اسلام آباد: درختوں کی کٹائی کے خلاف شہری متحد | سائنس اور ماحول | DW | 12.12.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

اسلام آباد: درختوں کی کٹائی کے خلاف شہری متحد

اسلام آبادی کی شہری انتظامیہ سڑکیں کشادہ کرنے کے لیے درخت کاٹنا چاہتی ہے لیکن اب شہری درختوں کی کٹائی اور شہر سے غائب ہوتے ہوئے سبزہ زار کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔

ایک دہائی قبل سلیمان شمس نامی آرٹسٹ نے لاہور کو خیرباد کہتے ہوئے سرسبز و شاداب اسلام آباد میں رہائش اختیار کرنے کا فیصلہ کیا اور اپنے خاندان سمیت اسلام آباد میں بس گئے۔ دو سال قبل 41 سالہ سلیمان کو سانس کی بیماری نے آن گھیرا اور اب وہ گھر سے ناک اور منہ کو ماسک سے ڈھکے بغیر نہیں نکل سکتے۔

درالحکومت اسلام آباد میں جیسے جیسے آبادی میں اضافہ ہو رہا ہے، ویسے ہی وہاں موجود گھروں کی تعمیر، بڑھتے کاروبار اور ٹریفک کے ہجوم کے لیے کشادہ سڑکوں کی تعمیر کا کام بھی مستقل بنیادوں پر کیا جا رہا ہے۔ ان ترقیاتی و تعمیراتی کاموں سے جو چیز سب سے زیادہ متاثر ہوئی، وہ ہے اسلام آباد کی سرسبز و شادابی اور اس شہر کی پہچان سمجھے جانے والے ہرے بھرے درخت۔ سلیمان اور اسلام آباد کے بعض رہاشیوں کے مطابق درختوں کی کٹائی سے نہ صرف بارشوں میں کمی آ رہی ہے بلکہ آلودگی میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

سلیمان کہتے ہیں،’’2013 سے میں دیکھ رہا ہوں کہ اسلام آباد کی ہریالی میں کمی آتی جا رہی ہے اور درخت بہت تیزی سے یہاں سے ختم ہو رہے ہیں، جس سے اب یہ شہر دھول مٹی سے اٹا شہر نظر آتا ہے۔‘‘

لیکن اب شہری درختوں کی کٹائی اور شہر سے غائب ہوتے ہوئے سبزہ زار کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ حکام کی جانب سے وزیر اعظم کے آفس کے قریب اتاترک ایونیو کی توسیع کے سلسلے میں اکتوبر کے مہینے میں 24 گھنٹوں کے اندر اندر تقریبا دو سو درختوں کو کاٹ دیا گیا۔ شہریوں کے شدید ردعمل کے بعد نیشنل کمیشن برائے انسانی حقوق نے سپریم کورٹ کی حمایت سے مزید چار سو درختوں کی کٹائی کا منصوبہ معطل کروا دیا ہے۔

سپریم کورٹ نے کمیشن کو حکم دیا ہے کہ یہ تحقیق کی جائے کہ آیا کٹائی قانونی ہے یا غیر قانونی۔ نیز اسلام آباد کیپیٹل ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل برائے ماحول سلیمان شیخ کو بھی معطل کر دیا گیا۔

وفاقی قانون اور وزارت انسانی حقوق کے تحت کام کرنے والے کمیشن برائے انسانی حقوق نے حکام کو حکم دیا ہے کہ وہ درختوں کو کاٹنے کے بجائے 14 انچ قطر تک کے درختوں کو ایک جگہ سے اکھاڑ کر دوسری جگہ لگانے والی مشینوں کی خریداری کو زیر غور لائیں۔

درختوں کی کٹائی کے حوالے سے کیپیٹل ڈیویلپمنٹ اتھارٹی سے تعلق رکھنے والے پلاننگ اور ڈیزائن کے ماہر اسد کیانی کہتے ہیں کہ سی ڈی اے کی جانب سے کاٹے گئے درختوں کی جگہ 2400 چھوٹے پودے لگائے جا رہے ہیں تاکہ کاٹے گئے درختوں کی تلافی کی جا سکے۔ تاہم درختوں کی کٹائی پر احتجاج کرنے والی ایک خاتون شمائلہ نواز کہتی ہیں کہ پانچ سے سات فٹ کے لگائے گئے نئے پودے تیس سے چالس سال پرانے درختوں کا نعم البدل نہیں ہو سکتے، جو نہ صرف فضائی آلودگی میں کمی زیادہ بہتر طریقے سے کرتے ہیں بلکہ بارشوں کا بھی سبب بنتے ہیں۔

لانسٹ میڈیکل جرنل میں سن 2015 میں ایک رپورٹ شائع ہوئی تھی، جس کے مطابق پاکستان میں سالانہ 22 فیصد یعنی 311000 اموات کی وجہ فضائی آلودگی ہے۔

پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنس میں پھیپھڑوں کے ماہر ڈاکٹر منور خان مسعود کا کہنا ہے کہ وہ دن بدن پھیپھڑوں اور تنفس کے انفیکشن سے متعلق شکایات میں اضافہ دیکھ رہے ہیں اور اس کی بڑی وجہ اسلام آباد میں درختوں کی کٹائی ہے۔ ڈاکٹر مسعود کے مطابق اس وقت سالانہ پانچ سے آٹھ ہزار مریض سانس سے متعلق امراض کے علاج کے لیے اسلام آباد میں قائم اس سب سے بڑے سرکاری انسٹیٹیوٹ کا رخ کر رہے ہیں۔

درختوں کی کٹائی کے خلاف مظاہرے کرنے والوں کا کہنا ہے کہ وہ کسی بھی صورت ترقیاتی اور تعمیراتی کاموں کے نام پر درختوں کے گرانے کو انسانی جانوں پر فوقیت نہیں دینے دیں گے۔

اشتہار