اسرائیل نے 2020ء میں شام میں پچاس اہداف پر فضائی حملے کیے | حالات حاضرہ | DW | 31.12.2020

ڈی ڈبلیو کی نئی ویب سائٹ وزٹ کیجیے

dw.com کے بِیٹا ورژن پر ایک نظر ڈالیے۔ ابھی یہ ویب سائٹ مکمل نہیں ہوئی۔ آپ کی رائے اسے مزید بہتر بنانے میں ہماری مدد کر سکتی ہے۔

  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

اسرائیل نے 2020ء میں شام میں پچاس اہداف پر فضائی حملے کیے

شام میں اپنے فضائی حملوں سے متعلق اکثر خاموش رہنے والی اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ اس نے اس سال شام میں تقریباﹰ پچاس اہداف کو فضائی حملوں کا نشانہ بنایا۔ یہ حملے شامی فوج، ایرانی جنگجوؤں اور حزب اللہ کے فائٹرز پر کیے گئے۔

یروشلم سے سال 2020ء کے آخری روز ملنے والی رپورٹوں کے مطابق اسرائیلی فوج نے اپنے عمومی طرز عمل سے ہٹ کر آج جمعرات  کو بتایا کہ اس کے جنگی طیاروں نے رواں برس خانہ جنگی کے شکار ہمسایہ ملک شام میں مجموعی طور پر تقریباﹰ 50 اہم عسکری اہداف کو اپنے حملوں کا نشانہ بنایا۔

اسرائیلی فوج کی سالانہ رپورٹ

یہ بات اسرائیلی ڈیفنس فورسز کی اس سالانہ رپورٹ میں کہی گئی ہے، جو آج اکتیس دسمبر کو جاری کی گئی اور جس میں نشانہ بنائے گئے شامی عسکری اہداف کی کوئی تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔ صرف یہ کہا گہا کہ اسرائیلی جنگی طیاروں نےان حملوں میں دمشق حکومت کے فوجی دستوں کے علاوہ اسد حکومت کی اتحادی ایرانی فورسز اور لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے جنگجوؤں کو بھی ٹارگٹ بنایا۔

شام: اسرائیلی حملے میں متعدد پاکستانی جنگجو ہلاک

شامی خانہ جنگی کا آغاز 2011ء میں ہوا تھا اور تب سے اب تک اسرائیلی فضائیہ شام میں مجموعی طور پر سینکڑوں حملے کر چکی ہے۔ اسرائیلی ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف) کی سالانہ رپورٹ کے مطابق 2020ء کے دوران اسرائیلی جنگی طیاروں نے مجموعی طور پر شام میں 1400 مرتبہ اپنی 'آپریشنل پروازیں‘ کیں۔

شام میں ایرانی موجودگی کی مخالفت

اسرائیل برسوں سے یہ کہتا آیا ہے کہ اس کی پوری کوشش ہو گی کہ اس کا بڑا دشمن ملک ایران شام میں عسکری حوالے سے اپنے قدم جمانے نا پائے۔ دوسری طرف یہ بھی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ ایران نے، جو دمشق میں اسد حکومت کی حلیف بڑی غیر ملکی طاقتوں میں شمار ہوتا ہے، نہ صرف اپنے عسکری مشیر شام بھیج رکھے ہیں بلکہ شامی خانہ جنگی میں ایران کے یا ایران کی طرف سے بھرتی کیے گئے متعدد شیعہ ملیشیا گروہوں کے جنگجو بھی دمشق حکومت کی حمایت میں اسد مخالف قوتوں کے خلاف لڑ رہے ہیں۔

اسرائیل نے شام میں ایرانی اہداف کو نشانہ بنایا

جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کے مطابق اسرائیلی فوج کے ایک ترجمان نے بتایا کہ آج جاری کی گئی سالانہ رپورٹ میں 20 دسمبر تک کے عسکری اعداد و شمار شامل کیے گئے ہیں۔

تازہ ترین اسرائیلی حملہ تیس دسمبر کو کیا گیا

شام کی ایک نیوز ایجنسی نے ملکی فوجی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے جمعرات کے روز بتایا کہ شام میں حریف ہمسایہ ملک اسرائیل کی طرف سے تازہ ترین حملہ بدھ تیس دسمبر کو کیا گیا۔ یہ اسرائیل کی طرف سے فائر کیا گیا ایک ایسا میزائل تھا، جس کے ذریعے دمشق کے قریب شامی فوج کے ایک ٹھکانے کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

سعودی عرب بھی اسرائیلی اماراتی معاہدے میں شامل ہو گا، ٹرمپ پرامید

اس حملے میں ایک شامی فوجی ہلاک اور تین دیگر زخمی ہو گئے تھے۔ اس حملے کے بارے میں اسرائیلی فوج نے باقاعدہ طور پر کچھ بھی کہنے سے حسب روایت احتراز کیا۔

غزہ سے اسرائیل پر کیے گئے راکٹ حملے

اسرائیلی فوج کی سالانہ رپورٹ کے مطابق اس سال حماس کے زیر انتظام غزہ پٹی کے فلسطینی علاقے سے اسرائیل پر مجموعی طور پر 176 راکٹ فائر کیے گئے۔ ان میں سے 90 راکٹ کھلی جگہوں پر گرے اور ان سے کوئی نقصان نا ہوا۔ اس کے علاوہ غزہ پٹی سے فائر کیے گئے ان راکٹوں میں سے 80 کو اسرائیلی فضائی دفاعی نظام نے ہوا میں ہی تباہ کر دیا تھا۔

الیکشن جیتا تو مغربی کنارے کے مزید علاقے اسرائیل کا حصہ، نیتن یاہو

حماس اور اسرائیل کی تین جنگیں

فلسطینی عسکری اور سیاسی تنظیم حماس کے 2007ء میں غزہ پٹی کے خود مختار علاقے میں اقتدار میں آنے کے بعد سےاب تک اس کی اسرائیل کے ساتھ تین جنگیں ہو چکی ہیں۔ ان میں سے پہلی جنگ دسمبر 2008ء میں شروع ہوئی تھی، جب اسرائیل نے اپنے ہاں غزہ سے راکٹ حملوں کو روکنے کے لیے Operation Cast Lead کا آغاز کیا تھا۔

یہ جنگ مصر کی ثالثی کوششوں کے نتیجے میں جنوری 2009ء میں ختم ہوئی تھی اور اس میں 1440 فلسطینی اور 13 اسرائیلی مارے گئے تھے۔

م م / ک م (اے ایف پی، ڈی پی اے)