اظہر علی نے محمد عامر کو قبول کر لیا | کھیل | DW | 24.01.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

اظہر علی نے محمد عامر کو قبول کر لیا

اسپاٹ فکسنگ میں سزا بھگتنے والے پاکستانی فاسٹ بالر کی واپسی کے راستے میں ایک اور پیشرفت ہوئی ہے۔ ان کی مخالفت کرنے والے ون ڈے ٹیم کے کپتان اظہر علی نے بالآخر انہیں نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز کے لیے ٹیم میں قبول کر لیا ہے۔

اظہر علی کی جانب سے قبل ازیں محمد عامر کو نیوزی لینڈ کے دورے کے تناظر میں لگائے گئے تربیتی کیمپ میں شامل کیے جانے پر احتجاج کیا گیا تھا۔ انہوں نے پانچ سالہ پابندی کے بعد محمد عامر کی قومی کرکٹ ٹیم میں واپسی کی سخت مخالفت کی تھی۔ تاہم پاکستانی ٹیم کے ون ڈے کے لیے کپتان اظہر علی نے ویلنگٹن میں ہونے والے پہلے میچ سے ایک روز قبل کہا ہے کہ انہوں نے محمد عامر سے بات کی ہے اور وہ امید کر رہے ہیں کہ 23 محمد عامر ٹیم کے لیے فائدہ مند ثابت ہوں گے۔

آج اتوار 24 جنوری کو ویلنگٹن میں ٹیم پریکٹس کے دوران خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’ہم اب آگے بڑھ چکے ہیں۔ ہم متحد ہیں اور چیلنج سے نمٹنے کے لیے پر امید ہیں۔‘‘ اظہر علی کا مزید کہنا تھا، ’’میرا مؤقف جو بھی تھا، میرا کام ٹیم کو لیڈ کرنا اور ڈریسنگ روم میں ہم آہنگی قائم رکھنا ہے۔‘‘

نیوزی لینڈ کا دورہ کرنے والی پاکستانی ٹیم میزبان کے خلاف تین ٹی ٹونٹی میچوں کی سیریز مکمل کر چکی ہے۔ اس سیریز میں پاکستانی ٹیم کو ایک کے مقابلے میں دو میچوں سے شکست ہوئی۔ ٹی ٹونٹی کے کپتان شاہد آفریدی نے محمد عامر کو ٹیم میں شامل کیا تھا تاہم وہ کوئی غیر معمولی کارکردگی نہ دکھا سکے۔ اس سیریز میں محمد عامر نے 11 اوورز کرائے، ایک وکٹ لی اور 100 سے زائد رنز دیے۔

ہم اب آگے بڑھ چکے ہیں۔ ہم متحد ہیں اور چیلنج سے نمٹنے کے لیے پر امید ہیں، اظہر علی

ہم اب آگے بڑھ چکے ہیں۔ ہم متحد ہیں اور چیلنج سے نمٹنے کے لیے پر امید ہیں، اظہر علی

پاکستانی اسکواڈ میں اس وقت محمد عرفان، وہاب ریاض، اور راحت علی بھی بطور فاسٹ بالر شامل ہیں اور کپتان کے پاس میچ کے لیے ان میں مناسب بالرز کو شامل کرنے کا امکان موجود ہے۔ اظہر علی کے مطابق، ’’ظاہر ہے کہ ہم ایک ایسا کمبینیشن کھلائیں گے جو ان حالات اور ہوا کی صورتحال کے حوالے سے بہترین ہو۔ ہم ان حالات میں بالنگ کی پریکٹس کرتے رہے ہیں اور ہر ایک تیار ہے۔‘‘

2010ء میں اسپاٹ فکسنگ سے قبل محمد عامر کو انٹرنیشنل کرکٹ کا ایک اثاثہ قرار دیا جاتا تھا۔ اسپاٹ فکسنگ کے اس معاملے میں اس وقت کے ون ڈے کپتان سلمان بٹ اور فاسٹ بالر محمد آصف بھی ملوث تھے۔ ایک ٹین ایجر کے طور پر محمد عامر اُس وقت تک 14 ٹیسٹ میچوں میں 51 وکٹیں، 15 ون ڈے میچوں میں 25 جبکہ 18 ٹی ٹونٹی میچوں میں 23 وکٹیں لے چکے تھے۔

پاکستان نے نیوزی لینڈ کے اس دورے کے دوران میزبان ٹیم کے خلاف تین ون ڈے میچ کھیلنے ہیں۔ پہلا میچ کل پیر 25 جنوری کو ویلنگٹن میں کھیلا جائے گا۔ دوسرا میچ جمعرات 28 جنوری کو نپیئر میں جبکہ تیسرا اور آخری ون ڈے اتوار 31 جنوری کو آکلینڈ میں ہو گا۔