افغانستان سے افواج کا انخلا، امریکا کا روس اور چین سے اتفاق | حالات حاضرہ | DW | 27.04.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

افغانستان سے افواج کا انخلا، امریکا کا روس اور چین سے اتفاق

امریکا افغانستان سے اپنی فوجیں نکالنا چاہتا ہے اور اب اس مقصد کے لیے اسے روس اور ایشیا کے طاقتور ملک چین کی حمایت بھی حاصل ہو گئی ہے۔ ان تینوں ممالک نے افغانستان میں امن عمل سے متعلق ایک فارمولے پر اتفاق کر لیا ہے۔

نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق چین اور روس بھی افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے عمل میں مدد فراہم کریں گے اور طالبان سے طے پانے والے ممکنہ امن معاہدے میں اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ افغان طالبان غیرملکی عسکریت پسندوں کو اس خطے میں خوش آمدید نہیں کہیں گے۔

طالبان کے ساتھ امن مذاکرات جاری رکھنے والے خصوصی امریکی مندوب زلمے خلیل زاد نے جمعے کے روز ماسکو میں روسی اور چینی عہدیداروں سے ملاقات کی۔ ان دو ممالک کے عہدیداروں سے اتفاق رائے کو انہوں نے ایک ’سنگ میل‘ قرار دیا ہے۔ زلمے خلیل زاد جلد ہی طالبان کے ساتھ مذاکرات کا اگلا دور شروع کرنے والے ہیں۔

ان تینوں ممالک نے ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے ’افغان قیادت میں‘ امن عمل کی حمایت کی ہے۔ امریکی وزیر خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے، ’’مجموعی امن عمل کے ایک حصے کے طور پر تینوں ممالک نے افغانستان سے غیر ملکی فوجیوں کی منظم اور ذمے دارانہ واپسی کا مطالبہ کیا ہے۔‘‘

ان تینوں ممالک نے یہ بھی کہا ہے کہ طالبان کی طرف سے انتہا پسند گروہ داعش کا مقابلہ کرنے اور القاعدہ سے روابط توڑنے کا ’عزم‘ ظاہر کیا گيا ہے۔ جاری ہونے والے بیان کے مطابق، ’’طالبان نے یہ وعدہ کیا ہے کہ ان کے زیر کنٹرول علاقوں کو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا۔‘‘

زلمے خلیل زاد نے اس اعلامیے کے ساتھ ساتھ ایک ہفتہ قبل لندن میں یورپی نمائندوں سے ہونے والی ایک ملاقات کا حوالہ بھی دیا، ’’افغان جنگ ختم کرنے کے لیے بین الاقوامی برادری میں اتفاق رائے بڑھتا جا رہا ہے اور اس یقین دہانی کے بارے میں بھی کہ دوبارہ افغانستان سے دہشت گردی سر نہیں اٹھائے گی۔‘‘

ان کا ٹویٹ کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے لیکن یہ اہم سنگ میل ہے۔‘‘ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ امریکا کی اس طویل ترین جنگ کو جلد از جلد ختم کرنا چاہتے ہیں۔ چین اور روس کے بھی افغانستان میں اہم مفادات ہیں۔ جب سوویت یونین نے افغانستان پر حملہ کیا تھا تو سن 1979 سے 1989  تک اس کے تقریباً 14 ہزار فوجی مارے گئے تھے۔ دوسری جانب چین نے بھی افغانستان اپنی فوجی اور معاشی سرگرمیاں بڑھا رکھی ہیں۔ چین نہیں چاہتا کہ اس کے علاقے سینکیانگ کے مسلمانوں کو افغانستان سے مدد حاصل ہو۔ خلیل زاد پاکستانی اور بھارتی عہدیداروں سے بھی الگ الگ ملاقاتیں کرنے والے ہیں۔

تاہم ابھی تک خطے کا صرف ایک ملک ایسا ہے، جس نے اس امن عمل کے حوالے سے امریکا پر کھل کر تنقید کی ہے اور وہ ایران ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف کا چند روز پہلے تنقید کرتے ہوئے کہنا تھا کہ واشنگٹن نے افغانوں کو اس امن عمل سے الگ کر دیا ہے اور وہ طالبان کو ’کنگ میکر‘ بنا رہا ہے۔

ا ا / ع س ( اے ایف پی، ڈی پی اے)