اسقاط حمل کے قانون میں نرمی کا فیصلہ | صحت | DW | 08.08.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

صحت

اسقاط حمل کے قانون میں نرمی کا فیصلہ

نیوزی لینڈ کی حکومت نے اسقاط حمل کے قانون میں نرمی پیدا کرنے کے ایک بل کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس بل پر ابتدائی رائے شماری جمعرات آٹھ اگست کو مکمل کر لی گئی ہے۔

نیوزی لینڈ کی پارلیمنٹ میں جو اسقاط حمل کا جو بل پیش کیا گیا ہے، اس کے مطابق کوئی بھی عورت حمل ٹھہرنے کے ابتدائی بیس ہفتوں کے دوران اسے گرائے جانے کے حوالے سے خصوصی کلینکس سے رجوع کر سکتی ہیں۔ نیوزی لینڈ کی پارلیمنٹ میں اس بل کی پہلی رائے شماری میں چورانوے اراکین نے حمایت کی اور تیئیس نے مخالفت میں ووٹ دیا۔

نیوزی لینڈ میں اس وقت اسقاط حمل ایک جرم ہے۔ یہ صرف اُسی صورت میں قانون طور پر جائز تسلیم کیا جاتا ہے جب معالجین کو یقین ہو جائے کہ کسی حاملہ عورت کی جان کو شدید خطرات لاحق ہیں اور حمل نہ گرانے سے حاملہ کی ذہنی حالت متاثر ہو سکتی ہے۔ ایسے صورت میں کم از کم دو ڈاکٹروں یا ماہرین کی رائے کا ہونا ضروری قرار دیا گیا ہے۔

USA Tennessee - Demonstration für Abtreibungsrechte Stop Abortion Bans Day of Action (Reuters/K. Pulfer Focht)

کئی ملکوں میں اسقاط حمل کے حق میؒ خواتین نے آواز بلند کر رکھی ہے

اسقاط حمل کا یہ سخت قانون سن 1977 میں متعارف کرایا گیا تھا۔ مقامی سماجی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قانون کی موجودگی میں بھی اسقاط حمل کا سلسلہ جاری رہا۔ اٹھانوے فیصد کیسوں مین حمل کو گرانے کے لیے حاملہ خواتین کی جان کو خطرات یا ذہنی پیچیدگیوں کے پیدا ہونے کا سہارا لیا جاتا رہا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق سن 2018 کے دوران نیوزی لینڈ میں ہر ایک ہزار خواتین میں سے 13.5 فیصد حاملہ خواتین کے حمل گرائے گئے۔ حمل گرانے والی خواتین کی عمریں چودہ سے چوالیس برس کے درمیان تھیں۔ نیوزی لینڈ میں اسقاط حمل کی یہ تعداد جرمنی (7.1) سے دوگنا رہی اور امریکا کے مساوی تھی۔

USA Washington - Demonstration für Abtreibungsrechte (Reuters/K. Lamarque)

امریکا میں بھی اساقاط حمل کے خلاف ایک مضبوط تحریک موجود ہے

پارلیمنٹ میں پیش کردہ اسقاط حمل کے مجوزہ بل کو حکومت کی حمایت حاصل ہے۔ اس بل کی منظوری کے بعد پہلے سے موجود اسقاط حمل کی رکاوٹوں کو دور کر دیا جائے گا۔ نئے بل کی منظوری کے بعد حمل ٹھہرنے کے بعد ابتدائی بیس ہفتوں کے دوران اسے گرایا جا سکے گا۔ اس بل کے لیے کسی سیاسی پارٹی کو مجبور نہیں کیا گیا بلکہ اراکین کو آزادی کے ساتھ ضمیر کے مطابق ووٹ دینے کو کہا گیا۔

نیوزی لینڈ کی خاتون وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن اس مجوزہ بل کی حمایت کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق اس قانون کی منظوری کے بعد کوئی خاتون اپنے حمل کو گرانے کے لیے جھوٹ کا سہارا نہیں لے گی۔ موجودہ قانون کے تحت کوئی عورت سچ بول کر حمل گرانا چاہتی ہے تو وہ مجرم قرار دی جاتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ نیا قانون ایک عورت کے وقار اور اُن کے حقوق کا ترجمان ہے۔

ع ح، ع ب، ڈی پی اے⁄  نیوز ایجنسیاں

ویڈیو دیکھیے 01:49

باویریا کے کیتھولک مسیحیوں میں اسقاط حمل متنازعہ

DW.COM

Audios and videos on the topic