افریقی دستے گیمبیا میں داخل، صدر یحییٰ کے لیے ایک روزہ مہلت | حالات حاضرہ | DW | 20.01.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افریقی دستے گیمبیا میں داخل، صدر یحییٰ کے لیے ایک روزہ مہلت

مغربی افریقی رہنماؤں نے گیمبیا میں حالیہ صدارتی الیکشن ہارنے والے صدر یحییٰ جامع کو خبردار کیا ہے کہ اگر وہ اقتدار سے الگ نہ ہوئے تو افریقی فوجی دستے انہیں زبردستی ہٹا دیں گے۔

خبر رساں ادارے اے پی نے مغربی افریقی ممالک کی تنظیم ایکواس ECOWAS  کے حوالے سے بتایا ہے کہ گیمیبا کے صدر یحییٰ جامع کو جمعہ بیس جنوری دوپہر تک کی مہلت دی گئی ہے کہ وہ الیکشن کے نتائج کا احترام کرتے ہوئے اقتدار سے الگ ہو جائیں، ورنہ علاقائی فورسز ایکشن کرتے ہوئے انہیں زبردستی منصب صدارت سے الگ کر دیں گی۔ ایکواس کے چیئرمین مارسیل ایلاں  ڈی سوزا نے کہا کہ جامع کے پاس بس جمعے کی دوپہر تک کا وقت ہے۔

مغربی افریقی علاقائی فورسز ٹینکوں سمیت گیمبیا میں داخل ہو چکی ہیں جبکہ انہیں ملکی فورسز کی طرف سے کسی قسم کی مزاحمت کا سامنا نہیں ہے۔ ڈی سوزا کے مطابق گیمبیا کے نئے صدر آدم بیرو کے حلف اٹھانے کے بعد یہ فورسز گیمبیا میں داخل ہوئی ہیں، جن میں سینیگال، گھانا، نائیجیریا، ٹوگو اور مالی کے دستے بھی شامل ہیں۔ ڈی سوزا نے بتایا کہ یحییٰ جامع کی طرف سے منتقلی اقتدار سے انکار کے نتیجے میں اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل نے علاقائی فورسز کی طرف سے مداخلت کی حمایت بھی کر دی ہے۔

Senegal Gambias neuer Präsident Adama Barrow (picture-alliance/AP Photo)

آدم بیرو نے انیس جنوری کو ہمسایہ ملک سینیگال میں واقع ملکی سفارتخانے میں بطور صدر حلف اٹھایا

گیمبیا میں گزشتہ برس دسمبر کے انتخابات میں کامیاب ہونے والے آدم بیرو نے ہمسایہ ملک سینیگال میں واقع ملکی سفارتخانے میں بطور صدر حلف اٹھایا۔ وہ اپنی سکیورٹی کی خاطر ملک سے فرار ہوئے تھے۔ ادھر سینیگال کے فوجی ترجمان نے کہا ہے کہ اگر یحییٰ جامع صدارت کے منصب سے الگ نہیں ہوتے تو سکیورٹی فورسز اپنا آپریشن شروع کر دیں گی۔ یحییٰ اس وقت دارالحکومت بنگوئی میں واقع اپنی سرکاری رہائش گاہ میں موجود ہیں۔

دوسری طرف ایکواس کے رہنما یحییٰ سے مذاکرات کی کوشش بھی جاری رکھے ہوئے ہیں کہ وہ ملکی سیاسی بحران کے خاتمے کی خاطر اقتدار سے الگ ہو جائیں۔ گزشتہ بائیس برسوں سے اقتدار میں رہنے والے یحییٰ نے ایکواس سے کہا ہے کہ وہ مشروط طور پر اقتدار سے الگ ہونے کو تیار ہیں۔ یحییٰ کے مطابق انہیں مکمل قانونی استثنیٰ دیا جائے تاکہ اگر ان سے کسی جرم کا ارتکاب ہوا بھی ہے، تو انہیں سزا نہ دی جا سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کے علاوہ انہیں گیمبیا میں رہنے کی اجازت بھی دی جائے۔ تاہم ڈی سوزا کے مطابق یحییٰ کی یہ شرائط ناقابل قبول ہیں۔

Gambia Präsident Yahya Jammeh (picture-alliance/AP Photo/J. Delay)

گزشتہ بائیس برسوں سے اقتدار میں رہنے والے یحییٰ نے ایکواس سے کہا ہے کہ وہ مشروط طور پر اقتدار سے الگ ہونے کو تیار ہیں

ایکواس کے چیئرمین مارسیل ایلاں ڈی سوزا کا کہنا ہے کہ یحییٰ کی گیمبیا میں مستقل رہائش سے ’نقص امن کا خطرہ ہے اور اس سے ملک میں دہشت گردی کی تحریکوں‘ کو بھی تقویت مل سکتی ہے۔ میڈیا رپورٹوں کے مطابق گیمبیا کی فوج نئے ملکی صدر کی حمایت کرتی ہے اور وہ یحییٰ کے خلاف علاقائی فورسز کی کارروائی میں کوئی رخنہ بھی نہیں ڈالے گی۔ گیمبیا کی فوج تقریباﹰ دو ہزار فوجیوں پر مشتمل ہے۔

اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق گیمبیا کے سیاسی بحران کے باعث اب تک 45 ہزار افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس مغربی افریقی ملک میں سکیورٹی کی صورتحال بہتر نہ ہوئی تو مزید شہری ہمسایہ ممالک کی طرف فرار ہونے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ علاقائی دستوں کی ممکنہ مداخلت کے باعث گیمبیا کے شہریوں میں خوف و ہراس پھیل چکا ہے۔

DW.COM