’اسلامک اسٹیٹ‘ کے یرغمالی بچے، خوف زدہ آنکھیں | حالات حاضرہ | DW | 14.07.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

’اسلامک اسٹیٹ‘ کے یرغمالی بچے، خوف زدہ آنکھیں

کئی برسوں تک جہادیوں کے ہاتھوں یرغمالی بنے رہنے والے نوجوان ذہنی طور پر ’مفلوج‘ اور شکستہ حال ہیں اور عراق میں واپس اپنے گھر پہنچ جانے پر بھی ان کی آنکھوں میں ایک انجانا خوف دیکھا جا سکتا ہے۔

درجنوں ایزدی اور ترکمانی بچے ایسے ہیں، جنہیں 'اسلامک اسٹیٹ‘ کے جہادیوں کے ہاتھ سے بچا لیا گیا۔ یہ بچے 'چائلڈ سولجر‘ اور 'جنسی غلام‘ کے طور پر استعمال کیے جاتے رہے، تاہم اس خود ساختہ خلافت کے خاتمے کے بعد اب یہ بچے آزاد تو ہیں، مگر اب بھی خوف اور صدمہ ان کے ہم راہ ہے۔

داعش کے خود کش حملوں میں بچوں کا مسلسل بڑھتا ہوا استعمال

داعش سے آزاد کرائے گئے علاقے سے اجتماعی قبر دریافت

ان میں سے بہت سے بچے ایسے ہیں، جو اب دوبارہ اپنے خاندانوں سے جا ملے ہیں، لیکن ماہرین کا خیال یہ ہے کہ ذہنی طور پر معمول پر آنے میں انہیں ایک طویل عرصہ درکار ہو گا، جب کہ مقامی سطح پر کم وسائل اور بہتر علاج نہ ہونے کی وجہ سے یہ بچے جہادیوں کے رویوں کی وجہ سے اب بھی کئی طرح کے نفسیاتی مسائل کا شکار ہیں۔

لاما، دس برس کی ایزدی بچی ہے، جو اب بھی بار بار خود کو چاقو سے ہلاک کرنے یا عمارت کی چھت سے چھلانگ لگا دینے کی دھمکی دیتی نظر آتی ہے۔ یہ بچی کئی ماہ قبل واپس عراق میں اپنے گھر پہنچی ہے۔

لاما کی 34 سالہ والدہ نسرین کے مطابق، ''مجھے خوف ہے کہ یہ دوبارہ کبھی عام ایزدی بچوں کی طرح نہیں ہو سکے گی۔‘‘ (اس مضمون میں متاثرہ افراد کی شناخت کے تحفظ کے لیے نام تبدیل کر کے لکھے گئے ہیں۔)

دس سالہ لاما کی زندگی کا قریب نصف 'اسلامک اسٹیٹ‘ کی حراست میں گزرا، جہاں اس سے اسلام 'قبول‘ کروایا گیا اور اسے اس کی مادری زبان کرد کی بجائے عربی سکھائی گئی۔

خانکے مہاجر بستی میں اے ایف پی کے ایک صحافی نے اس کیمپ کا دورہ کیا، جہاں یہ بچے موجود ہے۔ لاما، اسلامک اسٹیٹ کی قید سے آزادی پانے والے اپنے کزنز فیدی اور کرم کے ہم راہ اس دوران موبائل فون پر مسلسل گولیاں برساتے گیم کھیلنے میں مصروف ملی۔

لاما سیاہ لباس پہنتی ہے اور لڑکوں کی طرح اس کے بال چھوٹے ہیں۔ یہ تینوں بچے ایک دوسرے سے عربی زبان میں بات کرتے ہیں، تاہم لاما اپنی والدہ سے بات چیت کرتے ہوئے کرد زبان بولتی ہے۔

ویڈیو دیکھیے 02:33

عراقی مہاجر بچے تباہ کن صورتحال سے دوچار

نسرین کے مطابق اب تک کسی ماہرنفسیات ان تک نہیں پہنچا، ''یہ برین واشڈ ہیں۔ جب یہ بور ہوتے ہیں، تو ایک دوسرے  سے بات چیت میں دوبارہ جہادیوں کے پاس جانے کا ذکر کرتے ہیں۔‘‘

اقوام متحدہ کے بہبود اطفال کے ادارے یونیسیف سے وابستہ لیلیٰ علی کے مطابق جہادیوں کے زیرقبضہ علاقوں سے آزاد کرائے گئے قریب تمام بچوں کو شدید نوعیت کے ذہنی مسائل لاحق ہیں۔

یونیسیف کو تاہم یہ علم نہیں ہے کہ داعش میں کتنے بچے بھرتی کیے گئے، کتنے آزاد کرائے گئے اور اب وہ کہاں رہ رہے ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق مجموعی طور پر عراق میں جنوری 2014 تا دسمبر 2017 مختلف عسکری گروہوں نے 1324 بچے اغوا کیے، تاہم ایسے بچوں کی اصل تعداد ممکنہ طور پر کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔

ع ت، ع ح (اے ایف پی، روئٹرز)

DW.COM

Audios and videos on the topic