افغانستان: امریکی بیس پر راکٹ حملے اور غزنی میں 15 بچے ہلاک | حالات حاضرہ | DW | 19.12.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

افغانستان: امریکی بیس پر راکٹ حملے اور غزنی میں 15 بچے ہلاک

امریکا کے بگرام ایئر فیلڈ پر ہفتے کی صبح راکٹ داغے گئے ہیں۔ دوسری جانب غزنی میں کیے گئے موٹر سائیکل بم کے پھٹنے سے جو حملہ ہوا، اِس میں پندرہ بچوں کی ہلاکت ہوئی تھی۔

مشرقی افغان صوبے میں بارود سے لدے موٹر سائیکل کے پھٹنے سے پندرہ بچوں کی ہلاکت کی تصدیق کر دی گئی ہے۔ یہ حملہ جمعے کے دن کیا گیا تھا۔ دوسری جانب اس حملے کے چند گھنٹوں کے بعد افغانستان میں سب سے اہم اور بڑے امریکی فوجی اڈے پر راکٹوں سے حملہ کیا گیا۔ یہ دونوں واقعات ایسے واقت میں رونما میں ہوئے ہیں جب صدر اشرف غنی کی حکومت اور طالبان عسکریت پسندوں کی قیادت امن مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس مذاکراتی عمل کا اگلا راؤنڈ افغان دارالحکومت کابل میں منعقد کرانے کا صدر غنی نے اعلان کیا ہے۔

پومپیو کی طالبان مذاکرات کاروں سے ملاقات، کابل میں راکٹ حملے

بگرام ایئر فیلڈ پر راکٹ حملہ

ہفتہ انیس دسمبر کی صبح چھ بجے کے قریب کم از کم پانچ راکٹ بگرام کے امریکی فوجی اڈے پر گرے۔ بگرام یا پروان صوبے کی انتظامیہ نے جانی و مالی نقصان کی تفصیلات ظاہر نہیں کی ہیں۔ ایسا ضرور بتایا گیا ہے کہ راکٹ حملے سے کوئی انسانی جان ضائع نہیں ہوئی ہے۔ اس حملے کی ذمہ داری کسی عسکریت پسند گروپ نے بھی قبول نہیں کی ہے۔

رواں برس اپریل میں ایسے ہی ایک راکٹ حملے کی ذمہ داری 'اسلامک اسٹیٹ‘  نامی جہادی تنظیم نے قبول کی تھی۔ یہی جہادی تنظیم افغان دارالحکومت کابل کے رہائشی اور تعلیمی اداروں پر بھی کئی دہشت گردانہ حملے کر چکی ہے۔ یہ امر اہم ہے کہ گزشتہ ہفتوں میں افغانستان میں دہشت گردانہ کارروائیوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

Afghanistan | Kampf um Kunduz

بگرام کے امریکی فوجی اڈے پر رواں برس اپریل میں جہادی تنظیم اسلامک اسٹیٹ نے حملہ کیا تھا

قران پڑھتے بچے دہشت گردی کا نشانہ

افغان صوبے غزنی کے حکام کے مطابق جو بچے موٹر سائیکل پر لدے بارود کے پھٹنے سے ہلاک ہوئے، وہ ایک گھر میں جمعے کی نماز کے بعد قران کی تلاوت میں مصروف تھے۔ دہشت گردی کا یہ واقعہ غزنی صوبے کی شہر گیلان (جیلان) میں ہوا۔ زخمی افراد کی تعداد بیس ہے اور ان میں بھی بچے شامل ہیں۔ غزنی صوبے کے گورنر کے ترجمان وحید اللہ جمعہ زادہ نے ایک درجن سے زائد بچوں کے دہشت گردانہ واقعے میں ہلاک ہونے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قران پڑھتے بچوں کو مارنا ایک بہیمانہ اور ظالمانہ فعل ہے۔

مذاکرت میں برتری کے لیے عسکریت پسندوں کے حملے

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ کابل حکومت کے ساتھ جاری مذاکراتی سلسلے میں طالبان عسکری تحریک 'اپر ہینڈ‘ حاصل کرنے کی کوشش میں ہے اور حملوں کی کڑیاں اسی سی ملتی ہیں۔ ایسے حملوں میں دیہی علاقوں میں متعین حکومتی فوجیوں کو نشانہ بھی بنایا جاتا ہے۔ طالبان اور کابل حکومت کے درمیان امن اور مصالحت مذاکرات رواں برس ستمبر میں شروع ہوئے تھے۔

افغانستان میں دو خودکش حملے، کم از کم 34 ہلاک

فروری سن 2020 میں امریکا اور طالبان کے درمیان امن ڈیل طے ہونے کے بعد ستمبر تک کیے گئے حملوں میں ہونے والی ہلاکتیں دو ہزار ایک سو سے تجاوز کر گئی ہیں اور زخمی چار ہزار کے قریب ہیں۔ ستمبر کے بعد ہونے والی ہلاکتوں اور حملوں کے اعداد و شمار اقوام متحدہ کے مقامی دفتر نے فراہم نہیں کیے۔ دوسری جانب افغان فوج کو حالیہ مہینوں میں ایک اور تنظیم 'اسلامک اسٹیٹ‘  کے خونی حملوں کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

ع ح، ا ا (اے ایف پی، روئٹرز)