اسپین میں ’شدت پسندی کو فروغ دینے والے‘ تین پاکستانی بھائی گرفتار | حالات حاضرہ | DW | 01.07.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اسپین میں ’شدت پسندی کو فروغ دینے والے‘ تین پاکستانی بھائی گرفتار

اسپین میں تین پاکستانی بھائیوں کو پولیس نے سوشل میڈیا کے ذریعے شدت پسندی اور دہشت گردانہ کاروائیوں کو فروغ دینے کے الزام میں حراست میں لے لیا ہے۔

Belgien Polizeieinsatz in Brüssel-Molenbeek

25 سے 31 برس کے ان تین بھائیوں کو جمعے کے روز شمال مشرقی شہر للیدا میں ان کے گھر سے گرفتار کیا گیا ہے

ہسپانوی وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق 25 سے 31 برس کے ان تین بھائیوں کو جمعے کے روز شمال مشرقی شہر للیدا میں ان کے گھر سے گرفتار کیا گیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ بھائی شدت پسند تنظیم اسلامک اسٹیٹ کی جانب سے کیے جانے والے اجتماعی قتل، خودکش حملوں، اور اسلامی قوانین کی حمایت اور شعیہ مذہب کے خلاف سوشل میڈیا پر ویڈیوز اور پیغامات اپ لوڈ کرتے تھے۔

ان پاکستانیوں پر انٹرنیٹ پر طالبان اور پاکستان کے دیگر شدت پسند گروہوں کے حق میں پراپیگنڈا کرنے کا بھی الزام عائد کیا گیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ شدت پسندانہ روپے کو فروغ دینے والے ان افراد کو سوشل میڈیا پرکئی افراد فالو کر رہے تھے۔ متعلق ادارے اب تک یہ اندازہ نہیں لگا سکے کہ ان کا تعلق کسی بڑے انتہا پسند گروہ سے ہے یا نہیں۔

اس سال کے آغاز سے اسپین کی پولیس نے ایسے 29 افراد کو حراست میں لیا ہے جو یا تو داعش کا حصہ تھے یا اس گروہ کی حمایت میں کام کر رہے تھے۔

Belgien Polizisten bei einer Festnahme in Molenbeek

ان پاکستانیوں پر انٹرنیٹ پر طالبان اور پاکستان کے دیگر شدت پسند گروہوں کے حق میں پراپیگنڈا کرنے کا بھی الزام عائد کیا گیا ہے

واضح رہے کہ تین روز قبل استنبول کے اتاترک ائیرپورٹ پر خودکش حملے میں 44 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ ترکی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ یہ ہلاکت خیز حملہ ’اسلامک اسٹیٹ‘ کی کاروائی معلوم ہوتی ہے۔

DW.COM