اسلحے کی فروخت، امریکا سرفہرست | حالات حاضرہ | DW | 10.12.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

اسلحے کی فروخت، امریکا سرفہرست

امریکی کمپنیاں دنیا بھر میں اسلحے سے متعلق ساز وسامان کا نصف سے زائد حصہ تیار کر رہی ہیں۔ یہ بات اسٹاک ہوم پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ SIPRI نے اپنی سالانہ رپورٹ میں بتائی ہے۔ رپورٹ کے مطابق روس بھی اس دوڑ میں آگے بڑھ رہا ہے۔

سویڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہوم میں قائم بین الاقوامی ریسرچ انسٹیٹوٹ ’ اسٹاک ہوم پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ‘ یا SIPRI کی طرف سے آج پیر 10 دسمبر کو اسلحہ سازی اور اس کی فروخت کے حوالے سے سالانہ رپورٹ جاری کی گئی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق امریکی کمپنی لاک ہِیڈ مارٹن بدستور دفاعی ساز وسامان تیار کرنے والی دنیا کی 100 سب سے بڑی کمپنیوں میں سرفہرست ہے۔ اس امریکی کمپنی نے سال 2017 کے دوران 44 بلین ڈالرز کا ساز وسامان فروخت کیا۔ اس طرح گزشتہ برس اس کمپنی کا منافع بھی سب سے زیادہ رہا۔

US-Kampfflugzeug F-35 Lightning | Paris Air Show

امریکی کمپنی لاک ہِیڈ مارٹن بدستور دفاعی ساز وسامان تیار کرنے والی دنیا کی 100 سب سے بڑی کمپنیوں میں سرفہرست ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق جرمنی کی کوئی بھی کمپنی سرفہرست 10 کمپنیوں میں شامل نہیں۔ جرمن شہر ڈوسلڈورف میں قائم رائن میٹال اے جی نامی کمپنی نے سال 2017 کے دوران 3.4 بلین ڈالرز مالیت کا دفاعی ساز وسامان فروخت کیا۔ سپری کی رپورٹ کے مطابق یہ جرمن کمپنی اسلحہ فروخت کرنے والی 100 سب سے بڑی کمپنیوں میں 25 ویں نمبر پر رہی۔ سب سے زیادہ اسلحہ فروخت کرنے والی 100 سب سے بڑی کمپنیوں میں جرمنی سے تعلق رکھنے والی صرف چار کمپنیاں شامل ہیں۔

سپری کی طرف سے جاری کردہ فہرست کے مطابق روسی کمپنی الماز-آنتے پہلی مرتبہ ٹاپ ٹین کی لسٹ میں شامل ہوئی ہے۔ یہ پیش رفت روسی صدر ولادیمیر پوٹن کی طرف سے 2017ء میں ملکی اسلحے کو جدید بنانے کا پروگرام شروع کرنے کے تناظر میں ہوئی ہے۔

ترکی کی طرف سے بھی اسلحہ سازی کی صنعت میں نمایاں پیشرفت سامنے آئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس کے دوران ترکی کے دفاعی ساز و سامان کی برآمدات میں 24 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

سپری کے مطابق چینی کمپنیاں بھی بڑی مقدار میں اسلحہ فروخت کر رہی ہیں تاہم ان کے بارے میں بہت کم اعداو شمار جاری کیے جاتے ہیں۔ اسی باعث چینی کمپنیوں کو اس فہرست میں شامل نہیں کیا گیا۔

ا ب ا / ع س (خبر رساں ادارے)

DW.COM