’افغانستان سے امریکی افواج کا انخلا خوش کن پیشرفت ہے‘ | حالات حاضرہ | DW | 22.12.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

’افغانستان سے امریکی افواج کا انخلا خوش کن پیشرفت ہے‘

پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے افغانستان میں تعینات امریکی افواج کی نصف تعداد کے انخلا کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پیشرفت افغان امن عمل کے لیے بہتر ثابت ہو گی۔

خبر رساں ادارے اے پی نے ہفتے کے دن بتایا ہے کہ پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کا فیصلہ درست ہے اور اس سے اس شورش زدہ ملک میں قیام امن کی کوششوں کو فائدہ ہو گا۔ جنوبی پنجاب کے شہر ملتان میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ افغانستان میں تعینات امریکی افواج میں سے نصف کی واپسی کا امریکی فیصلہ اچھا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شام سے امریکی افواج کے مکمل انخلا کے بعد بیان دیا تھا کہ ان کی انتظامیہ افغانستان سے بھی امریکی افواج کی واپسی ممکن بنائے گی۔ واشنگٹن انتظامیہ کے اہلکاروں نے خبر رساں ادارے روئٹرز اور اے ایف پی کو بتایا ہے کہ امریکی صدر اپنے ہزاروں فوجیوں کو افغانستان سے واپس بلانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ دریں اثناء وال اسٹریٹ جرنل نے عندیہ دیا ہے کہ غالباً 7000 امریکی فوجی افغانستان سے واپس بلا لیے جائیں گے۔

اس تناظر میں پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمو قریشی کا تبصرہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اقدام سے امریکا اور طالبان کے مابین امن مذاکرات میں بہتری پیدا ہو گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی حکومت حال ہی میں ابو ظہبی میں طالبان کے ساتھ ہوئے امن مذاکرات کا خیر مقدم کرتی ہے۔

شاہ محمود قریشی کے مطابق اسلام آباد اس طرح کے اقدامات کی بھرپور حمایت کرتا ہے اور مستقبل میں بھی افغانستان میں قیام امن کی خاطر اپنا مؤثر کردار ادا کرتا رہے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان نے کچھ طالبان کو رہا کیا ہے تاکہ ان امن مذاکرات کا کامیاب بنانے میں مدد کی جا سکے۔ گزشتہ ہفتے ابو ظہبی میں ہوئے ان مذاکرات میں طالبان کے نمائندوں اور خصوصی امریکی مندوب زلمے خیل زاد نے افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا، قیدیوں کے تبادلے اور افغان فورسز کی طرف سے شہریوں پر حملے روکنے کے حوالے سے گفتگو کی تھی۔

خلیل زاد نے ٹوئٹر پیغام میں طالبان کے نمائندوں کے ساتھ اس ملاقات کو ’تعمیری‘ قرار دیا تھا۔ ادھر افغان حکومت کا بھی کہنا ہے کہ امریکی افواج کے انخلا سے ملکی سکیورٹی پر کوئی منفی اثرات نہیں پڑیں گے کیونکہ ملک کی سلامتی کی زیادہ تر ذمہ داریاں اب مقامی سکیورٹی دستے ہی سنھالے ہوئے ہیں۔ سترہ سال سے جاری افغان جنگ میں اب تک دو ہزار چار سو سے زائد امریکی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ یہ تنازعہ تقریباً ایک لاکھ افغانوں کی جان لے چکا ہے۔

ع ب / ع ح / خبر رساں ادارے

DW.COM