اسلاموفوبیا: آسٹریلوی سینیٹر کے متنازعہ بیان پر شدید تنقید | حالات حاضرہ | DW | 16.03.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

اسلاموفوبیا: آسٹریلوی سینیٹر کے متنازعہ بیان پر شدید تنقید

آسٹریلوی وزیر اعظم سکاٹ موریسن نے اعلان کیا ہے کہ کینبرا حکومت کرائسٹ چرچ کی دو مساجد میں شوٹنگ کے بعد ملکی پارلیمان کے ایوان بالا کے ایک رکن کے اسلاموفوبیا سے متعلق ایک متنازعہ اور قابل مذمت بیان پر ان کی سرزنش کرے گی۔

ان دہشت گردانہ حملوں میں انچاس افراد مارے گئے تھے

ان دہشت گردانہ حملوں میں انچاس افراد مارے گئے تھے

آسٹریلوی دارالحکومت کینبرا سے ہفتہ سولہ مارچ کو ملنے والی نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی رپورٹوں کے مطابق نیوزی لینڈ میں کل جمعے کے روز مسلمانوں کی دو مساجد پر ہلاکت خیز حملوں کے بعد آسٹریلیا میں کوئینزلینڈ سے تعلق رکھنے والے انتہائی دائیں بازو کے ایک سیاستدان اور ملکی سینیٹ کے ایک آزاد رکن فریزر ایننگ نے ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں لکھا تھا، ’’کیا اب بھی کسی کو اس بارے میں کوئی اعتراض ہے کہ مسلمان تارکین وطن کی آمد اور تشدد کے درمیان ایک باقاعدہ تعلق پایا جاتا ہے؟‘‘

ساتھ ہی سینیٹر فرزیر ایننگ نے اپنی ایک ٹویٹ میں مزید لکھا تھا، ’’مجھے یہ سوچ کر حیرانی ہو رہی ہے کہ جب مسلمانوں کی طرف سے اگلا دہشت گردانہ حملہ کیا جائے گا، تو کیا بائیں بازو کے سیاستدانوں کی طرف سے اس پر بھی اتنی ہی شدت سے غم و غصے کا اظہار کیا جائے گا؟‘‘

فریزر ایننگ نے اپنی اس ٹویٹ میں یہ بھی کہا تھا، ’’زیادہ امکان یہی ہے کہ پھر دوبارہ یہی کہا جائے گا کہ یہ حملہ کسی حملہ آور نے فرد واحد کے طور پر کیا، وہ کوئی ذہنی مریض تھا اور اس حملے کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔‘‘

Australien Scott Morrison

آسٹریلوی وزیر اعظم سکاٹ موریسن

Australischer Senator Fraser Anning im Senatssaal des Parlaments

آسٹریلوی سینیٹر فریزر ایننگ

اس آسٹریلوی سینیٹر نے اپنی اس ٹویٹ کے بعد ایک بیان بھی جاری کیا تھا، جس میں نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں دہشت گردانہ حملے کی مذمت تو کی گئی تھی، لیکن ساتھ ہی زور دے کر یہ بھی کہا گیا تھا کہ یہ ’’حملہ اس بڑھتے ہوئے خوف کی علامت ہے، جو مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی موجودگی کی وجہ سے پایا جاتا ہے۔‘‘

اس پر آج ہفتے کے روز آسٹریلوی وزیر اعظم سکاٹ موریسن نے کہا کہ ان کی قیادت میں موجودہ مخلوط حکومت میں شامل جماعتوں اور اپوزیشن کی لیبر پارٹی کے ساتھ مل کر اس بارے میں تبادلہ خیال کیا گیا ہے کہ اپریل میں جب ملکی پارلیمان کا اگلا اجلاس شروع ہو گا، تو ایک ایسی مشترکہ قرارداد پیش کی جائے گی، جو دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کی طرف سے ہو گی۔

موریسن نے کہا، ’’میں عام طور پر ایسی کسی بحث کو ہوا نہیں دینا چاہتا۔ لیکن جو باتیں سینیٹر ایننگ نے کہی ہیں، میں ان کی مکمل اور بھرپور طور پر مذمت کرنا چاہتا ہوں۔ انہوں نے اپنے ان بیانات میں خاص طور پر ایک مذہب کے طور پر اسلام پر حملہ کیا ہے۔‘‘

وزیر اعظم موریسن نے مزید کہا، ’’یہ بیانات واضح طور پر بیزار کن،، انتہائی بدنما اور قابل مذمت ہیں، جن کے لیے آسٹریلیا میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ سینیٹر فریزر ایننگ کو اپنے ان بیانات پر شرم آنا چاہیے۔‘‘

سکاٹ موریسن کے بقول، ’’مجھے یقین ہے کہ آسٹریلوی پارلیمان اس بارے میں اپنی رائے کا کھل کر اظہار کرے گی کہ سینیٹر فریزر ایننگ نے کیا کچھ کہا ہے۔ اس لیے کہ ایسے خیالات کی تو آسٹریلوی پارلیمان اور آسٹریلوی معاشرے دونوں میں کہیں بھی کوئی جگہ نہیں ہے۔‘‘

وزیر اعظم سکاٹ موریسن نے یہ بیانات ہفتے کے روز سڈنی میں ایک مسجد کے دورے کے بعد دیے۔ جہاں تک سینیٹر ایننگ کے خلاف سیاسی جماعتوں کی سطح پر کسی کارروائی کا تعلق ہے تو آسٹریلیا کی دونوں بڑی سیاسی جماعتیں اس بارے میں کچھ نہیں کر سکتیں کیونکہ وہ ملکی سینیٹ کے ایک آزاد رکن ہیں۔

م م / ع ح / ڈی پی اے

DW.COM