افغان باشندوں کی ہے

جرمنی نیوز ایجنسی ڈی پی اے کے مطابق ان دنوں کابل میں یہ افواہیں گردش کر رہی ہیں کہ جرمن چانسلر انگیلا میرکل افغان مہاجرین کو مختصر قیام کے بعد جرمن شہریت عطا کر دیتی ہیں۔ کابل میں کام کرنے والے ایک ٹریول ایجنٹ عارف کا نیوز ایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہنا تھا، ’’زیادہ تر افغان جرمنی جانا چاہتے ہیں کیونکہ جرمن چانسلر نے تارکین وطن کو پناہ دینے کا اعلان کیا ہے۔‘‘

عارف کا مزید کہنا تھا، ’’ہم جانتے ہیں کہ یورپ میں تارکین وطن کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے اور وہاں کے لوگ بھی مہاجرین سے نفرت کرتے ہیں لیکن وہ پھر بھی یورپ ہے اور وہاں مواقع بہت زیادہ ہیں۔ اگر آپ صرف پانچ سال کے لیے بھی یورپ ميں رہتے ہیں تو وہ پانچ برس افغانستان ميں بے روزگاری اور غیر مستحکم صورتحال سے بہتر ہوں گے۔‘‘

جرمن نیوز ایجنسی کے مطابق کابل میں قريب ہر کوئی کسی نہ کسی ایسے شخص کو ضرور جانتا ہے، جس نے حال ہی میں یورپ کی طرف نقل مکانی کی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ مختلف ٹیلی وژن چینلوں پر کام کرنے والے کم از کم تیئس ملازمین رواں ماہ بیرون ملک چلے گئے ہیں۔ دوسری جانب کابل میں واقع جرمن سفارت خانہ ٹوئٹر پیغامات کے ذریعے افغانوں کو ملک سے فرار ہونے سے روک رہا ہے۔

افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی کا چند روز پہلے اپیل کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’یورپ جانے کے لیے دس ہزار ڈالر نہ دیں اور آپ کو یہ بھی پتہ نہیں کہ آپ کا مستقبل کیسا ہوگا؟ آیا آپ سمندر میں ڈوب جائیں گے، مار دیے جائیں گے یا واپس بھیج دیے جائیں گے۔‘‘

نیوز ایجنسی کے مطابق زیادہ تر افغانوں کے لیے ایسی اپیلیں بے اثر ہیں اور وہ بہتر مستقبل کی تلاش میں اپنے ملک سے فرار ہونا چاہتے ہیں۔

اشتہار