اسلام آباد: نشہ آور ادویات کا استعمال، طلبہ کے طبی معائنے | معاشرہ | DW | 09.05.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

اسلام آباد: نشہ آور ادویات کا استعمال، طلبہ کے طبی معائنے

پاکستان میں پہلی مرتبہ دارالحکومت اسلام آباد کے تمام تعلیمی اداروں میں ہر طرح کی نشہ آور ادویات یا تمباکونوشی کے استعمال کو مکمل طور پر روکنے کے لیے طلبہ و طالبات کا طبی معائنہ کرانے کا عمل شروع کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

 

وفاقی دارالحکومت کے انسپکٹرجنرل ڈاکٹر سلطان اعظم تیموری نے حال ہی میں اس بارے میں اعلان کرتے ہوئےکہا کہ شہر کے تقریباً تمام تعلیمی اداروں میں طلبہ آہستہ آہستہ نشہ آور اشیاء اور سگریٹ نوشی کا شکار ہو رہے ہیں اور نئی نسل کو نشے کی دلدل سے بچانے کے لیے اس اقدام کو شروع کیا جارہا ہے۔

اس حوالے سے ایک تقریب کے دوران ڈوئچے ویلے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس عمل کو کامیابی کے ساتھ پایہء تکمیل تک پہنچانے کے لیے والدین کا پولیس انتظامیہ کے ساتھ تعاون اہم ہے۔ تاہم، اسلام آباد پولیس اور اسلام آباد میٹروپولٹن کارپوریشن کی سربراہی میں شروع ہونے والے اس دیرینہ طبی معائنے کے عمل سے تعلیمی اداروں میں نشے آور ادویات کے استعمال اور ان تک طالبات کی رسائی کو روکنے میں بڑی حد تک مدد ملے گی۔

اسلام آباد پولیس نے اس حوالے سے تمام تعلیمی اداروں میں اساتذہ اور پولیس افسروں کی مدد سے جامع عوامی آگاہی مہم بھی شروع کردی ہے، جس میں والدین کو بھی ہر سطح پر شامل کیا جا رہا ہے۔اس مہم میں نفسیاتی ماہرین، ڈاکٹروں اور قانون دان بھی شامل ہیں۔

وفاقی پولیس انتظامیہ کی جانب سے اس حوالے سے ایک الگ ہیلپ لائن بھی قائم کردی گئی ہے، جس کے ذریعے کوئی بھی  تعلیمی اداروں میں نشے کے استعمال سے متعلق اس پرکال یا ایس ایم ایس کے ذریعے اطلاع دے سکتا ہے۔



وفاقی پولیس انتظامیہ کے سربراہ نے ڈوئچے ویلے سے بات کرتے ہوئے مزید کہا، "میں امید کرتاہوں کہ صوبائی حکومتیں بھی طبی معائنے کے اس عمل کو اپنے اپنے صوبوں کے تمام تعلیمی اداروں میں شروع کرنے کے حوالے سے کام کریں گی۔ تاکہ ملک بھر کے تعلیمی اداروں کو نشے کی اس لعنت سے بچایا جاسکے۔ اور اسی سلسلے میں وفاقی پولیس انتظامیہ صوبائی پولیس کو مدد فراہم کرنے کے لیے بھی ہر ممکن کوشش کرے گی۔"

ڈائریکٹر فیڈرل ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن امبر سلطانہ کے بقول نشے کے عادی طلبہ کو اس لعنت سے بچانے کے لیے ان کو مکمل طورپر طبی امداد بھی فراہم کی جائے گی تا کہ ان کی عادت کو مکمل طور پر ختم کیا جا سکے۔

پاکستان میں کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم ساؤتھ ایشیا اسٹریٹجک اسٹیبلٹی انسٹیٹیوٹ کی ایک سروے رپورٹ کے مطابق اسلام آباد کے خانگی اسکولوں کے53 فیصد کے لگ بھگ طلبہ نشہ آور ادویات استعمال کرتے ہیں۔ ان اسکولوں کے طلبہ ہیروئن، افیون، چرس اور خواب آور گولیاں یا دوسرے اقسام کی اشیاء استعمال کرتے ہیں۔

اس رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ شہر اور اس کے ملحقہ علاقوں میں قائم سرکاری ماڈل کالجوں کے سات سے آٹھ فیصد طلبہ جب کہ سرکاری اسکولوں میں پڑھنے والے ایک سے دو فیصد تک بچے نشے کے عادی ہو چکے ہیں۔

اسلام آباد میں واقع ساؤتھ ایشین اسٹریٹیجک اسٹیبلٹی انسٹیوٹ کی ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ماریہ سلطان کے مطابق نشے کی وبا آہستہ آہستہ ملک بھر کے تمام تعلیمی اداروں تک پھیل رہی ہے اور نئی نسل کو تباہ کرنے میں بیرونی اور اندرونی طاقتور عناصر شامل ہیں۔

