افغانستان: بامیان میں بم دھماکوں سے متعدد ہلاک | حالات حاضرہ | DW | 25.11.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

افغانستان: بامیان میں بم دھماکوں سے متعدد ہلاک

افغانستان کے بامیان میں ہونے والے دو بم دھماکوں میں ایک درجن سے زائد افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔ یہ حملے ایسے وقت ہوئے جب عالمی برادری نے جنگ زدہ ملک میں حالات کی بحالی کے لیے اربوں ڈالر کی امداد کا وعدہ کیا ہے۔

افغانستان کے صوبے بامیان میں منگل کے روز سڑک کے کنارے رکھے دو بم دھماکوں سے کم ازکم 14 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے۔ مقامی حکام کے مطابق یہ دھماکے بامیان شہر کے مرکزی بازار میں ہوئے۔ صوبے بامیان کے پولیس سربراہ کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں 12عام شہری اور دو ٹریفک پولیس کے اہلکار شامل ہیں۔ ان دھماکوں میں 45 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

افغانستان کا صوبہ بامیان ملک کی دور دراز پہاڑیوں کے مرکز میں پڑتا ہے اس لیے جنگ زدہ افغانستان میں بامیان دیگر علاقوں کے بہ نسبت کافی محفوظ سمجھا جاتا ہے۔ حکومت کے ساتھ بر سرپیکار طالبان نے ان حملوں میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔ 2001 میں امریکا نے افغانستان پر حملہ کرکے طالبان کی حکومت کو معزول کر دیا تھا اور تبھی سے طالبان باغی کابل حکومت کے ساتھ بر سر پیکار ہیں۔

افغانستان میں اسلامی شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ (داعش) بھی کافی سرگرم ہے اور طالبان کی اتحادی ہے تاہم اس نے بھی ابھی تک ان حملوں کی ذمہ داری نہیں لی ہے۔ ماضی میں داعش اس صوبے اور شہر میں کئی بار شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والی ہزارہ برادری کو نشانہ بنا چکی ہے۔

افغانستان میں حالیہ مہینوں میں ہونے والے متعدد ہلاکت خیز حملوں کی ذمہ داری بھی داعش نے قبول کی ہے۔ امریکا نے اس برس کے اوائل میں ایک میٹرنیٹی ہسپتال پر ہونے والے حملے کی ذمہ داری بھی اسی گروپ پر عائد کی تھی جس میں 24 نو زائیدہ بچے اور ان کی مائیں ہلاک ہوگئی تھیں۔

امن مذاکرات اور ڈونرز کانفرنس

طالبان کی قیادت اور کابل کی حکومت تنازعے کے خاتمے کے لیے قطر میں ہونے والی امن بات چیت میں شرکت کرتے رہے ہیں تاہم ان

 تمام کوششوں کے باوجود حالیہ مہینوں میں تشدد میں کمی کے بجائے اضافہ دیکھا گیا ہے۔

منگل کے روز یہ حملہ ایک ایسے وقت ہوا جب افغانستان میں بحالی امن کے لیے سوئٹزرلینڈ کے شہر جینوا میں عطیہ دہندگان ملکوں کی کانفرنس چل رہی تھی۔ اس کانفرنس میں دنیا کے کئی ممالک نے افغانستان کو اربوں ڈالر کی مدد فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

صرف جرمنی نے آئندہ برس سے 2024 تک افغانستان کو تقریبا ً51 ارب سے بھی زیادہ ڈالر کی رقم فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ لیکن اس نے اس ترقیاتی فنڈز کے لیے بعض شرطیں رکھی ہیں جس میں یہ بھی شامل ہے کہ افغانستان کو امن مذاکرات کے تئیں اپنے وعدوں اور عزم کو پورا کرنا ہوگا۔

اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق اس برس کے پہلے نو ماہ میں افغانستان میں جاری تشدد میں تقریباً چھ ہزار افراد ہلاک یا پھر زخمی ہوئے۔ ان میں سے بیشتر ہلاکتیں طالبان اور حکومتی فورسز کے درمیان لڑائی کا نتیجہ ہیں جو قطری امن مذاکرات کے باوجود جاری ہے۔

 ص ز/ ج ا (اے ایف پی، اے پی)

ویڈیو دیکھیے 03:40

’افغانستان کی ملالہ‘ ایک با ہمت لڑکی کی کہانی

DW.COM