اسلام آباد دھرنے کے خلاف آپریشن+++ اپ ڈیٹس+++ | حالات حاضرہ | DW | 25.11.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اسلام آباد دھرنے کے خلاف آپریشن+++ اپ ڈیٹس+++

اسلام آباد میں گزشتہ تین ہفتوں سے جاری دھرنے کے خاتمے کے لیے آپریشن۔ درجنوں افراد زخمی۔ اس بابت اپ ڈیٹس یہاں پڑھیے

16:36GMT ہفتے کے روز پولیس اور مظاہرین کے مابین ہونے والی جھڑپوں میں مجموعی طور پر چھ افراد ہلاک اور تقریبا 200 زخمی ہوئے ہیں۔ گولیاں لگنے سے ہلاک ہونے والے پانچ شہریوں کو بے نظیر بھٹو ہسپتال جبکہ ایک کو ہولی فیملی ہسپتال لایا گیا۔

16:00GMT پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد میں پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال کو کنٹرول کرنے کے لیے فوج کو طلب کر لیا گیا ہے۔ فوج کو طلب کرنے کے احکامات وزارت داخلہ کے کہنے پر اسلام آباد کیپیٹل اتھارٹیز نے جاری کیے ہیں۔ 

11:30GMT پولیس کی جانب سے دھرنے کے خاتمے کے لیے جاری کارروائی عارضی طور پر معطل کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

11:15GMTِ وفاقی وزیرداخلہ احسن اقبال کے مطابق عدالتی احکامات کی بجاآوری کرتے ہوئے دھرنے کے خاتمے کے لیے کارروائی کی گئی کیوں کہ ہرممکن پرامن کوشش کی گئی تاہم دھرنے کے شرکاء نے امن کا راستہ اختیار نہیں کیا۔ 

10:40GMTِ پاکستان کے جنوبی شہر کراچی میں مظاہرین نے متعدد علاقے بند کر دیے ہیں۔ شہر کے کئی علاقوں میں شدید کشیدگی پیدا ہو گئی ہے۔ 

10:00GMTِ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور فوجی سربراہ قمر جاوید باجوہ کے درمیان دھرنے کے خاتمے کے لیے جاری کارروائی کے موضوع پر گفت گو ہوئی۔

09:50GMTِ پاکستان کے متعدد حصوں سے انٹرنیٹ صارفین کی جانب سے سوشل میڈیا نیٹ ورکس تک رسائی میں مشکلات کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ 

09:30GMTِ: پولیس اور مظاہرین کے درمیان جاری جھڑپوں میں زخمیوں کی تعداد ڈیڑھ سو سے تجاوز کر گئی ہے۔

پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے ایک اہم داخلی اور خارجی راستے پر گزشتہ تین ہفتوں سے مذہبی جماعت تحریکِ لبیک یارسول اللہ سے تعلق رکھنے والے رہنما اور مظاہرین دھرنا دیے بیٹھے تھے۔ اس دھرنے کے خاتمے اور مظاہرین کو پرامن انداز سے منتشر ہو جانے کے سلسلے میں حکومت کی طرف سے دی جانے والی تمام ہدایات نظرانداز کر دیے جانے پر ہفتے کی صبح پولیس کی بھاری نفری نے اپنی کارروائی کا آغاز کر دیا۔

پولیس کی بھاری نفری اس دھرنے کے خاتمے کے لیے مظاہرین کے خلاف آنسو گیس اور تیز دھار پانی کا استعمال کر رہے ہیں۔

پاکستان فوج کے سربراہ قمر جاوید باجواہ نے پرامن انداز سے دھرنے کے خاتمے کی ضرورت پر زور دیا ہے اور تشدد سے اجتناب برتنے کا مشورہ دیا ہے۔ 

دھرنے کو طاقت کے زور پر ختم کرنے کے تناظر میں ملک کے متعدد حصوں میں کشیدگی پیدا ہو گئی ہے اور بعض مقامات پر مظاہرے بھی شروع ہو گئے ہیں۔ پاکستان میں میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کی جانب سے متعدد علاقوں میں نجی ٹی وی چینلز کی نشریات کی بندش کی اطلاعات ہیں۔

ایک سینیئر پولیس افسر عصمت اللہ جونیجو نے بتایا کہ اس دھرنے میں قریب تین سو افراد شامل تھے، جن کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج اور آنسوگیس کا استعمال کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس کارروائی میں شریک پولیس اہکاروں کو ہتھیار نہیں دیے گئے ہیں اور وہ فقط آنسوگیس یا پانی کی تیز دھاروں کا استعمال کر رہے ہیں۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق مزاحمت کرنے والے درجنوں مظاہرین کو حراست میں لیا گیا ہے، جب کہ پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کا کہنا ہے کہ مظاہرین کی جانب سے پولیس اہلکاروں پر پتھراؤ اور پولیس کے لاٹھی چارج کے نتیجے میں متعدد مظاہرین اور پولیس اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں، جنہیں مختلف ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔
پاکستانی حکومت کی جانب سے اس دھرنے کے خاتمے کے لیے متعدد مرتبہ کوشش کی گئی، تاہم یہ بات چیت کسی نتیجے پر نہ پہنچی۔ یہ مظاہرین ایک پارلیمانی بل سے پیغمبراسلام سے متعلق ایک حوالہ حذف کرنے پر وزیرقانون زاہد حامد کے استعفے کے مطالبے پر ڈٹے ہوئے تھے۔
زاہد حامد نے پارلیمانی بل میں پیغمبر اسلام کی بابت ’آخری رسول‘ کے الفاظ نہ لکھنے پر معذرت کی تھی اور کہا تھا کہ ایسا فقط ’دفتری غلطی‘ کے باعث ہوا، جسے بعد میں درست کر دیا گیا۔
تاہم اس دھرنے کے رہنماؤں نے یہ معذرت قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے زاہد حامد کے استعفے تک دھرنا جاری رکھنے کے اعلان کیا تھا۔ ہفتے کے روز یہ پولیس کارروائی عدالتی احکامات کے تناظر میں کی گئی ہے، جس میں کہا گیا تھا کہ دھرنے کی وجہ سے اسلام آباد کے شہریوں کے معمولات زندگی متاثر ہو رہے ہیں۔

 

 

اشتہار