اسلامی عقائد کی خلاف ورزی، نرم رویہ اختیار کرنے کا فیصلہ | معاشرہ | DW | 27.12.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

اسلامی عقائد کی خلاف ورزی، نرم رویہ اختیار کرنے کا فیصلہ

تہران پولیس کے مطابق ملک میں نافذ اسلامی قواعد کی خلاف ورزی کرنے والوں کو سزا دینے کے بجائے نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے ان کی تعلیم و تربیت کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ایرانی دارالحکومت تہران میں خطاب کرتے ہوئے بریگیڈئیر جنرل حُسینی رحیمی کا کہنا تھا،" پولیس کمانڈر کے فیصلے کے مطابق وہ افراد جو اسلامی قوانین و ضوابط پر عمل نہیں کرتے، آئندہ ان کو حراستی مراکز میں نہیں رکھا جائے گا اور نہ ہی ان کے خلاف کوئی عدالتی کاروائی کی جائے گی۔"

ان کا مزید کہنا تھا کہ اب تک 7913 افراد کو مختلف کورسز میں تعلیم دی گئی ہے جبکہ صرف تہران میں ہی سو سے زائد ایسے مراکز قائم کیے گئے ہیں اور ان میں خلاف ورزی کرنے والوں کو تعلیم دی جا رہی ہے۔

اپنے اس بیان میں رحیمی نے یہ واضع نہیں کیا کہ وہ کون سے اسلامی قواعد و ضوابط ہیں جن کی خلاف ورزی پر سزا نہیں دی جائے گی اور نہ ہی یہ واضع کیا کہ یہ نئی ہدایات کب جاری کی گئیں۔

حُسینی رحیمی کا یہ بیان سابقہ جنرل حُسینی ساجدینیہ کے اس اعلان سے یکسر مختلف ہے جس کے مطابق انہوں نے گزشتہ برس اپریل میں کہا تھا کہ سات ہزار سے زائد خفیہ پاسداران اخلاق ،غیر شرعی اور غیر اخلاقی حرکات کی رپورٹنگ پر معمور کیے جا رہے ہیں ۔ یہ خواتین کے غیر اسلامی لباس سے لے کر مختلف معاملات پر نظر رکھیں گے۔

اس طرح کے کیسوں کے حوالے سے بہت کم اعداد و شمار جاری کیے جاتے ہیں تاہم 2015 کے اواخر میں تہران ٹریفک پولیس کی جانب سے جاری اعداد وشمار کے مطابق گاڑیوں میں خواتین کے شرعی انداز میں سر نہ ڈھانپنے کے 40 ہزار کیس نمٹائے گئے، جن میں سزا کے طور پر جرمانہ عائد کرنے کے ساتھ ساتھ گاڑی کو عارضی ضبطی بھی شامل تھی۔

 

DW.COM