افغانستان سے امریکی افواج کی واپسی اگلے برس ممکن | حالات حاضرہ | DW | 17.12.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

افغانستان سے امریکی افواج کی واپسی اگلے برس ممکن

ایک امریکی سنیٹر کا کہنا ہے کہ افغانستان سے امریکی افواج کی واپسی کا سلسلہ اگلے برس سے شروع ہوسکتا ہے اور امریکی صدر فوجیوں کی تعداد بارہ ہزار سے کم کرکے 8600 کرسکتے ہیں۔

امریکی سنیٹر لنڈسی گراہم نے کابل میں کہا کہ اگر صدر ڈونلڈ ٹرمپ اگلے چند ہفتوں میں افغانستان میں متعین فوج کی تعداد بارہ ہزار سے کم کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو ہم اس کی حمایت کریں گے۔ انہوں نے افغان فوج کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اس کی صلاحیت بڑھی ہے۔ امریکی سینیٹر نے یہ بھی کہا کہ جیسے جیسے افغان فوج کی صلاحیت میں اضافہ ہوتا جائے گا ویسے ہی امریکی فوج کی تعداد کم سے کم کی جاسکتی ہے۔

امریکی سنیٹر لنڈسی گراہم نے ماضی میں افغانستان سے امریکی فوج کی واپسی پر تحفظات کا اظہار کیاتھا تاہم اب وہ واپسی کی حمایت کررہے ہیں۔ گراہم کے مطابق افغانستان میں 8600 امریکی فوجی اس امر کو یقینی بنانے کے لیے کافی ہیں کہ افغانستان سے امریکہ کے خلاف ایک اور دہشت گردانہ حملے کا امکان نہیں ہوگا۔ امریکی سنیٹر نے واضح کیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں طالبان پر بھروسہ کرنا مشکل ہے۔

سنیٹر گراہم کے مطابق فوج کی واپسی ”مشروط" ہونی چاہئے اور طالبان کو اپنا وہ وعدہ نبھانے ہوں گے جو انہوں نے مذاکرات کے دوران کئے تھے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ مقصد فوج کو واپس لے جانا ہے لیکن ہمارا آخری ہدف اس بات کو بھی یقینی بنانا ہے کہ امریکا کو اس ملک میں دوبارہ نہ آنا پڑے۔

Lindsey Graham (Imago Images/Zuma Press/S. Reynolds)

امریکی سینیٹر لنڈسی گراہم

 گراہم نے تاہم یہ بات واضح نہیں کہ امریکہ کب تک اپنی پوری فوج واپس بلائے گا۔ حالانکہ طالبان کا کہنا ہے کہ امن معاہدہ کے شرائط میں افغانستان سے امریکی فوج کی مکمل واپسی کی بات شامل ہونی چاہئے۔ امریکہ اور طالبان کے درمیان حال ہی میں دوبارہ شروع ہونے والے امن مذاکرات پھر سے تعطلی کا شکار ہیں۔

مذاکراتی عمل کے التوا کا شکار ہونے کی وجہ گزشتہ بدھ کے روز بگرام ہوائی اڈے کے باہر ہوئے وہ حملہ ہے، جس میں دو افغان شہری ہلاک اور ستر دیگر افراد زخمی ہوگئے۔ اس حملے میں بین الاقوامی اتحادی افواج کے پانچ فوجی بھی زخمی ہوئے تھے۔

امریکہ کے خصوصی سفیر زلمے خلیل زاد گذشتہ ایک برس سے طالبان اور امریکہ کے درمیان امن معاہدہ کے لیے کوشاں ہیں۔ امریکہ کی کوشش ہے کہ وہ طالبان کو اس پر قائل کریں کہ کسی بھی دہشت گرد گروپ کوا فغانستان کی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔

 ج ا / ع ح (اے پی)

ویڈیو دیکھیے 01:58

افغان طالبان کے وفد کا دورہ پاکستان

DW.COM