ڈاکٹر ماریہ سلطان کا کہنا ہے کہ تعلیمی اداروں اور طلبہ کے ناموں کو خفیہ رکھنے کے لیے اس ادارے کی جانب سے اس اہم رپورٹ کو منظر عام پر نہ لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ تاہم، انہوں نے انتہائی افسوس کا اظہار کیا ہے کہ پاکستان کے دشمن ملک کے نوجوانوں کی زندگیوں کو تیزی سے تباہ کر رہے ہیں اور متعلقہ اداروں کی جانب سے انتہائی غفلت کا مظاہرہ کیا جارہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس غیر قانونی کاروبار میں ملوث عناصر کے خلاف سخت قانون سازی ناگزیر ہے۔

پاکستان میں چرس پینے کا حیرت انگیز رجحان

پاکستان میں نشے کے عادی افراد کی تعداد تقریباً سات ملین

منشیات کا استعمال، پاکستان میں بچے بھی متاثر

اسکولوں میں منشیات کا ٹیسٹ، روسی صدر کی تجویز

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ امور اور نارکوٹکس کنٹرول کے چیئرمین سینیٹرعبدالرحمن ملک ڈوئچے ویلے سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی پولیس انتظامیہ کی جانب سے اسکولوں میں نشہ آور ادویات کے استعمال کو روکنے کے لیے طلبہ کے طبی معائنے کے عمل کا شروع کیا جانا انتہائی احسن اقدام ہے۔ یہ عمل ملک بھر کے تعلیمی اداروں میں شروع کرکے نئی نسل کو نشے کا عادی ہونے سے بچانا ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں میں سال میں کم سے کم دو مرتبہ طلبہ کا یہ طبی معائنہ لازمی قرار دینا چاہیے اور اس کے لیے قانونی سازی کرنا ہو گی۔

سینیٹر رحمن ملک کے بقول وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں اتنے بڑے پیمانے پر طلبہ کا نشے کا عادی ہونا اسکولوں کے عملے کے ملوث ہوئے بغیر ممکن نہیں۔ تاہم وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو انسداد منشیات فورس اور پولیس کی مدد سے ایسے ممکنہ طور پر متاثرہ تعلیمی اداروں اور اس کی انتظامیہ پر کڑی نظر رکھنا ہوگی تاکہ طلبہ کو نشے کی ادویات تک رسائی دینے میں ملوث عناصر کے خلاف قانونی چارہ جوئی کر کے عبرتناک سزائیں دی جاسکیں۔ انہوں تجویز دی کہ اُن تعلیمی اداروں پر جرمانے لگائے جائیں، جو بچوں کو تمباکونوشی اور نشہ آور ادویات کے استعمال سے پاک ماحول مہیا کرنے میں ناکام ثابت ہورہے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارہ برائے ڈرگ اینڈ کرائم کی پاکستان میں ہیروئن اور چرس سمیت مختلف اقسام کے نشے کے استعمال کے حوالے سال 2013 میں جاری ہونے والی ایک جامع تحقیقی رپورٹ کے مطابق ملک میں 67لاکھ لوگ وقتاً فوقتاً مختلف قسم کا نشہ کرتے ہیں اور ان میں سے عادی نشہ آوروں کی تعداد 40 لاکھ سے زیادہ ہے۔


اس رپورٹ کے مزید اعداد و شمار کے مطابق نشہ استعمال کرنے والے لوگوں میں بڑی تعداد 15سے39 سال کی درمیانی عمر کے لوگوں کی ہے۔ تقریباً آٹھ لاکھ لوگ ہیروئن اور دو لاکھ افیون کے عادی ہیں جبکہ باقی چرس، بھنگ جیسے نشے کے علاوہ گولیوں اور انجکشن کی صورت میں نشہ آور ادویات استمعال کرتے ہیں۔ تاہم ان میں عورتوں کی تعداد 28 فیصد کے آس پاس ہے۔

اس رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان میں سالانہ 20 ٹن ہیروئن اور 132 ٹن افیون استعمال کی جاتی رہی ہے۔

عالمی ادارہ برائے صحت کی بین الاقوامی سطح پر دنیا کے مختلف ممالک میں تمباکونوشی کی صورتحال کے متعلق ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں37 فیصد لوگ تمباکو نوشی کرتے ہیں، جن میں خواتین کی تعداد چھ فیصد کے لگ بھگ ہے۔ رپورٹ میں ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ سال 2025 تک ملک میں تمباکونوشی کرنے والے لوگوں کی تعداد کُل آبادی کا 50 فیصد تک ہوسکتی ہے۔

عالمی ادارہ برائے صحت کے پاکستان میں نمائندہ ڈاکٹر محمد اسائی ارداکانی کا کہنا ہے کہ پاکستان میں لوگ مختلف معاشی اور سماجی مسائل کے باعث تمباکونوشی کے ساتھ ہیروئن، افیون اور چرس کے نشے کی دلدل میں پھنتسے جارہے ہیں۔ تاہم ملک میں تمباکونوشی اور لوگوں میں نشے کے استعمال کو روکنے کے لیے ان سماجی و معاشی مسائل کو حل کرنے کے ساتھ ساتھ ملک میں بڑے پیمانے پر نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے ہونگے۔
 

 

DW.COM