اسرائیل نے غزہ پٹی کی واحد سرحدی گزر گاہ بند کر دی | حالات حاضرہ | DW | 19.08.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

اسرائیل نے غزہ پٹی کی واحد سرحدی گزر گاہ بند کر دی

اسرائیل نے غزہ پٹی سے ملحق واحد سرحدی گزر گاہ کو بند کر دیا ہے۔ جمعے کو ہونے والے پرتشدد واقعات کے بعد یہ قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اب صرف ہنگامی صورتحال ہی میں کسی فلسطینی کو سرحد عبور کرنے کی اجازت دی جائے گی۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے اسرائیلی حکومت کے حوالے سے بتایا ہے کہ اتوار کے دن غزہ پٹی سے ملحق واحد سرحدی گزر گاہ کو بند کر دیا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ اب صرف ہنگامی صورتحال ہی میں کسی فلسطینی کے لیے یہ راستہ کھولا جائے گا۔

اسرائیلی وزیر دفاع ایوگڈور لیبرمان نے صحافیوں کو بتایا کہ جمعے کے دن اس گزرگارہ پر رونما ہونے والے پرتشدد واقعات کے بعد اس سرحدی راستے کو بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اس پیشرفت کے نتیجے میں اب غزہ پٹی میں موجود فلسطینی عید کی چھٹیوں کے دوران سفر کے قابل نہیں رہیں گے۔ اسرائیلی حکام نے اس بارے میں کوئی اطلاع نہیں دی کہ اس راستے کو دوباہ کب کھولا جائے گا۔ جمعے کے دن ہونے والی جھڑپوں کے نتیجے میں اسرائیلی فائرنگ کی وجہ سے دو فلسطینی ہلاک بھی ہو گئے تھے۔

اسرائیلی فوج نے بتایا ہے کہ جمعے کے دن فلسطینی مظاہرین نے فائر بموں کا استعمال بھی کیا اور متعدد فلسطینی کچھ دیر کے لیے اسرائیلی علاقوں میں داخل ہونے میں کامیاب بھی ہو گئے۔ تاہم اسرائیلی دفاعی افواج نے فوری کارروائی کرتے ہوئے انہیں واپس غزہ پٹی کی طرف دھکیل دیا۔ اس واقعے میں کوئی اسرائیلی فوجی زخمی یا ہلاک نہیں ہوا۔

اسرائیلی حکومت نے غزہ پٹی سے ملحق اس واحد سرحدی گزر گاہ کو ایک ایسے وقت میں بند کیا ہے، جب مصر اور اقوام متحدہ کی ثالثی میں حماس اور اسرائیل کے مابین ایک طویل المدت سیز فائر ڈیل کو حتمی شکل دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ امر اہم ہے کہ مصری حکومت نے بھی غزہ پٹی سے ملحق رفاہ نامی اپنی سرحدی گزر گاہ کی ناکہ بندی کر رکھی ہے۔

فلسطینی اتھارٹی نے بھی تصدیق کر دی ہے کہ اسرائیل نے غزہ پٹی کی سرحدی گزر گاہ بند کر دی ہے اور اب صرف ہنگامی صورتحال میں ہی کسی کو یہ سرحد عبور کرنے کی اجازت دی جائے گی۔ اسرائیل نے ایک دہائی سے بھی زائد عرصے سے غزہ پٹی کی ناکہ بندی کر رکھی ہے۔ سن دو ہزار آٹھ سے اب تک حماس اور اسرائیلی تین جنگیں بھی لڑ چکیں ہیں۔

ع ب /  ع ا / خبر رساں ادارے

DW.COM